مرکز سے عوام کے حقوق کی فوری بحالی کی اپیل
سرینگر۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے وہ تمام آئینی اور جمہوری حقوق بھی واپس کئے جائیں، جو انہیں آئین ہند کے تحت حاصل تھے۔
سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے مطالبے پر آج بھی پوری مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عوام کے حقوق کے حصول کے لیے جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر ان کے حقوق بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ناانصافی، ظلم و ستم اور غربت کے خلاف جدوجہد شیخ محمد عبداللہ کی قیادت میں شروع ہوئی تھی اور نیشنل کانفرنس آج بھی اسی جدوجہد اور نظریے پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی سالمیت، آزادی اور جمہوریت کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب آئین کے تحت ہر شہری کے مال و جان کا تحفظ یقینی بنایا جائے، مذہبی آزادی برقرار رہے اور آزاد صحافت کو فروغ حاصل ہو۔
نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ موجودہ عوامی نمائندہ حکومت متعدد مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود عوام کو راحت پہنچانے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے، کیونکہ ریاستی درجہ کی بحالی آئینی اور جمہوری اصولوں کے عین مطابق ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے عہدیداروں، کارکنوں اور ارکان اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ مسلسل عوام کے ساتھ رابطے میں رہیں اور ان کے مسائل، مشکلات اور فلاح و بہبود کے لیے بھرپور انداز میں کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
