حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اگر کسی کو بھی احتجاج کرنا ہے یا اپنی بات حکومت تک پہنچانی ہے تو وہ جنتر منتر پر آکر اپنی آواز بلند کر سکتا ہے۔
جمہوری ملک میں اپنی بات رکھنے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے اور یہ حق ہمیں ہمارے آئین نے دیا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ جنتر منتر کو سیل کیوں کر دیا گیا؟
کیا ہمارا ملک سیکولر نہیں رہا؟
یہ سوال ہم سب کے سامنے ہے۔
آج ہر شخص کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ لکھنے والا لکھے، بولنے والا بولے۔ اگر آج ہم صرف خاموش تماشائی بنے رہے تو آنے والی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
جو لوگ آج سڑکوں پر نکل کر ہمارے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔
ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔
— محمد اقبال، آگرہ
