علی گڑھ شوذب منیر
علی گڑھ ضلع کے سر سیدنگر سید کالونی میں واقع خانقاہ نیازیہ میں امام حسینؑ کی ولادت کے موقع پر منعقدہ میلاد کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئےپیر طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے کہا کہ ذکرامام حسینؑ ہی ہماری پہچان ہے، ورنہ کفر و نفاق کے بڑھتے طوفان ہماری ہستی کو کب کا ختم کر چکے ہوتے ۔ امام حسینؑ کے انقلابی فلسفے کو سمجھنا اور اس کا ادراک حاصل کرنا ہی عملی زندگی میں انکی پیروی ممکن بناتا ہے۔
پیر طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے کہا کہ جب بھی نامِ حسین کا نام زبان پر آتا ہے تو اس عظیم شخصیت سے متعلق حقائق ذہنوں میں گردش کرنے لگتے ہیں، جو ہمیں امام حسینؑ کی شان و عظمت سے روشناس کراتے ہیں،نواسۂ رسول، آقا کریم کے پھول، جنتی نوجوانوں کے سردار، جگر گوشۂ زہرہ بتول، بہادر باپ کے بہادر بیٹے، ہر معاملے میں رب کی رضا چاہنے والے، دین اسلام کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے والے، حق کا بول بالا کرنے والے، باطل کے سامنے نہ جھکنے والی بے مثال شخصیت ، اللہ کے خاص بندے، جو اپنے رات دن رب کی اطاعت و عبادت میں گزار نے والےہیں ۔ امام حسینؑ کا کردارچاہے میدان جنگ ہو یا میدان امن و عمل، ناقصوں کو مکمل ہونے کی ترغیب دیتا ہے اور کامل لوگوں کی بھی رہنمائی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حضرت امام حسینؑ ان نفوس قدسیہ میں شامل ہیں جنہیں توحید الٰہی کی حقانیت کے اثبات کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ آپ ان ذوات مقدسہ میں سے ہیں جن کےساتھ امت کو محبت و مودت کرنے کا حکم اللہ نے اپنے محبوب کی زبانی فرمایا ہے۔ آپ کی شخصیت ان پانچ مبارک افراد میں سے ایک ہے جن سے محبت کرنا وجوب کا درجہ رکھتی ہے۔ امام حسینؑ امامت کی منزل پر تیسرے مقام پر فائزتھے اور آپ کی ولادت باسعادت ہجرت کے چوتھے سال، تین شعبان المعظم کو ہوئی۔ آپ نے نبی کریمؐ کی پرشفقت گود میں پرورش پائی ہے۔
پیر طریقت نے کہا کہ آج ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اللہ نے ہمیں سرور کائناتؐ کی امت اور اہل بیتؑ سے وابستہ قرار دیا۔ یہ اعزاز ہماری کوششوں کے نتیجے میں نہیں بلکہ خالق کائنات کے مخصوص رحم و کرم کے سبب ہمیں عطا ہوا ہے۔ جب کوئی اعزاز کسی کی صلاحیت یا کوشش کے بغیر دیا جائے تو اس پر اسکا حق بنتا ہے کہ وہ اس کی قدر و قیمت جاننے کی کوشش کرے اور اپنی سیرت و کردار کو اسکے مطابق ڈھالے، تاکہ اس عظیم مقام کے معیار پر کھرا اترنے کی کوشش کر سکے۔
اس موقع پر علی زمن نیازی، علی فخری نیازی، علی حسنین نیازی، سرور عظیم نیازی، حیدر علی نیازی، کریم نیازی، روحان نیازی، حافظ فرقان نیازی، عاطف نیازی، صفدر نیازی، جعفر نیازی سمیت بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔

