مرادآباد: جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدر اور جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد کے مہتمم حضرت مولانا سید اشہد رشیدی نے آزادیٔ وطن کی جدوجہد میں علماء کرام اور مسلمانوں کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ علماء اور مسلمانوں کی قربانیوں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے لیے ہمارے بزرگوں نے جان و مال کی بے مثال قربانیاں پیش کیں، جنہیں نئی نسل تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اپنے پرمغز بیان میں مولانا سید اشہد رشیدی نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کو سمجھنے کے لیے اس دور کی تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے، جب انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے ہندوستان کی سیاست میں داخل ہوئے اور رفتہ رفتہ ملک کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرتے چلے گئے۔ انہوں نے ٹیپو سلطان شہیدؒ، حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ، حضرت سید احمد شہیدؒ اور مولانا اسماعیل شہیدؒ سمیت متعدد بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے انگریز اقتدار کے خلاف آواز بلند کی اور آزادیٔ وطن کے جذبے کو بیدار کیا۔ بعد ازاں حضرت سید احمد شہیدؒ اور ان کے رفقاء نے بھی آزادی اور ملک کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ 1857ء کی جدوجہد آزادی میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور دیگر علماء نے اہم کردار ادا کیا۔
مولانا رشیدی نے کہا کہ 1857ء کی ناکامی کے بعد علماء نے تعلیمی اداروں کے قیام کے ذریعے آزادی کی جدوجہد کو ایک نئی سمت دی۔ دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور اور جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی جیسے اداروں نے ایسی نسل تیار کرنے میں کردار ادا کیا جو ملک، قوم اور ملت کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھی۔
انہوں نے تحریک ریشمی رومال کا ذکر کرتے ہوئے حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ مالٹا کی اسیری کے دوران حضرت شیخ الہندؒ نے تحریک آزادی کی ناکامی کے اسباب پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ انگریزوں کی ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا مقابلہ قومی اتحاد کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔
مولانا سید اشہد رشیدی نے کہا کہ اسی فکر کے تحت جمعیۃ علماء ہند نے برادران وطن کو ساتھ لے کر آزادی کی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ علماء نے جیلیں کاٹیں اور بے شمار قربانیاں دیں، جس کے نتیجے میں بالآخر 1947ء میں ہندوستان انگریزی غلامی سے آزاد ہوا۔
موجودہ حالات میں قومی اتحاد کی ضرورت
موجودہ حالات پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدر نے کہا کہ آج بھی ملک کو نفرت اور انتشار سے بچانے کے لیے قومی یکجہتی اور باہمی اتحاد کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ غصے اور انتقامی جذبات پر قابو رکھیں اور کسی بھی صورت قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں، کیونکہ ایسا کوئی بھی قدم ملک میں نفرت اور فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے والی طاقتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور امن کے لیے تمام طبقات کے درمیان محبت، اعتماد اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ قومی اتحاد ہی وہ طاقت ہے جو ملک کو کمزور کرنے والی قوتوں کا مقابلہ کرسکتی ہے۔
مولانا رشیدی نے مسلمانوں کو دینی زندگی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایک طرف قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنا ضروری ہے تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے اعمال صالحہ اختیار کرنا اور گناہوں سے بچنا بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالات خواہ کیسے بھی ہوں، مسلمان صبر، حکمت، قانون کی پاسداری اور قومی اتحاد کا راستہ اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرکے ہی مشکلات سے نجات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
آخر میں مولانا سید اشہد رشیدی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک میں امن و امان، اتحاد و اتفاق اور بھائی چارہ قائم فرمائے اور تمام شہریوں کو ملک کی ترقی و خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
