ویڈنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن یوپی کی خصوصی نشست میں بدلتے رجحانات اور صارفین کی نئی پسند پر تفصیلی غور
آگرہ، 12 ستمبر 2026: ہندوستانی شادیاں اب محض ایک تقریب نہیں رہیں بلکہ ایک مکمل تجربہ بن چکی ہیں۔ صارفین کی بدلتی پسند اور انسٹاگرام و ریلز کے بڑھتے اثرات نے شادی کی تقریبات کے انداز کو بھی تیزی سے تبدیل کر دیا ہے۔ اب شادی کے مقام، سجاوٹ، فوٹوگرافی اور دیگر انتظامات کا انتخاب بھی اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کس طرح نظر آئیں گے۔
اسی موضوع پر ویڈنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن یوپی کی جانب سے ہوٹل تاج ویو، آگرہ میں ’’دی فیوچر آف ویڈنگ انڈسٹری‘‘ کے عنوان سے ایک شاندار مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔
پروگرام کا آغاز شمع روشن کرکے کیا گیا۔ اس موقع پر ویڈنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن کے صدر منیش اگروال، جنرل سکریٹری سندیپ اپادھیائے، ٹورزم و ویڈنگ سیکٹر کے ماہر اور ہوٹل تاج ویو کے جنرل مینیجر شانتنو گھوش، ڈائریکٹر سیلز شوہیب خان، ہوٹل سیلز مینیجر دیو چودھری، شبھم سوروپ، سرپرستان سنجے اگروال اور راجیش گوئل، نائب صدر سوربھ سنگھل اور پنکج گوئل سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔
لگژری مارکی بنی شادیوں کا نیا معیار
پہلے سیشن میں وِمل گوئل، دلیپ گپتا، وِپن گپتا، سچن اگروال اور امریش بھاردواج نے شادیوں کے بدلتے رجحانات اور صارفین کی نئی ضروریات پر اظہار خیال کیا۔
مقررین نے کہا کہ آج کا صارف روایتی بینکوئٹ ہال کے بجائے لگژری مارکی کو ترجیح دے رہا ہے۔ فائیو اسٹار ہوٹل جیسا ماحول، اوپن ایئر اسپیس، مکمل ایئرکنڈیشننگ اور بڑے اسپین والی مارکی کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
خاص طور پر 800 سے 1500 مہمانوں والی بڑی ہندوستانی شادیوں میں لگژری مارکی ایک نئے معیار کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ صارف کی خواہش ہے کہ شادی محض کسی محل یا بینکوئٹ جیسی نہ لگے بلکہ ایک پرائیویٹ لگژری ڈیسٹینیشن کا احساس دے۔
ڈیکوریٹر اب بن رہے ہیں ویڈنگ ڈیزائنر
دوسرے سیشن کی نظامت سوربھ سنگھل نے کی، جبکہ ترون اگروال جانی، وِمل گوئل (بزی کرافٹ)، ریا شرما اور ارون سکسینہ نے بطور مقرر شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ آج ہندوستانی شادی صرف شادی نہیں بلکہ ایک مکمل تجربہ بن چکی ہے۔ صارفین اب Pinterest اور Instagram سے اپنی پسند کے ڈیزائن اور آئیڈیاز لے کر آتے ہیں۔
ڈیکوریشن میں تھیم بیسڈ، ثقافتی رنگ، ساؤتھ انڈین، راجواڑہ اور بالی ووڈ تھیم کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ صارف ایسا ڈیکور چاہتا ہے جو تقریب میں خوبصورت نظر آنے کے ساتھ ساتھ تصاویر اور ریلز میں بھی شاندار دکھائی دے۔
اسی وجہ سے ڈیکوریٹر کا کردار بھی تبدیل ہو رہا ہے اور وہ اب صرف ڈیکوریٹر نہیں بلکہ ویڈنگ ڈیزائنر کے طور پر کام کر رہا ہے۔
انسٹاگرام اور ریلز نے بدل دیا شادیوں کا انداز
سوشل میڈیا کے اثرات پر ہونے والے سیشن میں دویش پوری اور یش شیوہرے نے اہم خیالات پیش کیے۔
مقررین نے کہا کہ آج شادی کے فیصلوں میں Instagram اور Reels کا کردار انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ نوجوان جوڑے چاہتے ہیں کہ ان کی شادی کی ریلز خوبصورت ہوں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں۔
اب صارف وینیو، ڈیکور اور فوٹوگرافی کا انتخاب بھی اس بنیاد پر کر رہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کیسا نظر آئے گا۔ ایسے میں ویڈنگ انڈسٹری سے وابستہ افراد کو اپنی خدمات کو سوشل میڈیا فرینڈلی بنانا ہوگا۔
اب صارف کو البم نہیں، پوری فلم چاہیے
ویڈنگ فوٹوگرافی کے بدلتے رجحانات پر منعقدہ سیشن میں پنیت بھوجوانی، امیت جین اور سِمر سنگھ نے اظہار خیال کیا۔
مقررین نے بتایا کہ پہلے شادیوں میں روایتی فوٹوگرافی اور ویڈیو ہی کافی سمجھی جاتی تھی، لیکن اب صارف سنیماٹک ویڈیو، کینڈڈ فوٹوگرافی، ڈرون شاٹس، سیم ڈے ایڈیٹ اور ریل ایڈیٹ کی مانگ کر رہا ہے۔
ہندوستانی شادیوں میں جذبات اور یادگار لمحات کی بھرمار ہوتی ہے، اس لیے فوٹوگرافر کا کردار بھی تبدیل ہو کر اسٹوری ٹیلر کا ہو گیا ہے۔ اب مقصد صرف تصاویر کھینچنا نہیں بلکہ شادی کی پوری کہانی اور جذبات کو کیمرے میں محفوظ کرنا ہے۔
اتر پردیش کو ویڈنگ ڈیسٹینیشن اسٹیٹ بنانا مقصد: منیش اگروال
ویڈنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن یوپی کے صدر منیش اگروال نے کہا کہ تنظیم کا مقصد واضح ہے—’’شادیوں کے لیے اتر پردیش، اتر پردیش کے لیے شادیوں کا مرکز‘‘۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ہم صارفین کی بدلتی ضروریات اور جدید رجحانات کے ساتھ آگے نہیں بڑھیں گے، ہندوستانی شادیوں کی ایک بڑی مارکیٹ دوسرے شہروں، ریاستوں اور بیرون ملک منتقل ہوتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم کا مقصد اتر پردیش کو ایک اہم ویڈنگ ڈیسٹینیشن اسٹیٹ کے طور پر ترقی دینا ہے۔
جنرل سکریٹری سندیپ اپادھیائے نے تمام سیشنز کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آنے والا وقت تعاون اور اشتراک کا ہے۔ تمام ویڈنگ وینڈرز کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا، تاکہ صارف کو ایک مکمل 360 ڈگری ویڈنگ ایکسپیرینس فراہم کیا جا سکے۔
پروگرام کا اختتام ایڈمنسٹریٹر انیل سویتہ کی جانب سے اظہار تشکر کے ساتھ ہوا۔ پروگرام کی انتظامی ذمہ داریوں میں ایکسپرٹ ایونٹ کے شریش سنہا، ونیت گوئل سمیت دیگر افراد نے اہم کردار ادا کیا۔
