قانون سب کے لیے یکساں ہے تو اس کے نفاذ میں دوہرا معیار کیوں؟ بلڈوزر آج انصاف نہیں بلکہ انتقام، امتیاز اور نفرت کی سیاست کی علامت بن چکا ہے: مولانا ارشد مدنی
نئی دہلی، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع ایک قدیم مسجد کو علی الصبح تقریباً پانچ بجے منہدم کیے جانے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر ملک کے سامنے یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا آئین اور قانون پر عمل درآمد واقعی ہر شہری اور ہر مذہب کے لیے یکساں ہے؟
مولانا مدنی نے کہا کہ اگر آئین تمام شہریوں کو برابری کا حق، مذہبی آزادی اور قانون کا یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے تو پھر اس کے عملی نفاذ میں یہ دوہرا معیار کیوں دکھائی دیتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ سہارنپور کا واقعہ صرف ایک مسجد کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہری مساوات اور ریاست کے غیر جانب دارانہ کردار سے جڑا ہوا ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ 1991 میں نافذ کیا گیا عبادت گاہوں سے متعلق قانون آج بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کی یہ کارروائی نہ صرف مذکورہ قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ نئے وقف قانون میں موجود وقف بالاستعمال (Waqf by User) کی شق کی بھی واضح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ مسجد وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور اس کا رجسٹریشن نمبر 451 ہے۔ ان کے مطابق اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ زمین ابتدا ہی سے یعقوب خان اور وحید خان کے نام سے درج رہی ہے، اس کے باوجود کارروائی کس قانونی جواز کے تحت کی گئی، یہ ایک بڑا سوال ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اگر غیر قانونی قبضہ اور تجاوزات ہی کارروائی کا واحد معیار ہے تو یہی معیار ہر مذہب اور ہر طبقے کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ لیکن اس طرح کے بہانوں اور وجوہات کی بنیاد پر ایک مخصوص طبقے کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری زمینوں، سڑکوں، عوامی مقامات اور دیگر جگہوں پر برسوں اور دہائیوں سے مذہبی تعمیرات موجود ہیں تو کیا ان تمام تعمیرات کے خلاف بھی انتظامیہ اسی عجلت، اسی سختی اور اسی معیار کے ساتھ کارروائی کر رہی ہے؟
اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کسی ایک مذہبی مقام کے معاملے میں غیر معمولی سختی انصاف کے اصول پر سوالیہ نشان پیدا کرتی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ کسی مذہبی مقام کی ملکیت یا زمین سے متعلق قانونی تنازع کا فیصلہ عدالت میں کیا جا سکتا ہے، لیکن طویل عرصے سے جاری مذہبی استعمال، تاریخی دستاویزات اور زمینی حقائق کو بھی قانون کے دائرے میں پوری سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں مسجد کمیٹی کا موقف بھی اہم ہے۔ کمیٹی نے عدالت میں مختلف تاریخی دستاویزات پیش کیے تھے جن کے مطابق مسجد کا وجود کلکٹریٹ کی موجودہ عمارت سے بھی پہلے کا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق کمیٹی کی جانب سے 1911 سے متعلق دستاویزات، میونسپل ریکارڈ اور قدیم ریونیو ریکارڈ بھی عدالت کے سامنے پیش کیے گئے تھے۔
مولانا مدنی کے مطابق ان دستاویزات کو نظرانداز کیے جانے پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مقام پر ایک صدی سے زائد عرصے تک بلا رکاوٹ نماز ادا کی جاتی رہی ہو، نسل در نسل لوگ اسے مسجد کے طور پر استعمال کرتے رہے ہوں اور اس کے قدیم ہونے سے متعلق دستاویزی دعوے بھی موجود ہوں تو اس پوری تاریخی حقیقت کو محض ایک انتظامی تنازع کے طور پر دیکھنا کہاں تک مناسب ہے؟
انہوں نے کہا”یہ ملک کسی ایک مذہب یا کسی ایک طبقے کا نہیں ہے۔ ہندوستان ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور تمام مذاہب و عقائد رکھنے والے لوگوں کا مشترکہ وطن ہے۔ آئین نے کسی کو پہلے درجے اور کسی کو دوسرے درجے کا شہری نہیں بنایا ہے۔ پھر انتظامیہ کے رویے سے ایسا احساس کیوں پیدا ہوتا ہے کہ مذہبی شناخت انصاف کے معیار کو متاثر کر رہی ہے؟
مولانا ارشد مدنی نے آخر میں کہا کہ جمعیۃ علماء ہند حکومت سے کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ صرف یکساں انصاف چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا”ہمارا سوال بالکل سیدھا ہے، جو قانون مسجد کے لیے ہے، وہی قانون ہر مذہبی مقام کے لیے کیوں نہیں ہے؟ جو معیار ایک مسلمان کے لیے ہے، وہی دوسرے شہری کے لیے کیوں نہیں ہے؟ اگر آئین اور قانون سب کے لیے ہیں تو ان کا تحفظ اور نفاذ بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
