کینیڈی ہال میں سرسوتی وندنا، ’’جے شری رام‘‘ اور ’’ہر ہر مہادیو‘‘ کے نعروں کے بعد نئے سوالات
رپورٹ: ایس۔ منیر
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تاریخی کینیڈی ہال میں منعقدہ منڈلیہ باغبانی ترقی سیمینار کے بعد یونیورسٹی کیمپس اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ پروگرام کے دوران سرسوتی پوجا، سرسوتی وندنا اور ’’جے شری رام‘‘ و ’’ہر ہر مہادیو‘‘ کے نعروں کی گونج نے نہ صرف یونیورسٹی کی روایات اور شناخت کے حوالے سے سوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ اے ایم یو انتظامیہ کے کردار کو بھی موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔

پروگرام کے بعد کیمپس میں سامنے آنے والے ردِّعمل کے درمیان یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اب خود کو اس پورے معاملے سے الگ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کے حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر یہ پروگرام یونیورسٹی کے سب سے اہم مقام کینیڈی ہال میں انتظامیہ کی اجازت سے منعقد ہوا تھا تو اب اس سے فاصلہ اختیار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟
ذرائع کے مطابق پروگرام سے قبل بعض طلبہ نے انتظامیہ کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے اپنے اعتراضات درج کرائے تھے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ پراکٹر کی جانب سے انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ یہ کوئی سیاسی پروگرام نہیں بلکہ کسانوں اور باغبانی کی ترقی سے متعلق ایک سرکاری تقریب ہے۔ تاہم پروگرام کے دوران پیش آنے والے مناظر اور نعروں نے اس یقین دہانی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یونیورسٹی کے قواعد کے مطابق کینیڈی ہال میں کسی بھی پروگرام کے انعقاد کے لیے کلچرل ایجوکیشن سینٹر (CEC) کے ڈائریکٹر کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اجازت دینے کے عمل اور انتظامی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دریں اثنا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے ایم یو کی ایم آئی سی پبلک ریلیشنز آفس پروفیسر وبھا شرما نے واضح کیا کہ یہ یونیورسٹی کا پروگرام نہیں بلکہ ریاستی حکومت کا پروگرام تھا اور یونیورسٹی نے صرف مقام فراہم کیا تھا۔ تاہم کیمپس میں بہت سے لوگ اس وضاحت کو بعد از وقوعہ ’’ڈیمیج کنٹرول‘‘ کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
پروفیسر وبھا شرما نے یہ بھی کہا کہ وہ خود پروگرام میں شریک نہیں تھیں۔ اس بیان کے بعد کیمپس میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ اگر یونیورسٹی میں اتنا اہم سرکاری پروگرام منعقد ہوا تو متعلقہ ذمہ دار افسران اس میں کیوں شریک نہیں ہوئے؟
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ یونیورسٹی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے پروگرام کے بارے میں کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی، جبکہ عام طور پر یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے اہم پروگراموں کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کی جاتی ہیں۔ اس امر نے بھی شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی ہے۔
بعض طلبہ، سابق طلبہ اور یونیورسٹی سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا پروگرام یونیورسٹی کی روایات اور بانیِ جامعہ سر سید احمد خاں کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق پروگرام کا یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا، اس لیے اجازت دینے سے قبل اس کے مختلف پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے تھا۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے کو لے کر سخت ردِّعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد پوسٹوں میں یونیورسٹی انتظامیہ پر ادارے کی تاریخی شناخت اور روایات کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اے ایم یو ٹیچرز ایسوسی ایشن، طلبہ تنظیموں اور دیگر حلقوں کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ جمعہ کو کینیڈی ہال میں منعقدہ اس سرکاری پروگرام کے مہمانِ خصوصی اتر پردیش کے وزیرِ مملکت برائے باغبانی دنیش پرتاپ سنگھ تھے۔ ان کی تقریر کے دوران ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے ساتھ ’’جے شری رام‘‘ اور ’’ہر ہر مہادیو‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید اے ایم یو کی تاریخ میں پہلی بار یونیورسٹی کے کسی سرکاری اسٹیج سے اس نوعیت کے نعرے سنائی دیے۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں بھگوا گمچھا پہنے افراد بھی موجود تھے۔ اس تناظر میں سال 2018 کے ایک دفتری حکم نامے کا حوالہ دیا جا رہا ہے جس میں یونیورسٹی کیمپس میں کسی سیاسی جماعت یا گروہ سے وابستگی ظاہر کرنے والے نشانات یا علامتوں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اب بعض طلبہ اور اساتذہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پروگرام کے بعد سیاسی ردِّعمل بھی سامنے آیا۔ سماجوادی پارٹی نے الزام لگایا کہ ایک سرکاری تقریب کو سیاسی رنگ دیا گیا۔ دوسری جانب وزیر دنیش پرتاپ سنگھ نے اپنی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کا ذکر کرتے ہوئے خود کو سناتن دھرم کا پیروکار قرار دیا اور بھارتی ثقافت کے فروغ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کی بات کہی۔
پروگرام کے دوران متھرا سے آئے بعض کسانوں نے گرراج جی اور بانکے بہاری لال کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ قابلِ ذکر ہے کہ کینیڈی ہال میں منعقد ہونے والے بیشتر پروگرام روایتی طور پر تلاوتِ قرآنِ کریم سے شروع ہوتے ہیں اور یونیورسٹی ترانے پر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس پروگرام نے کیمپس میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
اب بنیادی سوال یہی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر انتظامیہ کو پروگرام کی نوعیت کا پہلے سے علم تھا تو اجازت کیوں دی گئی؟ اور اگر اجازت دی گئی تھی تو اب اس سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ یہی سوالات اس وقت اے ایم یو کیمپس میں بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
اس سلسلے میں پروفیسر وبھا شرما سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

