از قلم: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
سائنس معاشرے میں تبدیلی لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
مورخہ28 فروری 2006 کو ہندوستان کے سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے قومی یومِ سائنس کے موقع پرملک سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔
تقریباً دو دہائیوں بعد ڈاکٹر کلام کے یہ الفاظ آج بھی درست ثابت ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہندوستان کو ’وکست بھارت‘ یعنی ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کی سمت آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہندوستان کی کوششوں کو پوری دنیا میں دیکھا اور سراہا جا رہا ہے۔
سائنس صرف اس لیے اہم نہیں ہے کہ اس کے ذریعے نئی چیزیں دریافت ہوتی ہیں، بلکہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ان دریافتوں سے لوگوں کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آتی ہے۔ سائنسی ترقی کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ زندگی کو بہتر بنائے، مسائل حل کرے اور نئے مواقع پیدا کرے۔
ہندوستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ایک ترقی یافتہ ملک بننے کا مقصد صرف معیشت کو مضبوط بنانا اور جدید عمارتیں و سڑکیں تعمیر کرنا نہیں ہے۔ اس کا مطلب بہتر طبی سہولتیں، زراعت میں زیادہ پیداوار، مضبوط صنعتیں، نوجوانوں کے لیے زیادہ مواقع اور ہر شہری کے لیے بہتر زندگی بھی ہے۔
ان تمام مقاصد کو حاصل کرنے میں سائنس اور ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جو نیا علم اور ٹیکنالوجی حاصل کریں، اسے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے استعمال کریں۔
ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو (ای ایس ٹی آئی سی) 2026 کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔ اس کانکلیو کا یہ دوسرا ایڈیشن ہے۔ اس کا آغاز 2025 میں ہونے والے قومی مکالمے سے آگے بڑھتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد سائنسی تحقیق، نئی ٹیکنالوجی اور ان کے عملی استعمال کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بنانا ہے۔اس پروگرام میں سائنس دان، پالیسی بنانے والے افراد، صنعت کار، اسٹارٹ اَپس اور نوجوان محققین ایک مشترکہ قومی مقصد کے لیے جمع ہوں گے۔
آج ہمارے سامنے کچھ ایسے سوالات ہیں جن کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ سائنس کی مدد سے کسان اپنی فصلوں کی پیداوار کیسے بڑھا سکتے ہیں؟ تحقیق کے ذریعے طبی سہولتوں کو زیادہ آسان اور مؤثر کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ ہندوستانی صنعتیں جدید ٹیکنالوجی کیسے تیار کر سکتی ہیں، عالمی منڈی میں مقابلہ کیسے کر سکتی ہیں اور اہم چیزوں کی درآمد پر انحصار کیسے کم کر سکتی ہیں؟ تحقیق، نئی ایجادات اور کاروبار کے ذریعے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کیسے پیدا کیے جا سکتے ہیں؟
ان سوالات کے جواب کوئی ایک ادارہ یا شعبہ اکیلے نہیں دے سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سائنس دان صنعتوں کے ساتھ مل کر کام کریں، محققین عملی ضروریات کو سمجھیں اور حکومت ایسا ماحول فراہم کرے جس میں نئے خیالات کو آزمایا اور آگے بڑھایا جا سکے۔
ای ایس ٹی آئی سی2026 اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے 12 اہم شعبوں پر توجہ دے گا۔ ان میں جدید مینوفیکچرنگ، توانائی کی ٹیکنالوجی، بایوٹیکنالوجی، سمندری سائنس اور بحری ٹیکنالوجی، کوانٹم کمیونیکیشن، سیمی کنڈکٹر، زرعی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، جدید طبی سہولتیں، نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خلائی سائنس شامل ہیں۔
