آگرہ ،مسجد نہر والی، سکندرہ کے خطیب محمد اقبال نے آج کے خطبۂ جمعہ میں ایک نہایت بیدار کُن پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ “نیکیاں کمانے کے ساتھ ساتھ ان نیکیوں کو محفوظ رکھنے کی بھی فکر ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آخرت میں پہنچ کر معلوم ہو کہ ہرا بھرا باغ جل چکا ہے، اور اب کمایا ہوا سب کچھ ضائع ہو گیا ہے۔”
محمد اقبال نے سورۃ البقرہ (آیت 127) کی تلاوت کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا حوالہ دیا:
“اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے”
انہوں نے کہا کہ مومن کو صرف عمل پر نہیں بلکہ قبولیتِ عمل پر بھی نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ اسی احساس سے عمل میں خشوع پیدا ہوتا ہے۔
ابنِ ماجہ کی ایک روایت بیان کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ نبی کریم ﷺ جب نمازِ فجر کے بعد سلام پھیرتے تو یہ دعا فرمایا کرتے:
“اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں پاکیزہ رزق، نفع بخش علم، اور قبول ہونے والا عمل۔”
انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بھی بیان کی کہ بعض لوگ ساٹھ سال نماز پڑھتے ہیں مگر ایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی، کیوں کہ نہ رکوع و سجود درست ہوتا ہے، نہ قیام، اور نہ خشوع۔
محمد اقبال نے واضح کیا کہ عبادتوں کو صرف ظاہری رسم سمجھنے سے ان کا روحانی اثر ختم ہو جاتا ہے۔
“نماز کو ورزش، روزے کو ڈائٹنگ، اور حج کو سیاحت سمجھنا — یہ سب نیکیوں کو ضائع کر دینے والے رویے ہیں۔”
خطبے کے اختتام پر انہوں نے دعا کی:
“اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سوجھ بوجھ عطا فرمائے، اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں مقبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔”

