آل انڈیا علماء بورڈ کے امینِ عام علامہ بنی حسنی نے بیرسٹر اسدالدین اویسی کے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا، مسلم عوام سے سیاسی مؤقف پر غور کرنے کی اپیل
اتر پردیش میں مسجد سے متعلق کارروائی اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے معاملے پر سیاسی سرگرمیوں کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی کے مبینہ بیان کو لے کر بحث شروع ہوگئی ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق، سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ نے مسجد سے متعلق معاملے اور انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ اسی دوران SIR کے معاملے پر اپوزیشن کے احتجاج میں اویسی کی عدم شرکت کو لے کر سوال اٹھائے گئے۔
بتایا گیا ہے کہ میڈیا کی جانب سے احتجاج میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر اویسی نے مبینہ طور پر کہا، ’’بیگانے کی شادی میں میرا کیا کام؟‘‘ تاہم، اس بیان اور اس کے سیاق و سباق کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
علامہ بنی حسنی کا سخت ردِعمل
آل انڈیا علماء بورڈ کے امینِ عام علامہ بنی حسنی نے اویسی کے مبینہ بیان پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ SIR کے معاملے میں مسلمانوں کے خدشات اور انتخابی فہرستوں سے متعلق مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
علامہ بنی حسنی نے مسلم عوام پر زور دیا کہ وہ اویسی کی سیاست اور ان کے بیانات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور اپنے سیاسی فیصلے کرتے وقت عوامی مسائل، نمائندگی اور عملی کردار کو اہمیت دیں۔
مسلم مسائل اور سیاسی نمائندگی پر بحث
اس معاملے نے مسلم سیاسی نمائندگی، انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور عوامی مسائل پر سیاسی جماعتوں کے کردار کے حوالے سے بحث کو جنم دیا ہے۔ تاہم، احتجاج میں عدم شرکت کی وجوہات اور اویسی کے بیان کے مکمل پس منظر کو جاننے کے لیے ان کا مؤقف بھی سامنے آنا ضروری ہے۔
Times of Taj | اردو نیوز
