وزارتِ تعلیم کو شکایت پر تین ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت
رپورٹ: ایس منیر
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں مبینہ فرضی کیش واؤچر اور مالی ریکارڈ کے غائب ہونے کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے اہم حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے وزارتِ تعلیم کو ہدایت دی ہے کہ شکایت کنندہ کی جانب سے 24 مارچ 2026 کو پیش کیے گئے عرضداشت پر تین ماہ کے اندر نافذ قوانین اور ضوابط کے مطابق غور کرکے فیصلہ کیا جائے۔
یہ معاملہ اے ایم یو کے کنٹرولر دفتر میں مبینہ طور پر فرضی کیش واؤچر تیار کیے جانے اور مالی ریکارڈ کے غائب ہونے سے متعلق ہے۔ اس معاملے میں اے ایم یو کے سابق ملازم شبیہ احمد پر جعلسازی اور فرضی کیش واؤچر تیار کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ کارروائی کرنے کے بجائے اے ایم یو انتظامیہ نے مبینہ طور پر ملزم ملازم کا دفاع کیا اور مؤثر تحقیقات کے بغیر معاملے کو بند کردیا۔
شکایت کنندہ نے اپنے وکیل کیف حسن کے توسط سے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عرضی میں کہا گیا کہ مبینہ مالی بے ضابطگی سے متعلق شکایات اے ایم یو حکام کے سامنے متعدد مرتبہ پیش کی گئیں، لیکن مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
عرضی میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ متعلقہ مالی رجسٹر کے بارے میں آر ٹی آئی کے جواب میں اسے “Misplaced and Not Traceable” یعنی ’’غلط جگہ رکھا ہوا اور تلاش نہیں کیا جاسکا‘‘ قرار دیا گیا۔
شکایت کنندہ نے معاملے کی آزادانہ تحقیقات اور آڈٹ کرائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے 24 مارچ 2026 کو وزارتِ تعلیم کو ایک عرضداشت بھی پیش کی تھی۔ الزام ہے کہ اس عرضداشت پر طویل عرصے تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ اس کے بعد وزارتِ تعلیم کو عرضداشت پر کارروائی کی ہدایت دینے کی درخواست کے ساتھ دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی۔
دائرۂ اختیار کو لے کر اعتراض
چونکہ معاملہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق تھا، اس لیے سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے علاقائی دائرۂ اختیار پر سوال اٹھایا گیا۔
عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مبینہ فرضی واؤچر تیار کیے جانے، مالی ریکارڈ کے رکھ رکھاؤ اور اے ایم یو کی جانب سے مبینہ عدم کارروائی سمیت بنیادی واقعات علی گڑھ میں پیش آئے ہیں۔ اس لیے اس معاملے کی سماعت کا مناسب دائرۂ اختیار الہ آباد ہائی کورٹ کا ہے، نہ کہ دہلی ہائی کورٹ کا۔
دوسری جانب شکایت کنندہ کے وکیل کیف حسن نے دلیل دی کہ وزارتِ تعلیم نئی دہلی میں واقع ہے اور متعلقہ عرضداشت بھی اسی اتھارٹی کو دہلی میں پیش کی گئی تھی۔ لہٰذا عرضداشت پر کارروائی نہ ہونے سے متعلق دعوے کا ایک حصہ دہلی میں پیدا ہوا، جس کی بنیاد پر دہلی ہائی کورٹ کو اس معاملے کی سماعت کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے دائرۂ اختیار پر اعتراض مسترد کردیا
جسٹس ڈاکٹر سورنا کانتا شرما کی سربراہی والی بنچ نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
25 اگست 2026 کو جاری کیے گئے حکم میں عدالت نے دائرۂ اختیار سے متعلق اعتراض کو قبول نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ وزارتِ تعلیم نئی دہلی میں واقع ہے اور متعلقہ عرضداشت بھی اسی اتھارٹی کے سامنے دہلی میں پیش کی گئی تھی۔ لہٰذا محدود ریلیف کے تناظر میں دعوے کا ایک حصہ دہلی میں پیدا ہوا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اس بنیاد پر دہلی ہائی کورٹ کو عرضی کی سماعت کے دائرۂ اختیار سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
وزارتِ تعلیم کو تین ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت
تاہم ہائی کورٹ نے مبینہ فراڈ، جعلسازی، فرضی دستاویزات تیار کرنے یا مالی ریکارڈ کے غائب ہونے کے الزامات پر کوئی حتمی رائے ظاہر نہیں کی۔
عدالت نے وزارتِ تعلیم کو ہدایت دی کہ شکایت کنندہ کی جانب سے 24 مارچ 2026 کو پیش کیے گئے عرضداشت پر نافذ قوانین اور ضوابط کے مطابق غور کرکے تین ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے۔
وزارت کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اختیارات اور دائرۂ اختیار کی حدود میں یہ جائزہ لے کہ شکایت میں عائد کیے گئے الزامات کے سلسلے میں کسی کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ فیصلے سے شکایت کنندہ کو بھی مطلع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عدالت کے اس حکم کے بعد اب معاملہ وزارتِ تعلیم کے پلے میں ہے۔ وزارت کو شکایت کنندہ کے الزامات اور اس کی جانب سے پیش کیے گئے عرضداشت پر قانون کے مطابق غور کرکے مقررہ تین ماہ کی مدت میں فیصلہ کرنا ہوگا۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وزارتِ تعلیم شکایت کنندہ کے الزامات پر کیا فیصلہ کرتی ہے اور کیا معاملے میں آزادانہ تحقیقات یا آڈٹ کی سمت میں کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے۔
