نئی دہلی: آج انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے باہمی اشتراک سے یک روزہ’اردو صحافت کانکلیو’ کا انعقاد کیا گیا ۔اس کانکلیو میں صحافت اور ادب سے وابستہ معزز و موقر شخصیات نے شرکت کی اور اردو زبان و صحافت کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ افتتاحی اجلاس میں بحیثیت مہمان خصوصی،مرکزی وزیر برائے اقلیتی و پارلیمانی امور،حکومت ہند عزت مآب کرن رجیجو نے شرکت کی۔مہمانان اعزازی میں جناب شاہد صدیقی (سابق رکن پارلیمنٹ،راجیہ سبھا و سینئر صحافی)، جناب سید شاہنواز حسین (سابق مرکزی وزیر اور قومی ترجمان،بی جے پی) اور پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر(چیئرمین، کارگزار،قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات) شامل رہے۔
مہمان خصوصی جناب کرن رجیجو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ یہ کانکلیو اس اعتبار سے بے حد اہم ہے کہ اس میں اردو زبان اور اس کی خدمات کے تعلق سے گفتگو کی جارہی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس زبان کی شیرینی کا گہرا احساس ہے۔ اس زبان کا واقف شخص بہت ہی ثروت مند ہوتا ہے۔ یہ زبان شخصیت کو سنوارنے کے ساتھ زندگی گزارنے کے آداب بھی سکھاتی ہے۔ انھوں نے اردو زبان کے تاریخی حقائق اور اس کی قدامت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ خالص ہندوستان کی زبان ہے۔ تقسیم کے بعد گرچہ ہمارے پڑوسی ملک نے اسے اپنی زبان کے طور پر قبول کیا لیکن وہ لوگ بھی ہندوستان ہی کے تھے۔ اس لیے اردو کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے، اسے کسی مذہب یا فرقے سے قطعی نہیں جوڑا جاسکتا۔ انھوں نے مزید اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو کو مقبول عام بنانے کے طریقوں پر غور کرنا چاہیے۔ حکومتی اور ذاتی سطح پر اس کے لیے جو کوششیں ہوسکیں گی ہم اس کے لیے تیار ہیں۔
مہمان اعزازی جناب سید شاہنواز حسین نے اردو زبان کی خصوصیات اور لفظوں کی تاثیر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو مشترکہ تہذیبی وراثت کی امین ہے۔ مختلف زبانوں سے آنے والے الفاظ اسے ہر طبقے کے لیے مقبول بناتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قومی اردو کونسل کے ذریعے اردو کا غیر معمولی فروغ ہوا ہے، اسے اس سمت میں اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ موجودہ وقت میں اے آئی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی اسے فروغ دیا جاسکتا ہے۔
اس سے قبل تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شمس اقبال (ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی ) نے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو صحافت کا بنیادی کردار رہا ہے۔ اس حوالے سے تین تاریخ قابل ذکر ہیں۔ ایک 1857 جسے پہلی جنگ آزادی تصور کیا جاتا ہے جس میں اردو صحافت کی غیرمعمولی مثال اخبار’جام جہاں نما’ ہے۔ دوسری 1947 کی آزادی جس کے لیے مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی ، مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ نے اپنا قلمی اور صحافتی تعاون فراہم کیا اور تیسری 2047 جس میں عزت مآب وزیراعظم شری نریندر مودی نے وکست بھارت کا خواب دیکھا ہے۔ یہ تینوں تواریخ بتاتی ہیں کہ آغاز تا حال اردو نے ملک کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور وہ وکست بھارت کے خواب کو بھی شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
مہمان اعزازی جناب شاہد صدیقی نے اردو زبان کی شناخت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی شناخت تہذیب، شائستگی اور محبت سے ہے،یہ عوام کی زبان ہے ۔یہی وجہ ہے کہ فلموں میں اس کا استعمال کثرت سے کیا گیا ہے۔انھوں نے مصنوعی ذہانت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے لیے اے آئی کو بھی کام میں لانے کی ضرورت ہے۔قومی اردو کونسل نے ان پیج میں نستعلیق فاؤنٹ کے حوالے سے جو کارنامہ انجام دیا ہے اس نے ہندوستان میں اردو صحافت کو نئی سمت عطا کی ہے۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے جناب رادھے شیام رائے (ڈائرکٹر اینڈ گروپ مینیجنگ ایڈیٹر،بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک) نے اردو زبان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو اور ہندی کا آپس میں مضبوط رشتہ ہے،دونوں مشترکہ تہذیبی روایت کو آگے بڑھاتی ہیں۔ گفتگو اور فکر کی سطح پر ان دونوں کے درمیان محض رسم الخط کا فرق پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اردو کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔
اس سیشن میں ڈاکٹر خالد رضا خان (ایڈیٹر،بھارت ایکسپریس اردو) نے استقبالیہ کلمات پیش کیے اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر نثار احمد خان(چیف سب ایڈیٹر،بھارت ایکسپریس اردو)نے انجام دیے۔ اجلاس کے اختتام پر بھارت ایکسپریس کے ذریعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کی تاریخ اور کارگزاریوں پر مشتمل ایک ڈاکیومنٹری فلم بھی دکھائی گئی۔
اس کے بعد اس ڈاکیومنٹری کے حوالے سے ایک پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں بطور پینلسٹ ڈاکٹر محمد شمس اقبال (ڈائرکٹر،قومی کونسل برائے فروغ اردو،نئی دہلی) ،ڈاکٹر حمیداللہ بھٹ (سابق ڈائرکٹر،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی) ،پروفیسر ارتضی کریم (سابق ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی) نے بطور پینلسٹ شرکت کی اور ڈاکیو منٹری کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ اس سیشن کو ڈاکٹر خالد رضا خان نے موڈریٹ کیا۔
کانکلیوکا دوسرا سیشن ‘قوم کی تعمیر میں اردو صحافت کا کردار’ کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں جناب فیروز بخت احمد (سابق چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد)، جناب تحسین منور(سینئر صحافی،شاعر اور مصنف)، جناب خورشید ربانی(سینئر صحافی اور نیوز اینکر) ،جناب اطہر سعید(سینئر صحافی اور نیوز اینکر) اور ڈاکٹر وسیم راشد(سینئر صحافی،شاعر اور مصنف) نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
کانکلیو کا تیسرا سیشن ‘سیاسی مکالمے میں اردو کا کردار’ کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں جناب عمران مسعود (ممبرآف پارلیمنٹ ،لوک سبھا، سہارنپور)، جناب آلوک وتس (ترجمان بی جے پی اور سیاسی تجزیہ نگار) اورجناب روہت پوکھریال (اینکر بھارت ایکسپریس) نے بطور پینلسٹ شرکت کی جب کہ اس سیشن کو ڈاکٹر نثار احمد خان نے موڈریٹ کیا۔
تکنیکی سیشن کے بعد ایک آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد کیا گیا جس میں محترمہ برکھا سنگھ، جناب اقبال اشہر، محترمہ شالنی سنگھ، پروفیسر رحمان مصور، محترمہ انا دہلوی، محترمہ انامیکا جین امبر، محترمہ علینا عترت، جناب معین شاداب، جناب اختر اعظمی، جناب انس فیضی، محترمہ ہمانشی بابرہ، ڈاکٹر حبیب الرحمن، محترمہ خوشبو پروین، جناب سفیر صدیقی ، ڈاکٹر نوازش طالب نے شرکت کی۔اس میں جناب فاروق سید نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ جب کہ نظامت کے فرائض جناب معین شاداب نے انجام دیے۔
