ایس منیر
حضرت نیاز بے نیاز شاہ نیاز احمدکی ۱۹۷؍ویں مبارک عرس کی مناسبت سے النیاز ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام سید کالونی سر سید نگر، علی گڑھ میں واقع کانقاہے نیازیہ میں فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر بعدنمازعصر فاتحہ خوانی، بعدنمازمغرب نعت و منقبت پیش کی گئی، جس میں حضرت شاہ نیاز احمد ؒکا مخصوص کلام پیش کیا گیا، عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا، جو ہو سو ہو، عیش و نشاط زندگی چھوڑ دیا، جو ہو سو ہو۔
اس موقع پرپیر طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے حضرت شاہ نیاز احمدؒکی حیات مقدسہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قادریہ چشتیہ سلسلہ کے حسین اور کامیاب امتزاج کانام حضرت شاہ نیاز احمدؒ ہے ، ہی وجہ ہے کہ شاہ نیاز بے نیازؒ جا نشین غوث و خواجہ تسلیم کیے جاتے ہیں، آپکو چشتیہ سلسلہ کے حضرت فخرالدین دہلویؒبعیت و خلافت اور جا نشینی عطا ہوئی ،وہیں سلسلہ قادریہ میں اولاد غوث آعظمؓ حضرت
شاہ عبداللہ بغدادی قادری سے خلافت وجانشینی عطا ہوئی ۔نہ صرف آپکی ولایت ،جا نشینی ، دینی فضیلت اور علمیت کو سبھی سلاسل اور خانقاہوں نے تسلیم کیا بلکہ آپکےقطب عالم ہونے کو بھی بہ سرو چشم تسلیم کیا ، آپ کی روحانیت آج بھی ہزاروں مردہ دلوں کو زندگی بخش رہی ہے اور آپکی خانقاہ سے سے بھی روحانی فیض کا سلسلہ جاری ہے۔ آپکے والد ماجد، حکیم الہی شاہ ؒ کے لیے دین اس قدر عزیز تھا کہ تخت و تاج بھی انکے پاؤں کی زنجیر نہ بن سکا۔ انہوں نے اندی جان بخارہ سے تخت و تاج ٹھکرا کرتبلیغ دین کی خاطر ہندوستان تشریف لائے اور سر ہند میں قیام کیا، جہاں حضرت شاہ نیاز احمدؒ ۱۷۵۰ء میں پیدا ہوئے ۔ آپکے والد نے شاہ نیاز کو علم دین کے حصول کے لیے دہلی میں چشتیہ سلسلے کے مشہور عالم دین، حضرت مولانا فخر الدین دہلوی کے سپرد کیا۔ انکے مدرسے میں آپ نے قرآن، حدیث، فقہ، منطق وغیرہ کی تعلیم حاصل کی اور دستارفضیلت سے سرفراز ہوئے۔ اس درمیان آپکی لیاقت قابلیت ذہانت کی شہرت تمام دہلی میں پھیل گئی ،بڑے بڑے علماءدین و فقہا آپ سے فیض یاب ہونے کے لیے آپکی خدمت عالیٰ میں حاضر ہونے لگے۔
پیر طریقت ڈاکٹر عباس نیازی نے مزید کہا کہ حضرت شاہ نیازؒ نے تقریباً ۲۶ ؍ رسائل تصنیف فرمائے، جو آج بھی اہل تصوف کے لیے بیش بہا سرمایہ اور گوہرنایاب ہیں۔ آپکا ایک دیوان بھی شائع ہوا، جس میں عربی، فارسی، اردو اور ہندی کا صوفیانہ کلام دنیا بھر میں نہ صرف پڑھا جاتا ہے بلکہ پسند بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشہور کلاسیکی گلوکارہ عابدہ پروین نے آپکے متعدد کلام پڑھے ہیں، جو دنیا بھر میں پسند کیا گیا ،—جن میں ایک مشہور کلام۔مجھے بے خودی یہ تو نے بھلی چاشنی چکھائی ،کسی آرزو کی دل میں نہیں اب رہی سمائی، نہ مقامِ گفتگو ہے نہ محل جستجو ہے ،نہ وہاں ہو اس پہنچے نہ خرد کو ہے رسائی ۔ڈاکٹر نیازی نے بتایا کہ حضرت شاہ نیاز کی قابلیت، اہلیت، روحانیت و طریقت دیکھ کر حضرت مولانا فخر الدین دہلوی نے آپکو اپنا خلیفہ اور جانشین مقرر فرمایااور بریلی جانے کا حکم دیا ۔ بریلی پہنچ کر حضرت شاہ نیاز احمد نے مدرسہ کے قیام کے ساتھ ہی، ایک خانقاہ کی بھی بنیاد ڈالی ۔مدرسہ کے ساتھ ہی خانقاہ کے قیام کا ایک خاص مقصد تھا کہ لوگوں کے ظاہر کے علاوہ باطن کو بھی منور کیا جائے،جہاںمدارس کسی انسان کے ظاہرکو درست کر سکتے ہیں، وہیں خانقاہ کسی بھی انسان کے باطن کونہ صرف درست کر سکتی ہے بلکہ ا س قدر روشن کر سکتی ہے کہ وہ دوسروں کو بھی روشن کر دئے ۔ دنیا بھر میں مشہور و معروف خانقاہ نیازیہ میں آج بھی کثیر تعداد میں بلا تفریق مذہب و ملت لوگ عقیدت واحترام سے نہ صرف حاضری دیتے ہیں بلکہ فیض یاب بھی ہوتے ہیں، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ مدرسے کے ساتھ خانقاہ کا قیام جس مقصدکے تحت کیا گیا تھا وہ حاصل ہو رہا ہے۔ آپکا وصال۶؍ جمادی الثانی۱۸۴۵؍میں بریلی میں ہوا۔ حضرت شاہ نیاز احمد قادریہ اور چشتیہ سلسلے کی حتمی جانشین تسلیم کیے گئے ہیں؛ آپکے سلسلے سے بعیت ہونے والے اپنے نام کے ساتھ نیازی لکھتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ شاہ نیاز احمدؒکا ۱۹۵؍واں عرس مبارک بریلی میں نہایت شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوگا۔ آپکاقل شریف۶؍ جمادی الثانی۱۴۴۷ ہجری یعنی ۲۸؍ نومبر ۲۰۲۵کو موجودہ جانشین، شاہ مہدی میاں چشتی قادری نیازی کی قیادت اور سرپرستی میں منعقد ہوگا۔
اس موقع منعقد محفل سماع میں درگاہ حضرت نظام الدین کے معروف قوال غلام حسنین نے صوفیانہ کلام سنایا۔ پروگرام کے اختتام پر فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا، ملک میں امن و امان کے لیے دعا کی گئی۔ اس موقع پر علی زمن نیازی، علی فخری نیازی، علی حسنین نیازی، سرور عظیم نیازی، حیدر علی نیازی، کریم نیازی، روحان نیازی، حافظ فرقان نیازی، عاطف نیازی، صفدر نیازی، جعفر نیازی وغیرہ کے علاوہ بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔

