سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے پیغام کے ساتھ انتظامی بدحالی اور سیاسی بینر بھی زیرِ بحث
رپورٹ: ایس۔ منیر
علی گڑھ۔ 12 ربیع الاول کے مبارک موقع پر علی گڑھ کی فضا عشق و محبتِ رسول ﷺ سے معمور نظر آئی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں صبح سے ہی جلوسِ محمدی کی تیاریاں شروع ہوگئیں اور تقریباً 35 مقامات سے عقیدت مندوں کے جلوس برآمد ہوئے۔ درود و سلام، نعت و منقبت اور عشقِ رسول ﷺ کے نعروں سے شہر کی فضا گونجتی رہی۔
سولہ لائنز علاقے سے نکلنے والے جلوس مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے کیلا نگر پہنچے، جہاں مدرسہ فیضانِ مصطفیٰ کے مہتمم حضرت علامہ مولانا سید جمال احمد صاحب قبلہ کی قیادت میں مرکزی جلوس روانہ ہوا۔ جلوس کیلا نگر، دودھ پور اور میڈیکل روڈ سے ہوتا ہوا نظامی پلیا کے راستے زہرہ باغ مدرسہ فیضانِ مصطفیٰ پہنچا، جہاں اختتام ہوا۔
شہر کے مختلف علاقوں سے برآمد ہونے والے جلوسوں میں اشرفی مسجد نگریہ بھائی بیگ، فاطمہ مسجد چلکورا فیصل باغ، سلمان مسجد چلکورا روڈ، برکاتی مسجد فیصل باغ، سہیل مسجد انکلیو کالونی، مسجد نوریہ ظہیریہ حضرت نظام الدین کالونی، مصطفیٰ مسجد نشاط باغ، مدرسہ فیضان بدرالہند، جامع مسجد غریب نواز کوارسی بائی پاس روڈ، رضا نگر، ذاکر نگر، جیون گڑھ، کیلا نگر، دودھ پور اور دیگر علاقوں کے جلوس شامل رہے۔
مختلف مقامات سے آنے والے جلوس کیلا نگر میں جمع ہوئے، جہاں سے مرکزی جلوس کی قیادت حضرت علامہ مولانا سید جمال احمد صاحب نے کی۔ جلوس میں بڑی تعداد میں عقیدت مند شریک ہوئے اور راستے بھر مذہبی جوش و خروش کا ماحول رہا۔
محبتِ رسول ﷺ کو کردار کا حصہ بنانے کی اپیل
اس موقع پر مدرسہ فیضانِ مصطفیٰ کے مہتمم حضرت مولانا سید جمال احمد صاحب نے کہا کہ محبتِ رسول ﷺ ایمان کی جان ہے۔ جشنِ عید میلادالنبی ﷺ محض ایک دن یا تقریب کا نام نہیں بلکہ اس عظیم ہستی کی آمدِ مبارک کی خوشی کا اظہار ہے، جن کے ذریعے انسانیت کو ایمان، قرآن اور اسلام کی دولت نصیب ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ رحمت بن کر دنیا میں تشریف لائے اور آپ ﷺ کی سیرت نے انسان کو زندگی گزارنے کا سلیقہ، محبت کا راستہ اور انسانیت کی خدمت کا درس دیا۔
مولانا سید جمال احمد نے کہا کہ میلادالنبی ﷺ کی خوشی کو صرف چراغاں، جلوس اور محافل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اس موقع پر جھوٹ، نفرت، ظلم، بددیانتی اور برائی سے دور رہنے، اخلاق بہتر بنانے، والدین کا احترام کرنے، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا عہد بھی کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو آج سب سے زیادہ ضرورت سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی ہے۔ گھروں میں محبت، معاملات میں دیانت، زبان میں سچائی اور دلوں میں انسانیت پیدا کرنا ہی میلادالنبی ﷺ کا حقیقی پیغام ہے۔
موئے مبارک کی زیارت کا اہتمام
جلوس کے اختتام پر مصطفیٰ جامع مسجد میں موئے مبارک کی زیارت کا اہتمام کیا گیا، جو عشاء کی نماز تک جاری رہا۔ بعد نمازِ مغرب خواتین کے لیے بھی موئے مبارک کی زیارت کا الگ انتظام کیا گیا۔
خانقاہ نیازیہ سے بھی جلوسِ محمدی برآمد
حسبِ روایت خانقاہ نیازیہ النیاز ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام بھی جلوسِ محمدی خانقاہ نیازیہ سے پیرِ طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی کی قیادت میں برآمد ہوا۔ جلوس سید کالونی، طیب کالونی، نگلا ملاح، گولڈن والی، دودھ پور، میڈیکل روڈ اور ذکریہ مارکیٹ سے ہوتا ہوا خانقاہ نیازیہ پہنچا، جہاں اختتام پذیر ہوا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے کہا کہ عید میلادالنبی ﷺ تاریخ کی عظیم ساعت اور انسانیت کے لیے دائمی پیغام ہے۔ یہ صرف خوشی کا موقع نہیں بلکہ اس عظیم انقلاب کو یاد کرنے کا دن ہے جس نے انسان کو ظلمت سے نکال کر ہدایت، اخلاق، عدل اور انسانیت کی روشنی عطا کی۔
انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے انسان کو اس کی حقیقی قدر و منزلت سے آشنا کیا اور ایمان، عدل، اخوت، رحم اور انسانی مساوات پر مبنی معاشرے کی بنیاد رکھی۔ میلادالنبی ﷺ کی اصل روح یہ ہے کہ ہم سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنے کردار اور معاملات میں شامل کریں۔
ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے کہا کہ مذہب کے نام پر نفرت، طاقت کے نام پر ظلم، دولت کے نام پر استحصال اور اختلاف کی بنیاد پر دشمنی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔ آج دنیا کو پھر اسی پیغام کی ضرورت ہے جو رسولِ اکرم ﷺ نے انسانیت کو عطا کیا۔
پولیس کی مستعدی کے ساتھ میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پر سوال
جلوسِ محمدی کے دوران پولیس اور انتظامیہ کی مستعدی نمایاں رہی اور جلوس کی روانی و نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے انتظامات کیے گئے، تاہم دوسری جانب شہر کی سڑکوں کی بدحالی نے میونسپل کارپوریشن کی تیاریوں پر سوال کھڑے کردیے۔
جلوس کے راستے میں کئی مقامات پر سڑکیں نامکمل نظر آئیں، جبکہ میڈیکل روڈ پر کھلا گڑھا بھی عقیدت مندوں کے لیے خطرہ بنا رہا۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت کے باوجود اس طرح کا کھلا گڑھا کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتا تھا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ مذہبی و عوامی اجتماعات کے موقع پر متعلقہ محکمے سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کے حوالے سے پہلے سے مؤثر انتظامات کریں۔

سیاسی بینر بھی بنا گفتگو کا موضوع
جلوس کے دوران دودھ پور چوراہے پر ایک سیاسی جماعت کا بینر بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ بینر پر یومِ آزادی اور رکشا بندھن کی مبارک باد درج تھی، تاہم عید میلادالنبی ﷺ کا ذکر نہ ہونے پر بعض لوگوں کے درمیان یہ معاملہ گفتگو کا موضوع بن گیا۔
لوگوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث رہا کہ کیا مذہبی تہواروں کی مبارک باد بھی اب سیاسی ترجیحات اور انتخابی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھی جانے لگی ہے؟ بعض شہریوں کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو تمام طبقات اور تمام مذاہب کے تہواروں کے حوالے سے یکساں احترام اور حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

تاہم اس حوالے سے متعلقہ سیاسی جماعت کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ سیاسی بینر کو لے کر ہونے والی یہ بحث اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ انتخابی موسم کے قریب مذہبی اور سماجی معاملات سیاسی گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں۔

مجموعی طور پر علی گڑھ میں عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر جلوسِ محمدی محبتِ رسول ﷺ، مذہبی عقیدت اور سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے پیغام کے ساتھ نکالے گئے، جبکہ شہر کی انتظامی صورتحال اور سیاسی سرگرمیاں بھی عوامی گفتگو کا حصہ رہیں۔
