رپورٹ ۔ ایس منیر
علی گڑھ۔ آٹھ سال کے طویل وقفے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کی سرگرمیاں تیز ہوتے ہی انتخابی ماحول گرم ہونے لگا ہے۔ امیدواروں نے اپنی حکمت عملی بنانی شروع کردی ہے اور ووٹروں کو اپنے حق میں متحد کرنے کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس بار بھی سماجی علوم فیکلٹی اور ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے طلبہ کے ووٹ انتخابی نتائج کا رخ طے کریں گے؟ ان دونوں فیکلٹیوں میں ووٹروں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ہر امیدوار کی نظریں انہی پر مرکوز ہیں۔ دوسری جانب انتخابات کو پرامن، غیر جانبدارانہ اور شفاف انداز میں منعقد کرانے کے ساتھ سکیورٹی یقینی بنانے کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ سابق طالب علم اور سپریم کورٹ میں پریکٹس کرنے والے ایڈوکیٹ سید کیف حسن نے واضح کیا ہے کہ انتخابات کے دوران سکیورٹی یقینی بنانا یونیورسٹی اور ضلع انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہے۔
سماجی علوم اور انجینئرنگ فیکلٹی کے ووٹر فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کی سرگرمیاں تیز ہوتے ہی انتخابی جوڑ توڑ اور سیاسی صف بندیاں شروع ہوگئی ہیں۔ اس بار کے انتخابات میں جیت اور ہار کا فیصلہ سماجی علوم فیکلٹی اور ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے طلبہ کرسکتے ہیں۔ ان دونوں فیکلٹیوں میں سب سے زیادہ ووٹر ہیں، اسی لیے ہر امیدوار کی نظریں انہی پر ٹکی ہوئی ہیں۔یونیورسٹی ذرائع کے مطابق اے ایم یو کی سماجی علوم فیکلٹی میں مجموعی طور پر ۳۵۲۲ طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں انڈر گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور ریسرچ اسکالر شامل ہیں۔ وہیں انجینئرنگ فیکلٹی میں بھی ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ووٹر لسٹ میں ان دونوں فیکلٹیوں کے ووٹروں کی تعداد دیگر تمام فیکلٹیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۲۰۱۸ میں ہونے والے گزشتہ طلبہ یونین انتخابات میں بھی ان دونوں فیکلٹیوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔اے ایم یو طلبہ یونین کے آخری انتخابات ۲۰۱۸ میں ہوئے تھے۔ اس وقت ۲۰ ہزار سے زیادہ طلبہ نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ ووٹنگ کے لیے یونیورسٹی کے ۱۴ شعبوں میں پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے۔ انتخابات کو پرامن اور غیر جانبدارانہ طریقے سے کرانے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے ۳.۴۶ لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق سماجی علوم اور انجینئرنگ کے طلبہ کا ووٹنگ فیصد سب سے زیادہ رہا تھا۔ جس امیدوار کو ان دونوں فیکلٹیوں میں برتری حاصل ہوئی تھی، وہی صدر کے عہدے کے قریب پہنچا تھا۔
یک طرفہ ووٹنگ کی امید۔اس بار بھی صورت حال ایسی ہی رہنے کی امید ہے۔ سماجی علوم فیکلٹی میں ۱۲ شعبے شامل ہیں، جہاں طلبہ کی سیاست کافی سرگرم رہتی ہے۔ یہاں طلبہ روزانہ کینٹین اور لائبریری میں انتخابی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ وہیں انجینئرنگ فیکلٹی کے طلبہ متحد ہوکر ووٹنگ کرتے ہیں، اسی لیے ان کا ووٹ بینک کافی مضبوط سمجھا جاتا ہے۔سینئر طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اے ایم یو طلبہ یونین انتخابات میں آرٹس، سائنس اور دیگر فیکلٹیوں کے ووٹ تقسیم ہوجاتے ہیں، لیکن سماجی علوم اور ٹیکنالوجی کے ووٹر یک طرفہ ووٹنگ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امیدوار سب سے پہلے انہی دو فیکلٹیوں میں اپنی عوامی حمایت مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ان فیکلٹیوں کے طلبہ کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے انتخابی مہم تیز ہوگئی ہے۔
شعبے اور ووٹروں کی تعداد (۲۰۱۸)
۱۔ زراعت اور دینیات فیکلٹی ۴۱۶۲
۔ آرٹس فیکلٹی ۱۸۸۸۳
۔ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی فیکلٹی ۳۱۹۹۴
۔ یونیورسٹی پولی ٹیکنک ۱۳۵۸۵
۔ ویمن پولی ٹیکنک ۴۵۴۶
۔ کامرس فیکلٹی ۹۱۶۷
۔ قانون فیکلٹی ۶۱۸۸
۔ لائف سائنسز فیکلٹی ۶۹۶۹
۔ مینجمنٹ اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز فیکلٹی ۵۵۵۱۰
۔ میڈیکل فیکلٹی ۱۷۷۲۱۱
۔ سائنس فیکلٹی ۲۶۹۴۱۲
۔ سماجی علوم فیکلٹی ۳۱۹۶۱۳
۔ یونانی میڈیسن فیکلٹی ۴۲۶۱۴
۔ ویمن کالج ۲۷۴۱
کل ووٹر ۲۰۹۲۹
انتخابات کی کور کمیٹی کی تجویز انتظامیہ کو بھیجی گئی
اے ایم یو میں آٹھ سال بعد ہونے والے طلبہ یونین انتخابات کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ انتخابات کو غیر جانبدارانہ طریقے سے منعقد کرانے کے سلسلے میں الیکشن افسر نے کور کمیٹی کی تجویز انتظامیہ کو بھیج دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال ۲۰۱۸ میں ابتدا میں ۷۶ اراکین کو کور کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مزید ۲۰ اراکین شامل کیے گئے تھے۔ اس سال ۶۰ سے زیادہ اراکین کو شامل کرنے کی تجویز بھیجی گئی ہے۔
