اے ایم یو کے طالب علم رہنما امجد سیوان کا مبینہ طور پر ایف آئی آر میں نام، حالانکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ جائے وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھے؛ شکایت کنندہ اور گواہ کے حلف ناموں میں دباؤ کا الزام
علی گڑھ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں آر ایم ہال میں پیش آئے ایک واقعے سے متعلق فوجداری مقدمے میں طالب علم رہنما امجد علی، جنہیں امجد سیوان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو مبینہ طور پر ملزم بنائے جانے کے معاملے پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
امجد نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے اور یونیورسٹی حکام کے مبینہ دباؤ میں مقدمے میں ان کا نام شامل کیا گیا، جبکہ ان کا مسلسل دعویٰ رہا ہے کہ متعلقہ وقت میں وہ اپنے رہائشی مقام ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ہال میں موجود تھے۔
ان الزامات کو اس وقت مزید اہمیت حاصل ہوئی جب شکایت کنندہ اور ایک گواہ کی جانب سے پروکٹر دفتر کے سامنے حلف نامے پیش کیے گئے۔ امجد کے مطابق، ان حلف ناموں کی نقول 7 ستمبر 2026 کو تقریباً رات 8:40 بجے درخواست نمبر 4618/Proc کے تحت پروکٹر دفتر میں جمع کرائی گئیں۔
شکایت کنندہ حارث فہیم کی جانب سے جمع کرائے گئے ایک حلف نامے میں مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ واقعے کے سلسلے میں امجد علی کا نام لینے کے لیے ایک افسر کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا گیا۔ شکایت کنندہ اور گواہ کے حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گواہ امجد کو جائے وقوعہ پر موجود ہونے کے طور پر نہیں جانتا تھا اور الزام ہے کہ دباؤ کے تحت ان کا نام شامل کیا گیا۔
اگر ان حلف ناموں کے مندرجات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہوتی ہے تو امجد کا نام مقدمے میں شامل کیے جانے کے حالات کا تعین کرنے میں ان کی اہمیت ہوسکتی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج امجد کے دفاع کا اہم ذریعہ
امجد کا کہنا ہے کہ مبینہ واقعے کے وقت وہ آر ایم ہال میں موجود نہیں تھے بلکہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ہال میں تھے۔
انہوں نے متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریکارڈنگ سے متعلقہ وقت میں ان کی موجودگی اور نقل و حرکت کے بارے میں غیر جانب دار ثبوت حاصل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے آر ٹی آئی کے ذریعے بھی متعلقہ سی سی ٹی وی ریکارڈ طلب کیے ہیں۔
اس معاملے میں ایک اہم سوال ایسا ہے جس کا جواب دستاویزی اور الیکٹرانک شواہد سے مل سکتا ہے کہ دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج ان کے اس دعوے کی تائید کرتی ہے یا تردید کہ وہ متعلقہ وقت میں اپنے ہاسٹل میں موجود تھے۔
حلف ناموں کے 82 منٹ بعد معطلی کا حکم جاری
یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے معطلی کے حکم کے وقت کو لے کر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
امجد کے مطابق، شکایت کنندہ اور گواہ کے حلف نامے 7 ستمبر کو رات تقریباً 8:40 بجے پروکٹر دفتر میں جمع کرائے گئے۔ اس کے بعد اسی رات تقریباً 10:02 بجے انہیں ای میل کے ذریعے معطلی کا حکم بھیجا گیا، یعنی تقریباً 82 منٹ بعد۔
امجد نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پروکٹر دفتر کے سامنے پیش کیے گئے مواد، سی سی ٹی وی سے متعلق شواہد اور دیگر ریکارڈ کا اتنے کم وقت میں سنگین تادیبی کارروائی سے پہلے مناسب طور پر جائزہ لیا جاسکتا تھا۔
انہوں نے رات تقریباً 10:02 بجے ای میل کے ذریعے معطلی کا حکم بھیجے جانے کے طریقہ کار اور وقت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اسے نامناسب اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیا ہے۔
سرگرمیاں اور مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کا الزام
امجد طلبہ سے متعلق مسائل میں سرگرم رہے ہیں اور آر ٹی آئی درخواستوں، شکایات اور قانونی کارروائیوں کے ذریعے یونیورسٹی انتظامیہ سے متعلق سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
انہوں نے یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں، شفافیت اور جواب دہی سے متعلق معاملات کو عوامی سطح پر اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے طلبہ سے متعلق مسائل کو لے کر ’’اینٹی سوسائیڈ موومنٹ‘‘ بھی شروع کی ہے۔
امجد کا الزام ہے کہ ان کی سرگرمیوں اور انتظامیہ پر تنقید کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے اور موجودہ معاملہ انہیں پھنسانے اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
وہ اے ایم یو رائیڈنگ کلب سے وابستہ زمین پر مبینہ قبضے کے معاملے میں جاری قانونی کارروائی میں درخواست گزاروں میں بھی شامل ہیں۔ یہ معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی اور طلبہ سے متعلق مسائل اٹھانے کو اپنی مسلسل سرگرمیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے امجد سیوان نے کہا کہ اے ایم یو ہارس رائیڈنگ کلب کی زمین کے حوالے سے سوالات اٹھانے کے بعد انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اے ایم یو انتظامیہ انہیں ذاتی طور پر نشانہ بنا رہی ہے اور ان کی زندگی اور کیریئر برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
امجد نے الزام عائد کیا کہ انہیں اپنی سلامتی کے حوالے سے خوف ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ انہیں جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی سے متعلق مسائل پر آواز اٹھانے کی وجہ سے انتظامیہ انہیں حاشیے پر ڈالنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے اپنی جان اور آزادی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ضرورت
اس پورے تنازع کے مرکز میں الزام اور جرم ثابت ہونے کے درمیان فرق اہم ہے۔ کسی فوجداری مقدمے میں کسی شخص کا نام شامل ہونا بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس شخص نے مبینہ جرم کیا ہے۔
لہٰذا شکایت کنندہ اور گواہ کی جانب سے پیش کیے گئے حلف نامے، سی سی ٹی وی ریکارڈنگ، یونیورسٹی کے ریکارڈ اور دستیاب دیگر شواہد حقائق کا تعین کرنے میں اہم ہوسکتے ہیں۔
جھوٹے مقدمے میں پھنسانے، حکام کے دباؤ اور طلبہ کی سرگرمیوں کی وجہ سے نشانہ بنائے جانے سے متعلق الزامات ابھی آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ یہ طے کرنے کے لیے غیر جانب دارانہ اور شواہد پر مبنی تحقیقات ضروری ہیں کہ آیا امجد جائے وقوعہ پر موجود تھے یا نہیں، مقدمے میں ان کا نام کن حالات میں شامل کیا گیا اور کیا تادیبی کارروائی سے قبل یونیورسٹی کے سامنے دستیاب مواد کی مناسب جانچ کی گئی تھی۔
اس پورے تنازع نے اب یہ سوال مرکز میں لا کھڑا کیا ہے کہ معاملے کا فیصلہ تصدیق شدہ شواہد کی بنیاد پر ہوگا یا محض الزامات کی بنیاد پر۔
