رپورٹ۔ شوذب منیر
مدارس کے بچوں کا شاندار مظاہرہ، فاتح کھلاڑیوں کو ٹرافی، تمغوں اور نقد انعامات سے نوازا گیا؛ انسانیت فاؤنڈیشن، امید ایجوکیشن ویلفیئر اور ابن سینا اکیڈمی کی مشترکہ پہل
علی گڑھ۔کھیل کے میدان میں قدم رکھنے کے لیے بڑے اداروں سے وابستگی نہیں، بلکہ حوصلہ، محنت اور صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ علی گڑھ کے مدارس کے طلبہ نے دانپور کمپاؤنڈ میں منعقدہ بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کے دوران اپنے کھیل سے یہ پیغام دیا کہ انہیں بھی مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ بڑے مقابلوں میں اپنی شناخت بنا سکتے ہیں۔ مختلف مسالک کے مدارس سے تعلق رکھنے والے بچوں نے کورٹ میں بھرپور کھیل پیش کیا اور حاضرین کی داد حاصل کی۔ ظہر کے بعد شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں مقابلوں کا سلسلہ عشاء تک جاری رہا۔ اس دوران کھلاڑیوں کے جوش و جذبے نے نہ صرف کھیل کے ماحول کو پرجوش بنایا بلکہ اولمپک جیسے عالمی مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کرنے کے خوابوں کو بھی تقویت دی۔
ٹورنامنٹ کا افتتاح سابق ضلع جج بدر الدجا نقوی نے کیا۔ مقابلے میں مدرسہ علوم الاسلامیہ کے محمد اقدس حسین نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی اور بیڈمنٹن کپ اپنے نام کرلیا۔ البحیر اکیڈمی کے عمر عیاز دوسرے مقام پر رہے، جبکہ فیض المکاتب اکیڈمی کے عفان نے تیسری اور مدرسہ اصحاب صفا کے زید بن عمر نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ ان چاروں کامیاب کھلاڑیوں کو ٹرافی، بیڈمنٹن ریکٹ، شٹل کاک اور کامیابی کی علامت کے طور پر کیپ پہنائی گئی۔ اس کے علاوہ فائنل مقابلے کے دونوں نمایاں کھلاڑیوں کو ہزاروں روپے کے نقد انعامات دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
منتظمین نے انعامات کی تقسیم کو صرف پہلی چار پوزیشن تک محدود نہیں رکھا، بلکہ مختلف مرحلوں میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو بھی سراہا۔ کوارٹر فائنل تک پہنچنے والے آٹھ کھلاڑیوں کو گولڈ میڈل دیے گئے، جبکہ لیگ میچ جیتنے والے ۱۸ کھلاڑیوں کو چاندی کے تمغوں سے نوازا گیا۔ مزید برآں، قرعہ اندازی کے ذریعے ۱۵ بچوں کو سامعین اور منتظمین کی جانب سے نقد انعامات دیے گئے۔ اس انتظام کے ذریعے ان بچوں کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی جو پہلی چار پوزیشنیں حاصل نہیں کرسکے، لیکن انہوں نے ٹورنامنٹ میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔؎
مدارس کے طلبہ کی شرکت کے معاملے میں مدرسہ دائرہ العلوم، ٹن ٹن پاڑہ نمایاں رہا، جہاں سے سب سے زیادہ ۱۷ ؍بچے ٹورنامنٹ میں شریک ہوئے۔ اس نمایاں شرکت کے اعتراف میں مدرسے کے مہتمم کو دو بیڈمنٹن ریکٹ اور شٹل کاک دیے گئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مدرسے کے بچے کھیلوں کی سرگرمیوں میں مزید حصہ لیں اور مستقبل میں اپنی کارکردگی کے ذریعے ملک کا نام روشن کرسکیں۔ منتظمین نے اس اقدام کے ذریعے مدارس میں کھیلوں کے شوق کو فروغ دینے اور طلبہ کو آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی۔
مقابلوں کو منظم انداز میں مکمل کرانے کے لیے ریفری اور اسکورنگ کی ذمہ داریاں بھی مختلف افراد نے سنبھالیں۔ غلام ربانی اور افروز عالم نے ریفری کے فرائض انجام دیے، جبکہ ڈاکٹر ضیا الرحمان ، انجینئر فضل اور کمانڈنٹ عمران خان نے اسکورنگ کی ذمہ داری نبھائی۔ ٹورنامنٹ کی کمنٹری لکھنو سے تشریف لائے سابق ضلع جج بدر الدجا نقوی نے اپنے منفرد اور شاندار انداز میں کی۔ وہ اس پروگرام کے اول مشیر اعلی بھی تھے۔ ان کی کمنٹری نے مقابلوں کے دوران جوش و خروش بڑھانے کے ساتھ حاضرین کی دلچسپی بھی برقرار رکھی۔
