جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے 105 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر نیلسن منڈیلا سینٹر فار پیس اینڈ کانفلکٹ ریزولوشن کے زیر اہتمام ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا، جس کا موضوع تھا — “مہاتما گاندھی کا سوراج”۔
اس موقع پر دوردرشن کے ڈائریکٹر جنرل ستیش نمبودری پاد مہمانِ خصوصی کے طور پر موجود تھے، جبکہ پروگرام کی صدارت جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے کی۔ مقررین نے گاندھی کے نظریات، ان کے سوراج کے تصور اور آج کے دور میں اس کی معنویت پر روشنی ڈالی۔
🔹 ستیش نمبودری پاد:
“سوراج صرف سیاسی آزادی نہیں، بلکہ خود پر قابو، اخلاقی تطہیر اور اجتماعی بہبود کا مظہر ہے۔ گاندھی کا مشہور قول ہے: ‘دنیا میں ہر ایک کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے، مگر کسی کے لالچ کے لیے نہیں۔’”
🔹 پروفیسر مظہر آصف:
“میں گاندھی کو صرف سنتا یا پڑھتا نہیں بلکہ گاندھی میں جیتا ہوں، کیونکہ میں چمپارن کا ہوں، جہاں سے ستیاگرہ کی شروعات ہوئی تھی۔ گاندھی نے غربت اور سادگی میں زندگی گزاری اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لیے ہمیشہ حامی رہے۔”
🔹 دیگر مقررین:
رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، پروفیسر نیلوفر افضل اور پروفیسر سنجیو کمار شرما نے گاندھی کے نظریات، تعلیم، اخلاقیات اور معاشرتی اصلاح میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آج بھی سوراج انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن سے ہوا اور جامعہ کے طلبہ نے خوبصورت انداز میں جامعہ کا ترانہ پیش کیا۔ آخر میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ “سوراج صرف حکومت نہیں بلکہ خود پر حکومت، ضبطِ نفس اور اخلاقی زندگی کی جستجو ہے”۔