امیدواروں کو عمر کی حد میں رعایت مل سکتی ہےاے ایم یو طلبہ یونین انتخابات کے سلسلے میں کئی طلبہ تنظیموں نے عمر کی حد میں رعایت دینے کے لیے وائس چانسلر کو درخواستیں بھیجی ہیں۔ الیکشن افسر کے مطابق عمر میں رعایت دینے کے لیے تجویز تیار کی جارہی ہے۔ اگر کور کمیٹی اور یونیورسٹی انتظامیہ اس کی منظوری دے دیتی ہے تو امیدواروں کو عمر کی حد میں بھی رعایت مل سکتی ہے۔(۷) ۶ نومبر کی صبح مل سکتا ہے طلبہ یونین کو صدراے ایم یو طلبہ یونین انتخابات کا عمل ۲۶ اکتوبر سے شروع ہوگا۔ ۵ نومبر کو ۱۴ شعبوں میں ووٹنگ کے بعد شام ۷ بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی۔ الیکشن افسر نے بتایا کہ اس سال ۲۲ ہزار سے ۲۴ ہزار کے درمیان ووٹنگ ہونے کا امکان ہے۔ ایسے میں ووٹوں کی گنتی میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ امکان ہے کہ گنتی کرتے کرتے صبح ہوجائے گی۔ ممکنہ طور پر ۶ نومبر کی صبح اے ایم یو طلبہ یونین کو اپنا صدر اور دیگر عہدیدار مل جائیں گے۔
ْْْْْْ
انتخابات کے دوران سکیورٹی یقینی بنانا یونیورسٹی اور ضلع انتظامیہ کی ذمہ داری
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور سپریم کورٹ میں پریکٹس کرنے والے ایڈوکیٹ سید کیف حسن نے کہا ہے کہ اے ایم یو طلبہ یونین انتخابات کے دوران سکیورٹی یقینی بنانا یونیورسٹی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرنا ضروریایڈوکیٹ سید کیف حسن نے کہا کہ معزز سپریم کورٹ نے ۲۲ ستمبر ۲۰۰۶ کے اپنے حکم میں لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرتے ہوئے ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ یونین انتخابات کرانے کے سلسلے میں واضح ہدایات دی تھیں۔ آئین کے آرٹیکل ۱۴۱ کے تحت سپریم کورٹ کی جانب سے اعلان کردہ قانون ملک کی تمام عدالتوں اور ریاستوں پر لازم ہے۔ اس لیے متعلقہ حکام کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ حکم میں معزز سپریم کورٹ نے طلبہ یونین انتخابات کے عمل میں شامل تعلیمی برادری کی حفاظت کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ متعلقہ علاقے کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) مناسب تعداد میں پولیس فورس تعینات کریں۔ اس کے ساتھ ہی انتخابی مقام کے قریب سکیورٹی یقینی بنائی جائے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ یہ ہدایات ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ہونے والے طلبہ یونین انتخابات پر لاگو ہوں گی۔ ملک کی تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ان ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانا لازمی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آئندہ طلبہ یونین انتخابات کے تناظر میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ انتخابات کے دوران سکیورٹی، امن و قانون کی صورت حال برقرار رکھنا اور انتخابی عمل کو پرامن اور بلا رکاوٹ مکمل کرانا یونیورسٹی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو انتخابات سے متعلق ضروری انتظامات کرنے چاہئیں، جبکہ ضلع انتظامیہ اور پولیس کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق مناسب تعداد میں سکیورٹی فورس کی تعیناتی یقینی بنانی چاہیے۔کسی بھی ممکنہ خدشے یا امن و قانون سے متعلق چیلنج کا حل مناسب سکیورٹی انتظامات، انتظامی تال میل اور وقت پر کارروائی کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ سکیورٹی سے متعلق ذمہ داریاں پوری کرنا متعلقہ انتظامی حکام کا فرض ہے، تاکہ طلبہ اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کرسکیں اور انتخابی عمل خوف سے پاک ماحول میں مکمل ہو۔

سید کیف حسن نے کہا کہ میں یونیورسٹی انتظامیہ، ضلع انتظامیہ اور متعلقہ پولیس افسران سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئندہ اے ایم یو طلبہ یونین انتخابات کے لیے ضروری سکیورٹی انتظامات بروقت یقینی بنائیں اور معزز سپریم کورٹ کے ۲۲ ستمبر ۲۰۰۶ کے حکم پر لفظ بہ لفظ عمل کریں۔طلبہ یونین انتخابات کو پرامن، غیر جانبدارانہ اور محفوظ طریقے سے منعقد کرانا محض یونیورسٹی کا انتظامی عمل نہیں، بلکہ طلبہ کی جمہوری نمائندگی یقینی بنانے کی ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دے کر سکیورٹی کے نام پر انتخابات سے دامن نہیں بچایا جاسکتا، کیونکہ مذکورہ حکم میں خود سپریم کورٹ نے سکیورٹی کی ذمہ داری ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ پر عائد کی ہے۔

پروفیسر جاوید طالباس سلسلے میں چیف الیکشن افسر پروفیسر جاوید طالب نے کہا کہ طلبہ یونین انتخابات کو پرامن، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ طریقے سے منعقد کرانے کے ساتھ سکیورٹی یقینی بنانا بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔
