تحریر :ڈاکٹر سچدانند جوشی
تسلیمات ، ماں تسلیمات
تو بھری ہے میٹھے پانی سے
پھل پھولوں کی شادابی سے
دکھن کی ٹھنڈی ہواؤں سے
فصلوں کی سہانی فضاؤں سے
تسلیمات ، ماں تسلیمات
تیری راتیں روشن چاند سے
تیری رونق سبز فام سے
تیری پیار بھری مسکان ہے
تیری میٹھی بہت زبان ہے
تیری باہوں میں میری راحت ہے
تیرے قدموں میں میری جنت ہے
تسلیمات ، ماں تسلیمات
‘‘وندے ماترم’’ کے انگریزی ترجمہ کے ‘‘کرم یوگن’’ میں 20 نومبر 1909 کو شائع ہونے سے تقریباً بیس سال پہلے ہی ‘وندے ماترم ’ گیت ہندوستانی اتحاد کی روح میں رچ بس چکا تھا۔ جلسوں میں گایا جاتا تھااور گھروں میں خاموشی سے پڑھا جاتاتھا ۔ یہ گیت کروڑوں دلوں کو صوبوں اور مذہبی تفریق سے اوپر اٹھنے کا حوصلہ دیتاتھا ۔ بنکم چندر چٹرجی کے الفاظ نے ایک قوم کو مشترکہ خواب دکھائے اور آروبندو کے انگریزی ترجمے نے نئی نسلوں اور دنیا تک ہندوستان کی آزادی کی پکار پہنچائی۔ ‘کرم یوگن’ میں اس نظم کی اشاعت محض ایک ترجمہ نہ تھی بلکہ اس نے ایک تحریک کی روح کو مجسم کر دیا، ایک ایسے نظریے کو آواز اور سمت دی جو دو دہائیوں سے ہر تفریق سے بالاتر ہو کر ہندوستان کو ایک کر رہا تھا۔
لوگوں نے پہلی بار 1896 میں ‘وندے ماترم’ کو ایک ترانے کی طرح ابھرتے ہوئے سنا، جب رابندرناتھ ٹیگور نے کلکتہ میں کانگریس کے اجلاس میں اسے اپنی آواز بخشی۔ اس شام محفل پر سحر طاری ہو گیا ۔ یہ نغمہ بغاوت کا نہیں، عقیدت اور روحانی جذبے کا تھا۔دس برس بعد، 1905 میں، جب بنگال تقسیم کے درد سے تڑپ اٹھا، ٹیگور کے بھتیجے ابنندرناتھ ٹیگور نے‘‘بھارت ماتا’’ کی تصویر بنائی جو زعفرانی لباس میں ملبوس ایک عورت تھی جس کے ہاتھوں میں اناج کی بالیاں، ایک کتاب اور مالاتھی اور جو بنکم کے اشعار کی مجسم تصویرتھی۔یہ گیت کسی شاعر کا محض تخیل نہ تھا؛ یہ ایک زخمی روح کی پکار تھی ۔اس روح کی جو برسوں سے وطن کی حفاظت کے لیے بے چین اور زندہ رہنے کی شدید خواہش سے لبریز تھی۔ جب برطانوی حکام لوگوں کو ’’لانگ لیو دی کوئین‘‘ گانے پر مجبور کر رہے تھے، اُس وقت بنکم چندر چٹر جی نے صرف ایک رات میں یہ ترانہ لکھ ڈالا۔یہ اشعار دہائیوں بلکہ صدیوں کی اذیت اور صبر کا نچوڑ تھے؛ ایک ولولہ انگیز صدا تھی جو ایک نیم مردہ قوم کو جگانے کے لیے بلند ہوئی، وہ قوم جو طویل تکلیف کے سبب نیم بے ہوشی کی کیفیت میں تھی۔
کانگریس کے اجلاس سے لے کر لاہور کے تختۂ دار تک،‘‘وندے ماترم’’ بغاوت کی سانس بن گیا۔ بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، بٹو کیشور دت اور بے شمار جانبازوں نے موت کے لمحات میں اس نعرے کو بلند کیا۔ سبھاش چندر بوس نے اسے آزاد ہند فوج کا جنگی ترانہ بنایا۔ یہ کبھی جلسوں میں گونجا، کبھی جیلوں کی کوٹھڑیوں میں سرگوشیوں کی طرح بولا گیا۔ اس نے راہب اور سپاہی، دانش وَر اور کسان کو یکجا کیا۔ ہندو، مسلم ہر مذہب اور عقیدے کے لوگ اس نغمے میں شامل ہوئے جو دعا بھی تھی اور احتجاج بھی۔