ان میں سے ہر شعبے میں ایسی صلاحیت موجود ہے جو تجربہ گاہوں تک محدود نہیں، بلکہ عام لوگوں کی زندگیوں کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ترقی، ہندوستان کی تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ بایوٹیکنالوجی میں تحقیق صحت اور صنعت کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس صنعتی کاموں کو بدل سکتے ہیں، جبکہ زراعت اور توانائی کے شعبوں میں سائنسی تحقیق زیادہ مؤثر اور ماحول کے لیے سازگار طریقے اپنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اصل چیلنج یہ ہے کہ سائنسی دریافتوں کو عملی زندگی میں کیسے استعمال کیا جائے۔ کسی نئی سائنسی دریافت تک پہنچنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، لیکن اسے عام لوگوں کے استعمال کے قابل بنانے کے لیے مزید تجربات، سرمایہ کاری، انجینئرنگ اور باہمی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمیں اس پورے عمل کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ تحقیق کے ابتدائی مرحلے سے لے کر ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے تک کا سفر آسان ہو، جو لوگوں کو حقیقی فائدہ پہنچا سکے۔
ہندوستان کے سائنسی مستقبل کا انحصار نوجوانوں کی صلاحیت، محنت اور نئے خیالات پر بھی ہے۔ کسی نوجوان محقق کے پاس اگر کوئی اچھا خیال ہے تو اسے اپنے خیال کو پیش کرنے، تجربہ کار سائنس دانوں سے سیکھنے اور ایسے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کا موقع ملنا چاہیے جو اس خیال کو عملی شکل دینے میں مدد کر سکیں۔
ای ایس ٹی آئی سی 2026 اس عمل کو فروغ دینے کے لیے ’’فرنٹیئرز اِن فوکس‘‘ کے خصوصی اجلاس اور ’’ینگ ریسرچرز اینڈ اِنّوویٹرز پِچ کارنر‘‘ کا اہتمام کرے گا۔’’نیکسٹ جن ڈسکوری ایکسپو‘‘ میں ہندوستان کی تحقیقی صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے ابھرتے ہوئے شعبوں کو پیش کیا جائے گا۔ اسی طرح ’’اِنّوویشن ایکسچینج ہب‘‘ کے ذریعے نئی ٹیکنالوجی پر تبادلے اور مشترکہ کام کے امکانات کو فروغ دیا جائے گا۔
سائنسی تحقیق اور کاروبار کو اب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ خاص طور پر جدید اور ڈیپ ٹیک سے متعلق کاروبار کو کامیاب بنانے کے لیے خصوصی سہولتوں، طویل مدتی سرمایہ کاری اور مسلسل تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
تحقیقی اداروں کے پاس سائنسی علم اور مہارت ہوتی ہے، اسٹارٹ اَپس کے پاس کاروبار کو آگے بڑھانے کا جذبہ ہوتا ہے، صنعتوں کو پیداوار اور بازار کی ضروریات کا علم ہوتا ہے، جبکہ سرمایہ کار اس پورے عمل کے لیے مالی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔جب یہ تمام صلاحیتیں ایک ساتھ کام کرتی ہیں تو تحقیق کو مفید مصنوعات اور خدمات میں تبدیل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ای ایس ٹی آئی سی2026 ایسی شراکت داریوں کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔ اس کے تکنیکی اجلاسوں اور نمائشوں کا مقصد صرف کامیابیوں کو دکھانا نہیں، بلکہ ایسے رابطے اور تبادلے پیدا کرنا بھی ہے جو مستقبل میں مشترکہ کام اور نئی ترقی کا ذریعہ بن سکیں۔
وکست بھارت 2047 یعنی 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا سفر صرف حکومت اکیلے مکمل نہیں کر سکتی۔ اسی طرح صرف سائنسی تحقیق کے ذریعے بھی یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔اس کے لیے تحقیقی اداروں، یونیورسٹیوں، صنعتوں، کاروباری افراد اور نوجوان موجدوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے الفاظ آج بھی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سائنس کا اصل مقصد معاشرے کی خدمت کرنا ہے۔ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے میں ہماری کامیابی کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جائے گا کہ ہم نے کتنی نئی چیزیں دریافت کیں، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جائے گا کہ ان دریافتوں سے لوگوں کی زندگیوں میں کتنی بہتری آئی۔ای ایس ٹی آئی سی 2026 کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ہندوستان کی سائنسی صلاحیتوں کو عوام کی ضروریات کے قریب لایا جائے اور نئی ایجادات کے امکانات کو ملک کی ترقی میں تبدیل کیا جائے۔
مصنف کا تعارف:مصنف مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم ہیں۔ اس کے علاوہ وہ وزیر اعظم کے دفتر، محکمۂ جوہری توانائی، محکمۂ خلائی امور اور وزارتِ عملہ، عوامی شکایات اور پنشن میں بھی وزیر مملکت کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
ESTIC 2026: Connecting Science with the Aspirations of Viksit Bharat
-By Dr. Jitendra Singh
