250 سے زائد نمائش کنندگان کی شرکت، 25 ہزار سے زیادہ وزیٹرز کی آمد متوقع
نئی ٹیکنالوجی، جدت اور عالمی رجحانات کے ساتھ آگرہ بنے گا فٹ ویئر انڈسٹری کا گلوبل حب
آگرہ: فٹ ویئر صنعت کے تین روزہ بین الاقوامی تجارتی میلے “میٹ اٹ آگرہ 2025” کا انعقاد 7 سے 9 نومبر 2025 تک آگرہ ٹریڈ سینٹر، سیِنگنا گاؤں، این ایچ–2 پر کیا جا رہا ہے۔ یہ عظیم الشان تقریب آگرہ فٹ ویئر مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز چیمبر (AFMEC) کے زیرِ اہتمام منعقد ہوگی، جس میں بھارت سمیت مختلف ممالک کے 250 سے زیادہ نمائش کنندگان (Exhibitors) شریک ہوں گے۔
اس موقع پر ایفمیک کے صدر جناب گوپال گپتا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 19 برس قبل کیپٹن اے۔ ایس۔ رانا نے اس فئیر کی بنیاد اس مقصد کے ساتھ رکھی تھی کہ ہندوستان کی جوتا صنعت کی سپلائی چین کو مضبوط کیا جائے۔ ’’جو اُس وقت ایک خیال تھا، آج وہ ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے سابق صدر پورن ڈاور کے نمایاں کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’دو برس کورونا کی وجہ سے یہ میلہ منعقد نہ ہو سکا، مگر اس بار ہم پوری توانائی اور جوش و خروش کے ساتھ اس کا 17واں ایڈیشن منعقد کرنے جا رہے ہیں۔‘‘
گوپال گپتا نے کہا کہ یہ فئیر اب صرف صنعت کاروں کو جوڑنے کا نہیں بلکہ انہیں نئی سمت دینے کا پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ اس سال مختلف مالیاتی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاکہ صنعت کاروں کو سرمایہ کاری اور مالی مواقع کے بارے میں براہِ راست معلومات فراہم ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ”اگر سپلائی چین مضبوط ہوگی تو جوتا ساز اور برآمد کنندہ دونوں مضبوط ہوں گے۔ ہمارا مقصد ‘میک اِن انڈیا’ کے حقیقی وژن کو عملی جامہ پہنانا ہے۔‘‘
انہوں نے صنعت سے وابستہ تمام فیکٹری مالکان، خریداروں اور ریسرچ و ڈویلپمنٹ کے ماہرین سے اپیل کی کہ وہ اس فئیر میں بھرپور شرکت کریں اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔
اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ اتر پردیش حکومت کے معزز وزیر برائے این آر آئی و سرمایہ کاری فروغ، جناب نند گوپال گپتا ’نندی‘ 7 نومبر کو افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ہوں گے۔
فئیر کی نمایاں خصوصیات اور امکانات
گوپال گپتا کے مطابق اس سال تقریباً 8,000 تجارتی زائرین اور 25,000 سے زائد افراد کی آمد متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں آگرہ کا جوتا صنعت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ حکومت اور صنعت کاروں کی مشترکہ کوششوں سے موجودہ 26 ارب ڈالر کے بھارتی فٹ ویئر بازار کو 2030 تک 47 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔‘‘
فئیر کمیٹی کے چیئرمین جناب کلبیر سنگھ نے کہا کہ اب یہ فئیر عالمی فٹ ویئر کیلنڈر میں شامل ہو چکا ہے اور مختلف ممالک کے صنعت کار ہر سال اس کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔
ایفمیک کے نائب صدر راجیو واسن نے کہا کہ ’’جب تک فٹ ویئر کے پرزہ جات کی صنعت مضبوط نہیں ہوگی، معیاری جوتا بنانا ممکن نہیں۔‘‘ ان کے مطابق تکنیکی اجلاسوں میں ڈیزائن ٹرینڈز، مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی، اور مارکیٹنگ اسٹریٹجی جیسے موضوعات پر ماہرین تبادلہ خیال کریں گے۔
نائب صدر راجیش سہگل نے کہا کہ ’’ہندوستان اب چین کے متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ٹاٹا، ریلائنس، والمارٹ اور فیوچر گروپ جیسی بڑی کمپنیاں بھارتی مصنوعات پر انحصار کر رہی ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی کوالٹی کو عالمی معیار کے مطابق بنائیں۔‘‘
ایفمیک کے جنرل سکریٹری پردیپ واسن نے کہا کہ ’’دنیا کی جوتا پیداوار میں بھارت کا حصہ تقریباً 13 فیصد ہے، لیکن برآمد میں صرف 2.2 فیصد۔ پیداوار اور برآمد دونوں کو بڑھانے کی بے پناہ گنجائش ہے۔‘‘
ایفمیک کے سکریٹری انیروُدھ تیواری نے بتایا کہ ’’بھارت میں فی کس جوتے پر خرچ ابھی تقریباً 1,500 روپے سالانہ ہے جو عالمی اوسط سے بہت کم ہے۔‘‘ ان کے مطابق 3 ڈالر سے کم قیمت والے جوتوں پر کسٹم ڈیوٹی 35 فیصد کی جانی چاہیے اور مقامی صنعت کاروں کو ’منیمم سپورٹ پرائس‘ جیسی سہولت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ گھریلو صنعت کو فروغ ملے۔
اس موقع پر للِت اروڑہ، ایفکوما کے جنرل سکریٹری دیپک منچندہ، شُو فیکٹرز فیڈریشن کے صدر وجے ساما، وجے نژھاون، رینوکا ڈنگ، نکُل منچندہ، ارپِت گروور اور دلیپ رینا سمیت کئی صنعت کار شخصیات موجود تھیں۔

