علی گڑھ/پریاگ راج۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سینٹر فار فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (CFST) میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تقرری کے عمل کو لے کر غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے یونیورسٹی کو مقررہ انٹرویو منعقد کرنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم واضح کیا ہے کہ پوری انتخابی کارروائی زیرِ سماعت رٹ پٹیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط رہے گی۔
یہ حکم یکم ستمبر 2026 کو معزز جسٹس سدھارتھ نندن نے ڈاکٹر عبدالحق بنام یونین آف انڈیا و دیگر کے معاملے میں Writ-A No. 9581 of 2026 کی سماعت کے دوران جاری کیا۔
دو عارضی آسامیوں کی وجہ سے انٹرویو کی اجازت
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی اسی روز انٹرویو کا عمل آگے بڑھا رہی ہے۔ دوسری جانب اے ایم یو کی طرف سے ایڈووکیٹ ششانک شیکھر سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ دو آسامیاں عارضی نوعیت کی ہیں اور انتظامی ضرورت کے پیش نظر یونیورسٹی انتخابی عمل مکمل کرنا چاہتی ہے۔
عدالت نے یونیورسٹی کو انٹرویو جاری رکھنے کی اجازت دی، تاہم واضح کر دیا کہ پوری کارروائی زیرِ سماعت رٹ پٹیشن کے حتمی فیصلے کے تابع ہوگی۔
اس معاملے کی اگلی سماعت 10 ستمبر 2026 کو ہوگی اور اسے اس دن کے ٹاپ ٹین مقدمات میں شامل کیا گیا ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
یہ رٹ پٹیشن CFST کے 20 مئی 2025 کے بورڈ آف اسٹڈیز (BOS) کے فیصلے کو چیلنج کرتی ہے۔ درخواست گزار ڈاکٹر عبدالحق نے اعتراض کیا ہے کہ اسسٹنٹ پروفیسر (فوڈ ٹیکنالوجی/فوڈ انجینئرنگ) کے عہدے کے لیے گریجویشن کی سطح پر متعلقہ مضامین کی فہرست سے مکینیکل انجینئرنگ کو خارج کر دیا گیا ہے۔
اسی بنیاد پر شعبے کی جانب سے جاری کیے گئے دو اشتہارات، Local Advertisement No. 01/FE/CFST/2025 اور 02/CFST/2025 میں بھی مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری رکھنے والے امیدواروں کو اہل نہیں مانا گیا۔
درخواست گزار ڈاکٹر عبدالحق خود اے ایم یو سے وابستہ اکیڈمک ہیں اور ان کے پاس پی ایچ ڈی، ایم ٹیک اور نیٹ جیسی تعلیمی قابلیت موجود ہے۔
اے ایم یو کے اپنے ضابطوں پر سوال
درخواست گزار کے وکیل کیف حسن نے عدالت میں دلیل دی کہ یونیورسٹی کا موجودہ موقف اس کے اپنے قواعد اور سابقہ طریقہ کار سے متصادم ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اے ایم یو کی 2026-27 کی گائیڈ ٹو ایڈمیشن میں مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری کو M.Tech. Processing and Food Engineering میں داخلے کے لیے قابل قبول اہلیت قرار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ یونیورسٹی کے ہی Post Harvest Engineering and Technology شعبے نے اسی نوعیت کی اسسٹنٹ پروفیسر کی آسامی کے لیے ابتدا میں مکینیکل انجینئرنگ کو اہلیت سے خارج کیا تھا، لیکن بعد میں اہلیت کے معیار میں ترمیم کرکے اسے شامل کرلیا گیا۔
درخواست میں اس مبینہ تضاد کو آئین کے آرٹیکل 14 اور 16 کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
پی ایچ ڈی میں اہلیت تسلیم، تقرری میں کیوں نہیں؟
درخواست گزار نے Estoppel (اصولِ امتناع) کے قانونی اصول کا بھی حوالہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے ایم یو ایک جانب مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری رکھنے والے امیدوار کو پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلے کے لیے اہل تسلیم کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسی تعلیمی قابلیت کو اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری کے وقت تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔
درخواست میں ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ معاملے Seema Sharma v. Dr. Y.S. Parmar University of Horticulture and Forestry کے حکم کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
انٹرویو دینے والے امیدوار بھی تذبذب کا شکار
ہائی کورٹ کے حکم کے بعد یکم ستمبر کو انٹرویو میں شامل ہونے والے امیدواروں کے لیے بھی صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ عدالت نے انتخابی عمل پر روک نہیں لگائی ہے، لیکن اس کے نتیجے کو زیرِ سماعت رٹ پٹیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط کردیا ہے۔
اگر مستقبل میں عدالت درخواست گزار کے حق میں فیصلہ سناتی ہے اور مکینیکل انجینئرنگ کو اہل قرار دینے کی ہدایت دیتی ہے یا بورڈ آف اسٹڈیز کو نئے سرے سے اہلیت کے معیار پر غور کرنے کا حکم دیتی ہے تو عبوری طور پر مکمل کیے گئے انتخابی عمل کی بھی دوبارہ جانچ ہوسکتی ہے۔
ایسی صورتحال میں ان دو عارضی آسامیوں پر منتخب ہونے والے امیدواروں کی تقرری بھی عدالت کے حتمی فیصلے تک غیر یقینی کا شکار رہ سکتی ہے۔
عدالت میں کس نے کی پیروی؟
درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ کیف حسن نے ان کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ علی بن سیف کے ساتھ معاملے کی پیروی کی۔ کیف حسن نے عدالت کے سامنے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اگر سماعت کے روز ہی انٹرویو کا عمل بغیر کسی شرط کے مکمل کرلیا گیا تو اس سے زیرِ سماعت رٹ پٹیشن کے حتمی نتیجے پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اس کے بعد عدالت نے انتخابی عمل کو واضح طور پر رٹ پٹیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط کردیا۔
ریاست کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا کے دفتر نے نمائندگی کی، جبکہ جواب دہندگان نمبر 2 سے 5 کی جانب سے ایڈووکیٹ ششانک شیکھر سنگھ عدالت میں پیش ہوئے۔
اب اس معاملے کی اگلی سماعت 10 ستمبر 2026 کو ہوگی، جس میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے کی اہلیت سے متعلق بنیادی تنازع پر مزید سماعت متوقع ہے۔
یہ رپورٹ 15 جولائی 2026 اور یکم ستمبر 2026 کے عدالتی احکامات اور الہ آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت Writ-A No. 9581 of 2026 میں دائر درخواست میں موجود حقائق پر مبنی ہے۔
