مختلف شہروں میں ایصالِ ثواب و تعزیتی مجالس، مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت
دہلی۔ آل انڈیا علماء بورڈ دہلی کے صدر شمیم احمد خان کی والدہ محترمہ گزشتہ دنوں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کی خبر سے اہل خانہ، متعلقین، علماء کرام، بورڈ کے اراکین اور احباب میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مرحومہ کے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کے لیے دہلی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں تعزیتی و دعائیہ مجالس کا انعقاد کیا گیا۔
مختلف مقامات پر منعقدہ مجالس میں علماء کرام نے مرحومہ کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات اور رحمتِ الٰہی کی دعا کی، جبکہ ان کے اہل خانہ بالخصوص شمیم احمد خان سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم کی دعا کی۔
اس سلسلے میں دہلی، نوئیڈا، ممبئی، کولکاتا، حیدرآباد اور پنجاب سمیت مختلف مقامات پر ایصالِ ثواب اور تعزیتی مجالس منعقد ہوئیں۔ دہلی میں مولانا مہدی حسن قاسمی، نوئیڈا میں مفتی طاہر حسین مظاہری، ممبئی میں مولانا نوشاد احمد صدیقی، کولکاتا میں مولانا اسد الحسینی، حیدرآباد میں مولانا ریاض الدین نقشبندی اور پنجاب میں مولانا محمد اکبر قادری نے اپنے اپنے مقامات پر منعقدہ مجالس میں مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی اور پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کیا۔
علماء کرام نے اپنے تعزیتی کلمات میں موت کو ایک اٹل حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا عارضی قیام گاہ ہے اور ہر انسان کو ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ ایسے مواقع انسان کو زندگی کی حقیقت، موت کی یقینی آمد اور آخرت کی تیاری کی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
اس موقع پر دہلی علماء بورڈ کے ناظمِ عمومی علامہ بنی حسنی نے تمام علماء کرام، بورڈ کے اراکین اور ان تمام احباب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مختلف شہروں میں تعزیتی و ایصالِ ثواب کی مجالس منعقد کرکے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی اور غم کی اس گھڑی میں شمیم احمد خان اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی و تعزیت کیا۔
انہوں نے مرحومہ کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، قبر کو نور سے منور فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ساتھ ہی تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل، سکونِ قلب اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
