جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے پیروی، ایڈووکیٹ ایم ایس خان نے زبانی و تحریری بحث پیش کی
وارانسی کے سنکٹ موچن مندر بم دھماکہ مقدمہ میں سیشن عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے مفتی ولی اللہ کی سزا کے خلاف دائر اپیل پر الہ آباد ہائی کورٹ میں حتمی سماعت شروع ہوگئی ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے اس مقدمہ کی قانونی پیروی کی جا رہی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ، جسٹس اتول شریدھرن اور جسٹس اچل سچدیو، مقدمہ کی سماعت کر رہی ہے۔ گزشتہ روز دہلی سے الہ آباد پہنچے ایڈووکیٹ ایم ایس خان نے عدالت میں اپنی زبانی بحث کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تحریری دلائل بھی عدالت میں جمع کرائے، جنہیں عدالت نے ریکارڈ پر لے لیا۔
عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو یکم اکتوبر کو صبح 10 بجے بحث کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی درج کیا کہ مفتی ولی اللہ کے وکیل ایم ایس خان بیرون شہر سے آتے ہیں، اس لیے مقررہ وقت پر بحث شروع کی جائے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے مطابق صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر قانونی امداد کمیٹی نچلی عدالت سے ہی اس مقدمہ کی پیروی کر رہی ہے۔ ٹرائل کورٹ میں بھی مفتی ولی اللہ کو قانونی امداد فراہم کی گئی تھی۔ سیشن عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد اس فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
مقدمہ کے مطابق مفتی ولی اللہ کے خلاف اترپردیش پولیس نے تین مقدمات درج کیے تھے، جن میں سے دو میں نچلی عدالت نے سزا سنائی جبکہ ایک مقدمہ میں انہیں بری کر دیا گیا۔ ایک مقدمہ میں پھانسی اور دوسرے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، دونوں سزاؤں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔ نچلی عدالت کے فیصلے کو ایڈووکیٹ آن ریکارڈ راج رگھونشی کے ذریعے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
مقدمہ کا پس منظر
7 مارچ 2006 کو وارانسی کے تاریخی سنکٹ موچن مندر میں شام تقریباً چھ بجے بم دھماکہ ہوا تھا۔ اسی روز وارانسی ریلوے اسٹیشن پر بھی دھماکہ ہوا۔ پولیس نے 8 مارچ کو تھانہ لنکا میں سب انسپکٹر سمرجیت کی فریاد پر ایف آئی آر درج کی تھی۔
مقدمہ کے مطابق مفتی ولی اللہ کو 5 اپریل 2006 کو لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 304، 302، 307 اور 324 سمیت آتش گیر مادہ قانون کی دفعات 3، 4 اور 5 کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔
سال 2011 میں غازی آباد کی خصوصی عدالت نے دونوں مقدمات کو یکجا کرکے سماعت شروع کی۔ دورانِ سماعت استغاثہ کی جانب سے 48 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
6 جون 2022 کو خصوصی سیشن عدالت نے مفتی ولی اللہ کو ایک مقدمہ میں پھانسی اور دوسرے میں عمر قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر اب الہ آباد ہائی کورٹ میں حتمی سماعت کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔
