محمد نعمان اشرف 7,797 ووٹ لے کر طلبہ یونین کے صدر منتخب، نشرہ نعیم نائب صدر اور محمد ہمدان اعزازی سکریٹری منتخب؛ طالبات کی نمایاں کامیابی نے انتخابات کو بنایا خاص
علی گڑھ، : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے اپنی پائیدار جمہوری روایت کو برقرار رکھتے ہوئے طلبہ یونین، ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین اور اے ایم یو کورٹ کے طلبہ نمائندوں کے انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا ہے۔ 5 نومبر کو منعقدہ ووٹنگ کے بعد سامنے آنے والے نتائج میں طلبہ کے ساتھ طالبات نے بھی نمایاں کامیابی حاصل کی۔
اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں محمد نعمان اشرف 7,797 ووٹ حاصل کرکے صدر منتخب ہوئے، جبکہ نشرہ نعیم نے 7,091 ووٹ حاصل کرکے نائب صدر کا عہدہ حاصل کیا۔ محمد ہمدان 8,385 ووٹوں کے ساتھ اعزازی سکریٹری منتخب ہوئے۔
یونین کی دس رکنی کابینہ میں محمد احمد خان (10,794 ووٹ)، ہانیہ خان (8,266)، اریبہ دلشاد (7,091)، شاذیہ شمیم (6,332)، محمد محسن کے (6,267)، محمد مرشد کے (5,644)، ارسلان خان (4,680)، انیکا رُمان راہی (4,498)، شاہین پروین (4,098) اور محمد فیض (4,035) نے کامیابی حاصل کی۔
ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین کے نتائج
ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین میں انعم ریاض 806 ووٹ حاصل کرکے صدر منتخب ہوئیں، جبکہ عائشہ خان نے 1,090 ووٹ حاصل کرکے نائب صدر کا عہدہ حاصل کیا۔ مریم جان 862 ووٹوں کے ساتھ اعزازی سکریٹری منتخب ہوئیں۔
آٹھ رکنی کابینہ میں جویریہ رحمان 1,485 ووٹ حاصل کرکے سرفہرست رہیں۔ ان کے علاوہ آمنہ خانم (1,445)، ہبہ منال (1,325)، صبیحہ (1,251)، ذکیہ مرتضیٰ (1,124)، خوشبو پروین (1,118)، مہوش (1,081) اور فاطمہ حسن (1,079) نے کامیابی حاصل کی۔
اے ایم یو کورٹ کے لیے 11 طلبہ نمائندے منتخب
اے ایم یو کورٹ کے انتخابات میں مختلف فیکلٹیوں اور فیکلٹی گروپس سے 11 طلبہ نمائندے منتخب ہوئے۔ ان میں محمد کیف (فیکلٹی آف میڈیسن، 1,147 ووٹ)، آمنہ فیضان (فیکلٹی آف یونانی میڈیسن، 216 ووٹ)، شہنشاہ خان (فیکلٹی آف سائنس، 941 ووٹ)، محمد رافع (فیکلٹی آف لائف سائنسز، 383 ووٹ)، محمد کمیل اشرف (فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، 1,384 ووٹ)، محمد حمزہ انصاری (فیکلٹی آف لاء، 321 ووٹ)، محمد احسن عثمانی (فیکلٹیز آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ اور انٹرنیشنل اسٹڈیز، 241 ووٹ)، محتشم اعجاز ثانی (فیکلٹیز آف ایگریکلچرل سائنسز، تھیولوجی اور کے۔ اے۔ نظامی سینٹر فار قرآنک اسٹڈیز، 294 ووٹ)، عبدالباسط صدیقی (فیکلٹی آف سوشل سائنسز، 743 ووٹ)، کفیل الحق (فیکلٹی آف آرٹس، 495 ووٹ) اور علمہ مشروف (فیکلٹی آف کامرس، 336 ووٹ) شامل ہیں۔
طالبات کی نمایاں شرکت انتخابات کا اہم پہلو
اس سال کے انتخابات میں خواتین کی نمایاں شرکت اور کامیابی خاص طور پر قابل ذکر رہی۔ اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کی نائب صدر نشرہ نعیم منتخب ہوئیں، جبکہ دس رکنی کابینہ میں پانچ طالبات نے کامیابی حاصل کی۔ اے ایم یو کورٹ کے لیے بھی آمنہ فیضان اور علمہ مشروف طالبات کی نمائندگی کریں گی۔ وہیں ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین میں نئی عہدیداران کے ساتھ آٹھ کابینہ اراکین کا انتخاب عمل میں آیا۔
وائس چانسلر نے نومنتخب نمائندوں کو دی مبارکباد
نتائج کا اعلان اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین اور اے ایم یو کورٹ انتخابات کے چیف الیکشن آفیسر پروفیسر جاوید طالب اور ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین کی چیف الیکشن آفیسر پروفیسر نازیہ حسن نے کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے انتخابات کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نومنتخب عہدیداران، کابینہ اراکین اور کورٹ نمائندوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ جمہوری عمل کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ طلبہ نے پورے جوش و خروش کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لیا۔
انہوں نے چیف الیکشن آفیسرز، پراکٹر، ڈینز اور یونیورسٹی انتظامیہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سب نے منصفانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا۔ انہوں نے اساتذہ اور طلبہ کے تعاون کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ نومنتخب نمائندے دیانت داری اور عزم کے ساتھ طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔
پرامن انتخابات پر انتظامیہ اور طلبہ کی ستائش
پروفیسر جاوید طالب اور پروفیسر نازیہ حسن نے اپنی انتخابی ٹیموں، پولنگ عملے، یونیورسٹی حکام اور دیگر معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امیدواروں، طلبہ رضاکاروں اور ووٹروں کے تعاون کو بھی سراہا۔
پراکٹر پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری نے پراکٹوریل ٹیم، سکیورٹی عملے اور دیگر اہلکاروں کی محنت اور لگن کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے انتخابی عمل کے دوران نظم و ضبط، تحمل اور باہمی احترام کا مظاہرہ کیا، جس سے پورے کیمپس میں پرامن ماحول برقرار رہا۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔
انتخابات کے آغاز سے نتائج کے اعلان تک طلبہ اور اساتذہ نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ اس طرح اے ایم یو کے یہ انتخابات یونیورسٹی برادری کی مشترکہ کوشش اور اس کی جمہوری روایت کے تسلسل کی علامت بن کر سامنے آئے۔
