مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی سمیت آئینی، سماجی اور مذہبی امور پر فوری مداخلت کا مطالبہ
رپورٹ: ایس منیر
علی گڑھ،راشٹریہ مسلم مورچہ اور بھارت مکتی مورچہ نے منگل کو علی گڑھ کلکٹریٹ پر احتجاج کرتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند کے نام ضلع انتظامیہ کے ذریعے 13 نکاتی میمورنڈم پیش کیا۔ تنظیموں نے آئین کی بالادستی، مذہبی آزادی، سماجی انصاف اور شہری مساوات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں شریک مقررین نے کہا کہ میمورنڈم کسی ایک طبقے یا ایک مسئلے تک محدود نہیں بلکہ ملک میں آئینی اقدار، جمہوری روایات، مذہبی آزادی اور سماجی انصاف کے تحفظ کی آواز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں آئینی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
راشٹریہ مسلم مورچہ، علی گڑھ کے جنرل سکریٹری انجینئر محمد راحت سلطان نے بتایا کہ میمورنڈم کا اہم مطالبہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے لیے جاری نوٹس کو فوری واپس لینے سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے سے متعلق معاملات قانون، انصاف اور عدالتی طریقۂ کار کے مطابق حل ہونے چاہئیں، کیونکہ یونیورسٹی سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل وابستہ ہے۔
میمورنڈم میں شہریت ترمیم قانون (CAA)، یکساں سول ضابطہ (UCC) اور وقف ترمیم قانون 2025 پر نظرثانی، آئین کے آرٹیکل 25 تا 29 کے تحت مذہبی آزادی کے تحفظ، ہجومی تشدد کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، بے گناہ مسلم نوجوانوں اور علماء کے مقدمات کی شفاف جانچ، کمیونل وائلنس پریوینشن ایکٹ کے نفاذ، پلیس آف ورشپ ایکٹ 1991 پر سختی سے عمل درآمد، ذات پر مبنی مردم شماری، اور مختلف طبقات کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دینے جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔
تنظیموں نے مذہبی مقامات سے متعلق کارروائیوں میں قانونی اور عدالتی عمل کی پابندی، مختلف کمیشنوں کی سفارشات پر عمل درآمد، اور مذہب یا ذات کے نام پر نفرت انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔
انجینئر محمد راحت سلطان نے کہا کہ آئین ہر شہری کو برابری، انصاف اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان اصولوں پر پوری دیانت داری کے ساتھ عمل کیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر جمہوریہ میمورنڈم میں شامل مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو مناسب ہدایات جاری کریں گی۔
میمورنڈم پیش کرنے کے موقع پر پردیپ ایڈووکیٹ، محمد حامد، روی دیواکر، انجینئر محمد راحت سلطان، مدن کشیپ، اظہر عالم، بی ڈی نقوی، منصور عطا، ستیہ پرکاش، جمعیت علماء ہند (مغربی اتر پردیش) کی ورکنگ کمیٹی کے رکن مفتی محمد اکبر قاسمی سمیت مختلف سماجی، مذہبی اور عوامی تنظیموں کے نمائندے اور بڑی تعداد میں کارکنان موجود تھے۔

