آگرہ/لکھنؤ: عالمی شہرت یافتہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ، فتح پور سیکری کے سجادہ نشین پیرزادہ رئیس میاں چشتی کا بدھ، 8 جولائی 2026 کی شب انتقال ہو گیا۔ وہ 88 برس کے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سے صوفی حلقوں، عقیدت مندوں اور پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
مرحوم کے صاحبزادے ارشد فریدی کے مطابق، پیرزادہ رئیس میاں چشتی نے رات تقریباً 11:30 بجے لکھنؤ کے ایرا میڈیکل کالج میں آخری سانس لی۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔
ان کی نمازِ جنازہ جمعرات، 9 جولائی 2026 کو نمازِ عصر کے بعد شام تقریباً 5:15 بجے فتح پور سیکری میں حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ کے احاطے میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں وہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ آخری دیدار اور نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے ملک و بیرونِ ملک سے زائرین، علماء، صوفی مشائخ، سماجی اور مذہبی شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
پیرزادہ رئیس میاں چشتی حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی 16ویں نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے صرف سات برس کی عمر میں سجادہ نشینی کی ذمہ داری سنبھالی اور تقریباً 81 برس تک اس منصب پر رہتے ہوئے تصوف، محبت، امن، بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام عام کیا۔
اپنی طویل خدمات کے دوران انہوں نے ہندو مسلم اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، گنگا جمنی تہذیب اور حب الوطنی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ بین المذاہب ہم آہنگی کے مضبوط داعی تھے اور اپنی سادگی، روحانی رہنمائی اور خوش اخلاقی کی وجہ سے ملک و بیرونِ ملک میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
ان کے دورِ سجادہ نشینی میں تقریباً 20 ممالک کے سربراہانِ مملکت سمیت متعدد عالمی شخصیات نے درگاہ پر حاضری دی۔ ان میں مصر کے صدر کرنل ناصر، بھوٹان کے بادشاہ، پرنس آف ویلز، فرانس کے سابق صدر نکولا سرکوزی، زیمبیا کے وزیرِ اعظم اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ اسی طرح بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، اٹل بہاری واجپائی اور وی پی سنگھ سمیت کئی قومی رہنماؤں نے بھی درگاہ پر حاضری دی اور ان سے دعائیں حاصل کیں۔
پیرزادہ رئیس میاں چشتی درگاہ پر آنے والے لاکھوں زائرین کی خدمت اور انتظامات کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے۔ انہوں نے پوری زندگی محبت، رواداری، انسان دوستی اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔
ان کا انتقال صوفی روایت اور بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ ان کی تعلیمات، روحانی خدمات اور انسانیت کا پیغام آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