‘‘وندے ماترم’’ کا پہلا ترجمہ سری آربندو نے نہیں کیا تھا۔ بہت سے ہندوستانی اور انگریزی اہلِ علم نے اس نظم کو انگریزی میں منتقل کیا۔ یہ گیت اردو سمیت متعدد ہندوستانی زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا۔ ہندوستانی سول سروس میں ایک برطانوی افسر ڈبلیو ایچ لی نے 1906میں اس کا انگریزی ترجمہ کیا۔ جب ‘‘وندے ماترم’’ بولنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا، تب یہ گیت گمنام طور پر ترجمہ کیا جاتا رہا۔ تاہم آربندو گھوش کا انگریزی ترجمہ اصل بنگالی نظم کے ساتھ منظرعام پر آیا۔ کوئی دوسرا ترانہ نسلوں اور سرحدوں کو یوں عبور نہیں کر سکا، ہندوستانی زندگی کے ہر رنگ، ہر طبقے اور ہر گوشے تک یوں نہیں پہنچ سکا۔یہ اب بھی اس حیثیت سے دلوں میں بسا ہواہے کہ ہندوستانی ہونے کا مطلب کیا ہے ۔ غلامی اور غم کے دور میں ہو یا اصلاح اور انقلاب کے زمانے میں‘وندے ماترم’ ہمیشہ زندہ رہا۔ غصے کے نعرے کے طور پر نہیں بلکہ محبت کے سلام کے طور پر۔
اس کی بقا اور اثر کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے آغاز کی طرف لوٹنا ہوگا ۔ بنگال کے ایک سادہ سے گھر کی طرف، اُس روشن دن کی طرف جس نے ہندوستان کی تقدیر بدل دی۔ بنکم چندر چٹر جی (1838–1894)، کلکتہ یونیورسٹی کے ابتدائی فارغ التحصیل افراد میں سے تھے۔ وہ سرکاری ملازمت میں ڈپٹی مجسٹریٹ اور ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے منصب نے انہیں برطانوی آرکائیوز اور گزٹ تک رسائی دی ۔ وہ ریکارڈ جن میں ایک بھولی بسری داستان یعنی سنیاسی بغاوت (1763–1780) کی تفصیلات پوشیدہ تھیں جب ترکِ دنیا اختیار کرنے والے سنیاسی ڈھاکہ اور شمالی بنگال میں سامراجی جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہی ترکِ دنیا سے مزاحمت کی طرف سفر کی کہانی بعد میں بنکم بابو کے ناول ‘‘آنند مٹھ ’’کی بنیاد بنی۔ مگر اس ناول سے پہلے ایک گیت وجود میں آیا۔1870 کی دہائی تک برطانوی حکومت نے وفاداری کے رسمی تقاضے سخت کرنے شروع کر دیے تھے ۔ سرکاری اجتماعات اور اسکولوں میں ہندوستانیوں سے ’’گاڈ سیو دی کوئین‘‘ کے لیے کھڑا ہونا لازم قرار دیا گیا۔ بنکم کے لیے یہ صرف سیاسی جبر نہ تھا بلکہ یہ روحانی غلامی تھی۔ ایک عظیم تہذیب کو اس بات کا عادی بنایا جا رہا تھا کہ وہ ایک غیر ملکی تاج کے سامنے سر جھکائے۔