پروگرام میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے گیمز سکریٹری اور عالمی شہرت یافتہ شخصیت پروفیسر یوسف الزماں نے مہمان خصوصی کی دعوت قبول کرکے شرکت کی اور تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔ مہمان اعزازی کی حیثیت سے راشد شاز، دبئی سے تشریف لانے والی راشدہ نسیم اور شعبہ شیعہ دینیات کے سابق چیئرمین پروفیسر مولانا طیب رضا بھی موجود رہے۔ ان شخصیات نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی اور کھیلوں کو نوجوانوں کی صلاحیتیں نکھارنے، ان میں اعتماد پیدا کرنے اور انہیں مثبت سرگرمیوں سے وابستہ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔

انسانیت فاؤنڈیشن کے سکریٹری انجینئر راحت سلطان نے اس ٹورنامنٹ کے انعقاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ایک ماہ تک جاری رہنے والی تیاریوں، منتظمین کے ساتھ مسلسل رابطے اور مختلف مدارس کے بچوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوششوں نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم حصہ ادا کیا۔ ان کی کاوشوں کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ انہوں نے مدارس کے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک ایسا موقع فراہم کرنے میں تعاون کیا جہاں ان کی کارکردگی کو سراہا گیا اور انہیں مزید آگے بڑھنے کی ترغیب ملی۔ ایسے اقدامات بچوں میں خود اعتمادی، نظم و ضبط، محنت اور ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ مختلف مسالک کے طلبہ کو ایک ساتھ کھیلنے کا موقع فراہم کرکے انجینئر راحت سلطان نے باہمی میل جول اور تعاون کی راہ بھی ہموار کی۔ ان کی کوششیں اس بات کی مثال ہیں کہ مسلسل محنت، اجتماعی تعاون اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے مفید اور دیرپا سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
اس پروگرام کو عملی شکل دینے میں خصوصی میزبان پدم شری حکیم ظل الرحمان، معروف کینسر اسپیشلسٹ ڈاکٹر محسن رضا، ڈاکٹر پروفیسر اظہار بلگرامی، محمد حامد، انزار صابری، ڈاکٹر ذاکر، محمد ادیب سلطان اور محمد صالحین سمیت پوری ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔ ٹیم نے لگاتار ایک ماہ تک محنت کرکے اس تقریب کے انعقاد کو ممکن بنایا۔ پروگرام کی نظامت انسانیت فاؤنڈیشن کے سکریٹری محمد راحت سلطان اسرائیلی نے انجام دی۔ منتظمین کی مشترکہ کوششوں سے یہ ٹورنامنٹ محض کھیلوں کا مقابلہ نہیں رہا، بلکہ طلبہ کی حوصلہ افزائی، مختلف مدارس کے درمیان رابطے اور باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کا ایک اہم موقع بھی بن گیا۔
انسانیت فاؤنڈیشن، امید ایجوکیشن ویلفیئر اور ابن سینا اکیڈمی کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہونے والے اس ٹورنامنٹ نے مدارس کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں آگے بڑھنے کے امکانات کو نمایاں کیا۔ مختلف مسالک کے مدارس کے بچوں کی ایک ہی میدان میں شرکت نے یہ پیغام دیا کہ کھیل باہمی رابطے بڑھانے اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دینے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں انعامات کی تقسیم سے لے کر زیادہ تعداد میں بچوں کو شریک کرنے والے مدرسے کی حوصلہ افزائی تک، مختلف اقدامات نے طلبہ کو آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ منتظمین کو امید ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے مدارس کے بچوں میں کھیلوں کے تئیں دلچسپی بڑھے گی اور وہ مستقبل میں ضلعی، ریاستی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے مزید محنت کریں گے۔ اس پہل کا مقصد یہی ہے کہ بچوں کے خوابوں کو مواقع میسر آئیں اور وہ کھیل کے میدان میں بھی اپنی کامیابیوں سے ملک کا نام روشن کرسکیں۔
