(ایس منیر)
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) اتر پردیش کے ریاستی صدر نظام الدین خان نے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف جاری انہدامی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام پر مبنی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی صرف اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ اس کا نام سینئر سیاسی رہنما اعظم خان سے وابستہ ہے۔ اگر عمارتوں کے نقشوں یا تعمیرات سے متعلق کوئی تکنیکی یا انتظامی اعتراض ہے تو حکومت کے پاس کمپاؤنڈنگ فیس وصول کرکے اور مقررہ جرمانہ عائد کرکے انہیں قانونی دائرے میں لانے کا اختیار موجود ہے۔ ایسے معاملات میں انہدامی کارروائی آخری راستہ ہونا چاہیے، نہ کہ پہلا۔
نظام الدین خان نے کہا کہ ایک ایسے تعلیمی ادارے کو، جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات کا مستقبل وابستہ ہو، مسمار کرنا نہ تعلیم کے مفاد میں ہے اور نہ ہی معاشرے کے۔ اگر کسی قسم کی بے ضابطگی موجود ہے تو اسے قانونی طریقۂ کار کے تحت دور کیا جانا چاہیے، نہ کہ علم کے اس مرکز کو منہدم کرکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اتر پردیش میں ہزاروں کثیر منزلہ عمارتیں ایسی ہیں جن کے نقشے منظور شدہ نہیں ہیں یا جن میں تعمیراتی ضابطوں سے متعلق مختلف بے ضابطگیاں موجود ہیں۔ اگر حکومت کا مقصد واقعی قانون کا یکساں نفاذ ہے تو کیا ان تمام عمارتوں کے خلاف بھی اسی طرح بلڈوزر کارروائی کی جائے گی؟ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے اور اسے کسی خاص فرد یا ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایس ڈی پی آئی اتر پردیش نے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کرنے کی کارروائی پر فوری روک لگانے کا حکم صادر کرے، تاکہ اس معاملے کا منصفانہ اور غیر جانبدارانہ عدالتی طریقے سے فیصلہ ہو سکے۔