اسی خاموش بغاوت کے لمحے میں، اتوار 7 نومبر 1875 — اکشے نومی کے دن — کلکتہ کے قریب اپنے گھر میں بنکم چندر چٹر جی نے قلم اٹھایا۔ اپنے ہم عصروں کے بقول وہ ایک ‘ماورائی کیفیت ’ میں تھے۔ اسی وجدانی لمحے میں انہوں نے ‘‘وندے ماترم’’ ایک نشست میں لکھ ڈالا ۔ گویا یہ گیت ان پر نازل ہوا، نہ کہ انہوں نے اسے تخلیق کیا۔ جب دنیا ‘‘ملکہ زندہ باد‘‘ گاتی تھی’’ انہوں نے مادرِ وطن کا ترانہ گایا۔ انہوں نے سلطنت کے حکم کا جواب روح کی اطاعت سے دیا ۔ تاج کے سامنے نہیں، اپنے ضمیر کے سامنے سر جھکا کر۔ جب دوسرے ملکہ کے حضور جھکتے تھے، بنکم چندر چٹر جی نے وطن کی مٹی چوما۔ یہی ان کی بغاوت تھی۔ یہ تلوار اٹھانے کی نہیں، ایک ترانہ جنم دینے کی بغاوت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ تلوار کا زمانہ گزرجاتا ہے، مگر الفاظ امر رہتے ہیں۔
‘‘وندے ماترم’’ غصے کی گھڑی کے لیے نہیں، بیداری کے ایک عہد کے لیے تخلیق ہوا تھا۔ یہ کسی حکمران کے نام نہیں، وطن کے نام تھا ۔ دریاؤں، کھیتوں، باغوں اور ہواؤں کے نام۔ یہ ایک مناجات تھی جس نے ہندوستان کی روحانی خودمختاری کو اس وقت واپس پایا جب سیاسی آزادی ابھی دور تھی۔
جب ‘آنند مٹھ’ قارئین تک پہنچا تو یہ گیت ناول کے صفحات سے نکل کر قوم کے لہو میں دوڑنے لگا۔ 1896 میں کلکتہ کانگریس کے اجلاس میں ٹیگور کی آواز نے اسے پر عطا کیے۔ صرف چند برسوں میں، 1905 کی سوّدیشی تحریک کے دوران بنگال کی گلیاں اس سے گونج اٹھیں۔ اُس وقت ‘وندے ماترم’ اعلانِ بغاوت تھا۔ برطانوی حکومت نے اسے ممنوع قرار دیا؛ طلبہ نکالے گئے؛ مظاہرین گرفتار ہوئےمگر پابندیاں عقیدت کو مزید گہرا کرتی گئیں۔ کلکتہ میں بچے بارش میں ننگے پاؤں کھڑے ہوکر یہ ترانہ پڑھتے تھے۔ ڈھاکہ میں عورتیں اپنی ساڑیوں پر اس کے الفاظ کاڑھتی تھیں۔
اوروِندو گھوش نے اسے ‘ہندوستان کی ازسرِنو بیداری کا منتر’ ،قرار دیا سسٹر نِویدِتا نے لکھا کہ اسے ‘‘ سننا یوں تھا جیسے خود ہندوستان کی سانسوں کی آواز سنائی دے رہی ہو’’۔ اس ترانے کی طاقت اس کی ہمہ گیری میں تھی ۔اسے محسوس کرنے کے لیے سنسکرت جاننا ضروری نہ تھا۔ 1920 اور 30 کی دہائیوں تک ‘‘وندے ماترم’’ ہمت کا ہم معنیٰ بن چکا تھا۔ جیل کی کوٹھڑیوں میں بھگت سنگھ جیسے انقلابی اسے دیواروں پر کندہ کرتے تھے۔ انڈمان کی سیلولر جیل میں یہ آہنی راہداریوں میں ایسے گونجتا تھا جیسے درد کی کوئی دعا۔ سُبھاش چندر بوس نے اسے آئی این اے کا جنگی نعرہ بنایا۔ ان کے سپاہیوں کے لیے یہ نعرہ محض ایک دُھن نہ تھا، بلکہ حکم تھا۔ مہاتما گاندھی نے اگرچہ مخلوط اجتماعات میں احتیاط کا مشورہ دیا، مگر انہوں نے بھی اعتراف کیا کہ ‘‘وندے ماترم’’ مقدس ہوچکا ہے ۔‘‘ایک ایسا گیت جو قربانی سے پاکیزہ ہوا’’۔
