آگرہ: خانقاہ قادریہ نیازیہ آستانہ حضرت میکش میوہ کٹرہ آگرہ میں عظیم صوفی بزرگ حضرت سید منور علی شاہ قادری کا ۲۰۶ واں عرس مبارک نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس روحانی اجتماع کی سرپرستی خانقاہ کے سجادہ نشین حضرت سید اجمل علی شاہ قادری چشتی نیازی فرما رہے ہیں۔
حضرت سید منور علی شاہ جعفری قادریؒ، معروف بزرگ حضرت سید امجد علی شاہ قادری کے بڑے صاحبزادے، مرید اور جانشین تھے۔ آپ کی ولادت ۱۱۹۵ھ مطابق ۱۷۸۱ء میں آگرہ میں ہوئی۔ کم عمری ہی سے آپ کو روحانی فیوض و برکات حاصل تھے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ فرزندِ غوثِ اعظم حضرت شاہ عبد اللہ بغدادی نے آپ کی زبان پر اپنا لعاب دہن لگا کر فرمایا: “لسانک لسانی” یعنی تمہاری زبان میری زبان ہے۔ اس دعا کی برکت سے آپ کی زبان سے نکلی ہوئی بات قبولیت پاتی اور آپ کی متعدد کرامات مشہور ہوئیں۔
آپ کے زمانے میں مرہٹوں کی حکومت تھی اور اس دور کے کئی امراء و حکمران آپ کے معتقدین میں شامل تھے۔ گوالیار کے حکمران دولت راؤ سندھیا بھی آپ کے عقیدت مندوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کے آستانے پر ہر سال حضرت غوثِ اعظم کی یاد میں گیارہویں شریف اور دیگر روحانی محافل بڑے اہتمام سے منعقد ہوتی تھیں۔
حضرت سید منور علی شاہ قادریؒ نے اپنی زندگی عبادت، خدمتِ خلق اور روحانی اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف رکھی۔ آپ کے چار صاحبزادے تھے جن میں حضرت سید امیر علی شاہؒ اور حضرت سید مظفر علی شاہؒ نے طویل عمر پائی اور خانقاہی روایات کو جاری رکھا۔ بعد ازاں حضرت سید مظفر علی شاہ قادری نظامیؒ آپ کے روحانی جانشین بنے اور آپ ہی سے آپ کی نسل آگے چلی۔
تاریخی روایات کے مطابق آپ کا وصال ۱۲۳۵ھ مطابق ۱۸۱۹ء میں ہوا اور آپ اپنے والد بزرگوار کے پہلو میں مدفون ہیں۔
عرس کے موقع پر خانقاہ میں قرآن خوانی، فاتحہ، ذکر و دعا اور نعت و منقبت کی روحانی محافل منعقد کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر عقیدت مندوں کی بڑی تعداد شریک ہو کر بزرگ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے اور امن و محبت کے پیغام کو عام کرنے کی دعا کی جا رہی ہے۔

