آگرہ میں حضرت سیدنا امیر ابوالعلا احراریؒ کا 387 واں سالانہ عرس عقیدت و احترام کے ساتھ اختتام پذیر، توشہ کی فاتحہ، محفلِ سماع اور رسالہ ’’فنا و بقا‘‘ کی شاندار تقریبِ رونمائی
آگرہ: سلسلۂ ابوالعلائیہ کے بانی، دسویں صدی ہجری کے عظیم روحانی پیشوا حضرت سیدنا امیر ابوالعلا احراریؒ کا 387 واں سالانہ عرس مبارک آگرہ میں نہایت تزک و احتشام، روحانی عقیدت اور مذہبی جوش و خروش کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس روحانی اجتماع میں ملک کے مختلف شہروں سے وابستگانِ سلسلہ اور عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں داناپور، حیدرآباد، رامپور، پیلی بھیت، لکھنؤ، جے پور، دہلی اور دیگر مقامات سے آنے والے زائرین نمایاں رہے۔
عرس کی تقریبات کا آغاز جمعہ کی شب نمازِ عشاء کے بعد منعقدہ محفلِ سماع سے ہوا، جس میں اٹاوا، جے پور، آگرہ اور رامپور کے معروف قوال حضرات نے عارفانہ اور صوفیانہ کلام پیش کیا۔ اس موقع پر حضرت شاہ اکبر داناپوریؒ کے منتخب کلام، جن میں ’’اے آگرے والے‘‘ اور ’’یہی وظیفہ ہے عاشقوں کا‘‘ شامل تھے، پیش کیے گئے، جن سے محفل پر وجد آفریں اور روح پرور کیفیت طاری ہوگئی۔
دوسرے روز صبح دس بجے سے نمازِ ظہر تک محفلِ سماع کا سلسلہ جاری رہا۔ بعد ازاں دوپہر ایک بجے حضرت سیدنا امیر ابوالعلا احراریؒ کے نادر تصوفی رسالے ’’فنا و بقا‘‘ کی شاندار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔
اس موقع پر مولانا سید شاہ محمد ریان ابوالعلائی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سیدنا امیر ابوالعلاؒ کا رسالہ ’’فنا و بقا‘‘ تصوف کے طالبِ علموں، محققین اور اہلِ ذوق کے لیے ایک گراں قدر علمی و روحانی سرمایہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ اس رسالے کا فارسی متن، اردو ترجمہ، تخریج، حواشی اور مفصل مقدمے کے ساتھ خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور کی جانب سے شائع کیا گیا ہے، جو صوفیانہ لٹریچر میں ایک اہم اضافہ ہے۔
بعد ازاں قدیم روایت کے مطابق 182 ویں توشہ کی فاتحہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور کے سجادہ نشیں حضرت حاجی سید شاہ سیف اللہ ابوالعلائی مدظلہ نے اجتماعی دعا کرائی، جس میں ملک و ملت کی سلامتی، امتِ مسلمہ کی فلاح، امن و امان اور پوری انسانیت کی خیر و برکت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
حضرت سجادہ نشیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ عرس مبارک ماضی میں بھی حضرت شاہ قاسم ابوالعلائی داناپوریؒ، حضرت شاہ اکبر داناپوریؒ، حضرت شاہ محسن داناپوریؒ، حضرت شاہ ظفر سجاد داناپوریؒ اور دیگر سجادگانِ خانقاہِ داناپور کی سرپرستی میں نہایت شان و شوکت اور روحانی وقار کے ساتھ منعقد ہوتا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور نے سلسلۂ ابوالعلائیہ کی علمی، روحانی اور تاریخی خدمات کے فروغ میں ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ سلسلے کی نشر و اشاعت، علمی و روحانی کتب کی تدوین و طباعت اور صوفیانہ و تاریخی ورثے کی حفاظت و اشاعت میں اس خانقاہ کی خدمات اپنی مثال آپ ہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