‘‘وندے ماترم’’ کی اصل قوت اس کی تصویریت میں ہے ۔ یہ سرحدوں کا نہیں، سانسوں کا وطن ہے۔ اس میں مادرِ وطن میدانِ جنگ نہیں، ایک پُرنور، زرخیز اور پرورش کرنے والی ہستی ہے۔ جب اَبنندر ناتھ ٹیگور نے 1905 میں ‘‘بھارت ماتا’’ کی تصویر بنائی، تو اس ہستی کو چہرہ ملا — پُرسکون، روحانی، خود کفیل۔ یہ تصویر، اسی گیت کی طرح، جمالیات بھی تھی اور جدوجہد بھی ، تقدس بھی اور مزاحمت بھی۔
بنکم چندر چٹر جی کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے حب الوطنی کو عبادت کا درجہ دیا۔ ہندوستان سے محبت کا مطلب اس کی تعظیم تھا ۔ اس سرزمین کو ماں سمجھ کر اس کی پرستش کرنا، نہ کہ اسے صرف ایک خطۂ زمین سمجھ کر اس پر رہنا۔
آزادی کا ترانہ
جب ہندوستان آزادی کے قریب پہنچا تو ‘‘وندے ماترم’’ ہندوستانی تصورِ قومیت سے یوں جڑ چکا تھا کہ اسے جدا کرنا ممکن نہ تھا۔ لیکن دستور ساز اسمبلی میں یہ بحث اُٹھی کہ نئی جمہوریہ کا نمائندہ گیت کون سا ہوگا؟ 1947 میں ‘‘جن گن من’’ کو اس کی لسانی جامعیت کے باعث قومی ترانہ قرار دیا گیا۔ مگر ‘‘وندے ماترم’’ کو بھی قومی گیت کا درجہ دے کر برابر کا احترام دیا گیا۔ نہرو نے اسے ‘‘ہماری بیداری کا گیت’’ کہا۔ اس کے صرف پہلے دو بند جو قدرت کی تعریف کرتے ہیں نہ کہ کسی دیوتا کی سرکاری طور پر اختیار کیے گئے۔
ایک روح، ایک ہندوستان
یہ محض اتفاق نہیں کہ جب قوم ‘‘وندے ماترم’’ کے 150 سال منا رہی ہے، وہ اسی سال ہندوستان کے عظیم متحد کنندہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 150 ویں یومِ پیدائش بھی منا رہی ہے۔ ‘‘وندے ماترم’’ نے لفظوں میں ہندوستان کی وحدت کا نقشہ کھینچا اور سردار پٹیل نے آزادی کے بعد اسے حقیقت میں بدل دیا۔ 1947 میں ہمیں آزادی تو مل گئی، مگر سب سے بڑی ذمہ داری ریاستوں کے انضمام اور پورے ملک کو ایک وحدت میں ڈھالنے کی ، باقی تھی۔ اگر وہ ریاستیں یکجا نہ ہوتیں تو آزادی بے معنی رہ جاتی۔ ہندوستان کے مرد آہن سردار پٹیل نے یہ عظیم فریضہ اکیلے سرانجام دیا اور ملک کو متحد کر دیا۔ ہم اپنی مادرِ وطن کو ‘‘سجلم سفلم ’’ یعنی سرسبز و شاداب کیسے دیکھ سکتے تھے اگر وہ مختلف حصوں میں بٹی رہتی اور الگ الگ راجاؤں کے زیرِ تسلط ہوتی؟ یہ سردار پٹیل کی جرات مندانہ کوشش اور گہری وابستگی تھی جس نے اس دھرتی کو حقیقتاً ‘‘سکھدَم، ورَدھَم’’ یعنی خوشحال اور فیاض بنایا۔
اظہار کے مختلف طریقے
