خانقاہ قادریہ چشتیہ نیازیہ میں محفلِ سماع، فاتحہ خوانی اور دعائیہ مجلس کا انعقاد
آگرہ: خانقاہ قادریہ چشتیہ نیازیہ، آستانہ حضرت میکش میوہ کٹرہ، آگرہ میں ہر سال کی طرح اس سال بھی 30 ستمبر 2026 کو محبوبِ الٰہی حضرت خواجہ سید محمد نظام الدین اولیاءؒ کا 723واں سالانہ عرس مبارک عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ تقریب حضرت سید اجمل علی شاہ قادری نیازی کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر محفلِ سماع و قوالی، فاتحہ خوانی اور خصوصی دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا گیا۔ عقیدت مندوں نے حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی تعلیمات اور روحانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اختتام پر ملک میں امن و امان، بھائی چارے، انسانیت کی بھلائی اور حاضرین کی مشکلات و پریشانیوں کے خاتمے کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ شرکاء میں لنگر اور تبرکات بھی تقسیم کیے گئے۔
حضرت خواجہ سید محمد نظام الدین اولیاءؒ کو محبوبِ الٰہی اور سلطان المشائخ کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ سلسلۂ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ تھے اور قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں روحانی تربیت، خدمتِ خلق، علمی و ادبی روایت اور خانقاہی نظام پر آپ کے گہرے اثرات رہے۔
علم، تصوف اور خدمتِ خلق کا پیغام
حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی تعلیمات میں اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ مخلوقِ خدا سے حسنِ سلوک، سخاوت، عاجزی، ایثار اور ضرورت مندوں کی مدد کو اہم مقام حاصل تھا۔ آپ کی خانقاہ صرف روحانی تربیت کا مرکز نہیں تھی بلکہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے خدمت اور انسانی ہمدردی کا مرکز بھی بنی۔
چشتی روایت میں سماع کو بھی ایک اہم مقام حاصل رہا۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی خانقاہ میں سماع کی مجالس منعقد ہوتی تھیں اور اس کے لیے مخصوص آداب و شرائط کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ اسی روحانی ماحول نے بعد میں برصغیر کی صوفیانہ موسیقی اور قوالی کی روایت پر نمایاں اثر ڈالا۔
امیر خسروؒ سے روحانی تعلق
حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے معروف مریدوں میں حضرت امیر خسروؒ کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ فارسی کے عظیم شاعر اور ادیب امیر خسروؒ کی حضرت نظام الدین اولیاءؒ سے روحانی وابستگی برصغیر کی صوفیانہ اور ادبی تاریخ کا اہم باب ہے۔
حضرت امیر حسن سجزی بھی حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے حلقۂ ارادت سے وابستہ تھے۔ انہی سے منسوب ’فوائد الفؤاد‘ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی مجالس، نصائح اور روحانی تعلیمات کے مطالعے کے اہم ماخذوں میں شمار ہوتی ہے۔
روحانی ورثہ آج بھی زندہ
حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے وصال کے بعد آپ کے خلفاء، خصوصاً حضرت نصیر الدین محمود چراغِ دہلویؒ، نے چشتی روایت کو آگے بڑھایا۔ آپ کے خلفاء اور مریدین کے ذریعے چشتی سلسلہ ہندوستان کے مختلف علاقوں تک پھیلا اور اس کی روحانی و سماجی روایت مضبوط ہوئی۔
حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا روحانی ورثہ آج بھی تصوف، فارسی و اردو ادب، قوالی، خانقاہی خدمت اور ہندوستان کی مشترکہ ثقافتی تاریخ میں نمایاں طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر سید فیض علی شاہ قادری نیازی اور خانقاہ قادریہ نیازیہ میوہ کٹرہ، آگرہ سے وابستہ دیگر افراد و عقیدت مند بھی موجود رہے۔
Times of Taj | اردو نیوز
