انڈین نالج سسٹم کے تناظر میں بھی فارسی زبان اہمیت کی حامل ہے: ڈاکٹر محمد شمس اقبال
قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں ’فارسی پینل‘ کی میٹنگ
نئی دہلی: آج قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے صدر دفتر میں ’فارسی پینل‘ کی میٹنگ منعقد ہوئی، جس کی صدارت پینل کے چیئرمین پروفیسر چندر شیکھر (سابق صدر، شعبۂ فارسی، دہلی یونیورسٹی) نے کی۔ میٹنگ کے آغاز میں ڈائرکٹر قومی اردو کونسل ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے پینل کے چیئرمین پروفیسر چندر شیکھر اور تمام اراکین کا استقبال کیا۔ پینل کے اراکین میں پروفیسر محمد اقبال (شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، پروفیسر اخلاق احمد آہن (سینٹر آف پرشین اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی)، پروفیسر کلیم اصغر (صدر، شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، پروفیسر عثمان غنی (ڈائرکٹر، فارسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)، ڈاکٹر مہتاب جہاں (شعبۂ فارسی، دہلی یونیورسٹی)، ڈاکٹر علی اکبر شاہ (شعبۂ فارسی، دہلی یونیورسٹی) اور ڈاکٹر عمران چودھری (شعبۂ فارسی، ذاکر حسین دہلی کالج) شامل تھے۔
میٹنگ میں ’فارسی پینل‘ کے ایجنڈے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈائرکٹر قومی اردو کونسل ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے کہا کہ فارسی زبان کے علمی و ادبی سرمائے کو پیش نظر رکھے بغیر ہندوستان، بالخصوص شمالی ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ سے مکمل طور پر واقفیت ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کونسل نے حال ہی میں داراشکوہ کی کتاب ’سکینۃ الاولیاء‘ اور پردیپ شرما خسرو کی کتاب ’امیر خسرو: ایک ہمہ جہت شخصیت‘ کے اردو تراجم شائع کیے ہیں۔ اس سلسلے میں دیگر اہم کتابیں بھی زیر طبع ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ انڈین نالج سسٹم کے تناظر میں حکومت ہند نے بھی اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے کلاسیکی زبان کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ فارسی زبان کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی اردو کونسل نے اس پر خصوصی توجہ دی ہے۔ کونسل کی کوشش ہے کہ فارسی کی اہم کتابوں کے اردو تراجم شائع کیے جائیں، ساتھ ہی فارسی زبان اور اس کے علمی و ادبی سرمائے کے حوالے سے ایک سنجیدہ علمی مکالمہ بھی قائم ہو، تاکہ اس کے وسیع سرمایے سے بہتر طور پر استفادہ کیا جا سکے۔
میٹنگ کے صدر پروفیسر چندر شیکھر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فارسی زبان ایک ایسا پل ہے جو مختلف تہذ یبوں اور ثقافتوں کے درمیان مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور علمی روایت کو سمجھنے کے لیے فارسی کے علمی و ادبی مواد سے استفادہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ انھوں نے ’امیر خسرو/داراشکوہ سالانہ یادگاری خطبہ‘، ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان مکالمے پر مبنی سمینار اور ’ہندوستان میں فارسی ادب کی تاریخ‘ کی ترتیب کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے ان منصوبوں کی معنویت کے پیش نظر ان کے حوالے سے اہم نکات کی نشاندہی کی اور ان کی عملی صورت گری کے لیے تجاویز پیش کیں۔ میٹنگ میں پینل کے اراکین کی جانب سے یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ ’ہندوستان میں فارسی ادب کی تاریخ‘ کی تدوین ایک اہم ضرورت ہے، جس کے لیے موثر عملی اقدامات کیے جانے چاہییں۔
اس کے علاوہ قدیم مخطوطات و مسودات، علم عروض و بلاغت اور ترجمے کے موضوعات پر ورکشاپ منعقد کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں، تاکہ نئی نسل میں فارسی زبان و ادب کے حوالے سے علمی و فنی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ فارسی ڈپلومہ مراکز کو مزید مؤثر بنانے، طلبہ کی پیش رفت کو باقاعدگی سے مدنظر رکھنے اور مراکز کے اساتذہ کے ساتھ پینل کی سطح پر تبادلۂ خیال کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ میٹنگ کے اختتام پر قومی اردو کونسل کی جانب سے حال ہی میں شائع ہونےوالی پردیپ شرما خسروکی کتاب’امیر خسرو: ایک ہمہ جہت شخصیت‘ جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر شبیر عالم نے کیا ہے، کی رسم رونمائی بھی عمل میں آئی۔ آخر میں ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائرکٹر، اکیڈمک) نے پینل کے چیئرمین، اراکین اور تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ میٹنگ میں ڈاکٹر مسرت (ریسرچ آفیسر) اور ڈاکٹر عبدالسلام صدیقی (پروجیکٹ اسسٹنٹ) سمیت قومی اردو کونسل کے دیگر اراقین بھی موجود رہے۔