یوں ’’وندے ماترم‘‘ ہمیشہ ہندوستان کی ابدی پکار بنا رہا ۔ پالیسی کی نہیں بلکہ فخر کی آواز۔آزادی کے بعد اس ترانے نے نئے روپ دھارے۔ 1952 میں ہیمن گپتا کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم ‘آنندمٹھ ’نے اسے سلور اسکرین تک پہنچایا۔ لتا منگیشکر کی شفاف اور دل موہ لینے والی آواز اور ہیمنت کمار کی پُرجوش موسیقی نے ‘‘وندے ماترم’’ کو فلمی دنیا کا لازوال ترانہ بنا دیا۔
پچاس برس بعد، 1997 میں اے۔آر۔رحمان کے ‘‘ماں تجھے سلام’’ نے اس جذبے کو نئی نسل کے دلوں میں پھر سے روشن کیا۔ ہندوستانی راگوں اور عالمی موسیقی کے امتزاج نے بیرونِ ملک رہنے والے ہندوستانیوں کو یاد دلایا کہ ماں اب بھی ان کی صدا کی منتظر ہے۔ رحمان کی آواز نے صدیوں کو جوڑ دیا ۔بنکم کی قلم سے رحمان کے ساز تک احساس وہی رہا کہ ہر دور ماں کو نئے ترنم میں پکارتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں ‘‘وندے ماترم’’ نے ایک نئی معنوی زندگی پائی ہے۔ وزیر اعظم اسے قومی تقریبات میں بار بار دہراتے ہیں ۔ اسے ماضی کی یاد نہیں بلکہ قوم کی تہذیبی داستان سمجھتے ہیں۔ ‘‘آزادی کا امرت مہوتسو’’ جیسے پروگراموں، اسکول مقابلوں اور ثقافتی مہمات کے ذریعے حکومت نے نوجوان نسل میں اس گیت کو دوبارہ زندہ کیا۔ اب سرکاری تقریبات میں ڈیجیٹل کوائر، ڈرون لائٹ شو اور آرکسٹرا کی دھنیں اس کے ساتھ گونجتی ہیں۔
چندریان-3 کے چاند پر اترنے کے لمحے سوشل میڈیا پر یہ صدا ابھری: ‘‘چاند کی مٹی سے وندے ماترم’’۔ وہ ترانہ جو کبھی سلطنت سے ٹکرا گیا تھا، اب کائنات کو سلام کر رہا تھا۔
وقتاً فوقتاً ناقدین نے عدم شمولیت اور دیوی کے تصور کو بنیاد بناکر اس پر اعتراضات کیے لیکن وہ ہندوستانی روحانی فلسفے کو نہیں سمجھتے۔ یہاں ماں الوہی نہیں ارضی ہے۔یہ وہ ہوا ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں ،وہ پانی ہےجسے ہم پیتے ہیں ، وہ زبان ہے جوہم بولتے ہیں ۔جس سرزمین پر ہم سانس لیتے ہیں۔
پہلے دو بند ،جو سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہیں ۔ دریاؤں، کھیتوں، ہواؤں اور فطرت کی تصویر ہیں۔ ماں فطرت ہے۔‘‘وندے ماترم’’ نہ کسی مذہب کا نعرہ ہے، نہ کسی عقیدے کا پابندہے ۔ یہ احترام سے متعلق ہے۔ محبت اور مادرِ وطن کے لیے عقیدت کا اعلان ہے ۔فتح کا نہیں،وفاداری اور شفقت کا گیت ہے ۔
یہ کیوں آج بھی اہم ہے
ٹکڑوں میں بٹی شناخت کے اس دور میں ‘‘وندے ماترم’’ جذبات کے ذریعے وحدت کا پیغام دیتا ہے۔ یہ ہندوستانیوں کو یاد دلاتا ہے کہ قومیت کوئی نظریہ نہیں، ایک وراثت ہے۔ یہ صرف شکر گزاری کاہے جو سیاست اور مذہب کے دائرے سے بلند ہے۔
یہ قوم پرستی کی تعریف کو بھی بدل دیتا ہے۔وہ شور و غوغہ نہیں، بلکہ خاموش خدمت ہے۔ بنکم کی نظر میں ماں کو سلام کرنے کا مطلب ہے اس کی ندیوں، جنگلات اور بچوں کی حفاظت کرنا۔ جب 2025 میں ‘‘وندے ماترم’’ کے 150 سال مکمل ہو رہے ہیں، تو ہندوستان اسے نئے انداز میں منا رہا ہے۔
اے آئی پر مبنی سمفونیاں اس اشعار کو سیٹلائٹ تصویروں کے ذریعے پیش کرتی ہیں۔ندیا ں تال پر بہتی ہیں، کھیت سرگم پر لہراتے ہیں۔ ملک بھر کے اسکولوں کے بچے اسے 22 زبانوں میں گاتے ہیں۔ فنکار اسے ریپ، کلاسیکی رقص اور فیوژن میں ڈھالتے ہیں۔
ٹیکنالوجی نے اس کی تقدیس کو کم نہیں کیا، بلکہ بڑھایا ہے۔ ماں اب کوڈ میں بولتی ہے، مگر اس کا نغمہ وہی ہے۔ اپنی اصل میں، ‘‘وندے ماترم’’کوئی سیاسی نظم نہیں بلکہ ایک فکری فلسفہ ہے۔ یہ بھارتیوں کو فرض اور عقیدت کو یکجا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس مٹی پر پیدا ہونا سعادت ہے اور اس کی خدمت کرنا دھرم۔
بنکم کی ‘‘ماں’’ کی پکار نے ہمارے دور کے ماحولیاتی، روحانی اور اخلاقی سوالات کی پیشگی نشاندہی کر دی تھی۔ آج ‘‘وندے ماترم’’ گانا توازن یعنی ترقی اور تحفظ کے درمیان، طاقت اور امن کے درمیان، کی یاد دہانی ہے۔ دنیا میں بہت کم نغمے ایسے ہیں جو سلطنتوں کے بعد بھی زندہ رہے۔ ‘‘وندے ماترم’’ زندہ رہا۔ پابندیوں، بحثوں اور تنقید کے باوجود ناقابلِ شکست رہا کیونکہ روح سے نکلے نغمے کبھی خاموش نہیں کیے جا سکتے۔
نوآبادیاتی قیدخانوں سے اولمپک اسٹیڈیم تک، بنگال کے دریا کنارے سے چاند کی سطح تک اس کی گونج آج بھی زندہ ہے۔ سپاہی میدانِ جنگ میں اترنے سے پہلے اسے آہستگی سے دہراتے ہیں؛ بچے اسکول کی دعا سے پہلے اسے گنگناتے ہیں۔ یہ ہندوستان کی پہلی زبانِ محبت ہے۔ جب بنکم چندر چٹرجی نے 1875 کی اکشے نومی کی دوپہر ‘‘وندے ماترم’’ لکھا تھا، وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا قلم سلطنتوں سے زیادہ عمر پائے گااور ان کو یہ ترانہ ایک قوم کی روح بن جائے گا۔
آج جب ہندوستان دوبارہ اُبھرا ہے۔بااعتماد، کثیرثقافتی، قدیم مگر نوجوان ہے ،ماں آج بھی سن رہی ہے۔ وہ کسی نذرانے کی طلب گار نہیں، صرف یاد چاہتی ہے۔ جب بھی ہم ‘‘وندے ماترم’’ کہتے ہیں، ہم خود کو یاد دلاتے ہیں کہ آزادی شکرگزاری کے بغیر کھوکھلی ہے۔
ماں آزاد ہے۔ اب اولاد کو خودکو قابل ثابت کرنا ہے۔ جیسا کہ سری آروبندو نے لکھا تھا:
“قومیں صرف فوجوں سے نہیں بنتیں، بلکہ ان لوگوں سے بنتی ہیں جو ماں کی آواز سن سکیں اور محبت سے اس کے آگے سر جھکائیں۔”
وندے ماترم — ماں تجھے سلام ۔
(ڈاکٹر سچدانند جوشی، مصنف، ادیب اور آئی جی این سی اے کے ممبر سکریٹری ہیں)
Vande Mataram: One Song, One Soul, One India
Dr. Sachchidanand Joshi
(Dr Sachchidanand Joshi is a writer, author and Member Secretary of IGNCA)

