امن، قومی یکجہتی، تعلیم اور سماجی بہبود کے عزم کا اعادہ
نئی دہلی: آل انڈیا علما بورڈ اپنے سلور جوبلی سال کا جشن منا رہا ہے۔ اس موقع پر تنظیم نے ملک میں امن، قومی یکجہتی، بین الجماعتی و بین المذاہب مکالمے، تعلیم اور سماجی بہبود کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ بورڈ کے مطابق مختلف طبقات اور برادریوں کے درمیان باہمی گفت و شنید اور تعاون کے ذریعے سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
1989 میں تنظیم کا قیام
آل انڈیا علما بورڈ کا آغاز 1989 میں ہوا تھا۔ تنظیم کے مطابق اس وقت ہم خیال مذہبی اور سماجی شخصیات علامہ بنائی حسنی کی رہائش گاہ پر جمع ہوئی تھیں۔ اجلاس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور تعمیری مکالمے کے فروغ کے لیے ایک مؤثر اور متحد تنظیم کی ضرورت پر غور کیا گیا۔
اسی پہل کے نتیجے میں مختلف مسالک اور طبقات کی نمائندگی کرنے والے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر ”آل انڈیا علما بورڈ“ نام تجویز کیا گیا۔
قیادت کا سفر
بورڈ کے پہلے صدر پیر فخرو میاں چشتی مقرر ہوئے، جو اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کے آستانہ کے گدی نشین ہیں۔ علامہ بنائی حسنی بانی و جنرل سکریٹری کی حیثیت سے تنظیم کے قیام سے ہی اس کے مشن اور سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں۔
اس کے بعد مولانا نیاز احمد قاسمی دوسرے صدر بنے، جو دہلی کی عیدگاہ شاہجہانی کے شاہی امام ہیں۔ تیسرے صدر مولانا شہاب الدین سلفی فردوسی رہے۔ موجودہ وقت میں مولانا نوشاد احمد صدیقی تنظیم کے چوتھے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
بورڈ کے مطابق اس کی قیادت نے مذہبی علما، ماہرین تعلیم، سماجی کارکنوں اور مختلف طبقات کے نمائندوں کو مکالمے اور عوامی خدمت کے مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لیے مسلسل کوشش کی ہے۔
سماجی مسائل پر بھی توجہ
گزشتہ برسوں کے دوران آل انڈیا علما بورڈ کی سرگرمیوں کا دائرہ مذہبی مباحث سے آگے بڑھ کر وسیع سماجی مسائل تک پھیلا ہے۔ تنظیم کے پروگراموں اور مکالموں میں مختلف برادریوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ بڑھانے، پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے اور مشترکہ قومی ذمہ داری کے احساس کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔
بورڈ علما اور سماجی رہنماؤں کو پیشہ ور افراد، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے جوڑنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ مکالمے پر مبنی پروگراموں اور عوامی اقدامات کے ذریعے عام شہریوں سے متعلق مسائل پر تعاون کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
تعلیم اور سماجی بہبود پر زور
تعلیم اور سماجی بہبود بورڈ کے مشن کا اہم حصہ ہیں۔ تنظیم کے مطابق تعلیمی بیداری پیدا کرنے، سماجی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینے اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ سماجی چیلنجز سے نمٹنے اور ایک جامع معاشرے کی تشکیل کے لیے مختلف طبقات کے درمیان تعمیری مکالمہ انتہائی ضروری ہے۔
نمایاں خدمات انجام دینے والوں کا اعزاز
آل انڈیا علما بورڈ کی جانب سے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو بھی اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ ان شعبوں میں تعلیم، سماجی خدمت، انسانی خدمت، خواتین کو بااختیار بنانا، صحافت، فنون، جامع سیاست، صحت و طب، کارپوریٹ ترقی اور کاروبار شامل ہیں۔
تنظیم کے مطابق ان اعزازات کا مقصد معاشرے پر مثبت اثر ڈالنے والی شخصیات کی خدمات کو سراہنا اور دوسروں کو بھی عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
سپریم باڈی اور ایوارڈز جیوری
بورڈ کی سپریم باڈی اور ایوارڈز جیوری میں مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔ ان میں لکھنؤ کے ایڈووکیٹ امجد خان، اجمیر کے سید مظفر علی، دہلی کے مفتی طاہر حسین مظاہری، رانچی کے مسٹر بادشاہ خان، ناگپور کے حاجی سہیل پٹیل اشرفی، کولکاتا کے مفتی خالد اعظم حیدری، گلبرگہ کے قاضی رضوان الرحمٰن صدیقی، حیدرآباد کے مولانا ریاض الدین نقشبندی اور ممبئی کی پرنسپل ڈاکٹر زیبا ملک شامل ہیں۔
امن اور قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ
سلور جوبلی سال کے موقع پر آل انڈیا علما بورڈ نے امن، بین الجماعتی مکالمے، تعلیم، سماجی بہبود اور قومی یکجہتی کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستانی معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے، باہمی سمجھ بوجھ بڑھانے اور مکالمے و عوامی خدمت کی سرگرمیوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کام جاری رکھے گی۔
اس موقع پر دہلی ریاست کے صدر جناب شمیم احمد خان کنوینر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔
