آگرہ:ہندوستان اور پورے برصغیر میں بی بی سی کے سابق سربراہ اور عالمی شہرت یافتہ صحافی مارک ٹلی کا آج انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال سے نہ صرف بی بی سی بلکہ ہندوستان، پاکستان اور پورے جنوبی ایشیا کی صحافت ایک قدآور اور معتبر آواز سے محروم ہو گئی ہے۔
مارک ٹلی نے طویل عرصے تک بی بی سی لندن کے لیے خدمات انجام دیں اور ہندوستان و برصغیر کے حالات کو دنیا کے سامنے نہایت دیانت داری، توازن اور بصیرت کے ساتھ پیش کیا۔ وہ اپنے عہد کے ممتاز نامہ نگار تھے اور ان کی صحافتی ساکھ اس قدر مضبوط تھی کہ حکومتیں بھی ان کا احترام کرتی تھیں۔
بی بی سی کی اردو، ہندی اور دیگر زبانوں میں ان کی رپورٹنگ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل رہی۔ برطانوی شہری ہونے کے باوجود انہوں نے ہندوستان کو اپنا وطن بنایا اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ یہیں مقیم رہے۔ بعد ازاں وہ فری لانس جرنلسٹ کے طور پر بھی سرگرم رہے۔
جنگی رپورٹنگ اور عوامی اعتماد
ہندوستان–پاکستان جنگ کے دوران مارک ٹلی کی رپورٹنگ کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ اس زمانے میں لوگ رات کے وقت ریڈیو پر ان کی خبروں کے منتظر رہا کرتے تھے۔ جنگ کے دوران جب ہندوستان سے ان کی رپورٹنگ پر پابندی عائد ہوئی تو وہ امرتسر میں مقیم ہو گئے، وہاں سے ہندوستانی حالات رپورٹ کرتے اور روزانہ لاہور جا کر اپنی رپورٹ بی بی سی کو فراہم کرتے تھے۔
برطانوی شہریت کے باعث وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جا سکتے تھے، مگر انہوں نے ہمیشہ برصغیر کو ترجیح دی۔
شخصیت اور زبان پر عبور
مارک ٹلی ایک خوش مزاج، شفیق اور سادہ مزاج انسان تھے۔ اردو اور ہندی زبان پر ان کی گرفت غیر معمولی تھی، اور وہ ان زبانوں میں نہایت روانی اور شائستگی سے گفتگو کرتے تھے۔
محمد اقبال نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“لینڈ لائن فون کے زمانے میں میری ان سے بات چیت رہی ہے۔ وہ ایک شاندار صحافی اور اعلیٰ انسان تھے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ میں انہیں ‘حق’ کی دعوت نہ دے سکا۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔”
محمد اقبال نے مرحوم کی فیملی سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
آخری رسومات
خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم صحافی مارک ٹلی کی آخری رسومات پیر کے روز شام 4 بجے نئی دہلی کے لودھی روڈ واقع الیکٹرک شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔ ان کی جسدِ خاکی کو فی الحال میکس ساکیت اسپتال، نئی دہلی میں رکھا گیا ہے۔
مارک ٹلی کا انتقال غیر جانبدار، بااصول اور انسان دوست صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ برصغیر کی صحافت میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

