اردو کے ڈیجیٹل فروغ، قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور نئی نسل کو اردو سے جوڑنے پر زور؛ عالمی سطح پر اردو کی شناخت بڑھانے کی ضرورت پر اظہار خیال
نئی دہلی، قومی اردو زبان ترقیاتی کونسل ، نئی دہلی کے صدر دفتر میں ادارے کے نو مقررہ ڈائریکٹر شری یانش موہن کا گلدستہ پیش کرکے پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر کونسل کے افسران اور ملازمین نے ان کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے تمام افسران اور ملازمین سے تعارف حاصل کیا اور ان کے ساتھ تبادلۂ خیال بھی کیا۔
اپنے خطاب میں شری یانش موہن نے کہا کہ حکومتِ ہند نے انہیں مختلف ذمہ داریوں کے ساتھ قومی اردو زبان ترقیاتی کونسل کی ذمہ داری بھی سونپی ہے، جسے وہ پوری لگن، دیانت داری اور خلوص کے ساتھ انجام دیں گے۔ انہوں نے افسران اور ملازمین سے اپیل کی کہ وہ باہمی تعاون، اتحاد اور ٹیم ورک کے جذبے کے ساتھ کام کرتے ہوئے ادارے کی ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔
مثبت سوچ اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خوش رہنا ضروری ہے، کیونکہ ایک خوش انسان ہی خوشگوار معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے ملازمین سے کہا کہ وہ اپنی توانائی اور صلاحیتوں کو ملک اور ادارے کے مفاد میں تعمیری کاموں کے لیے استعمال کریں۔
ٹیم ورک کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے معروف شاعر مجروح سلطان پوری کا یہ مشہور شعر بھی پڑھا:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
ہندوستانی زبانوں اور ادب سے اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر نے کہا کہ اردو اپنی تہذیب، شیرینی اور شاندار ادبی ورثے کی وجہ سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو کے فروغ اور نئی نسل کو اس زبان سے جوڑنے کے لیے نئے مواقع اور امکانات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کونسل کے تعلیمی، ادبی اور تربیتی پروگراموں کو مزید مؤثر انداز میں نافذ کرنے اور ان کی وسیع پیمانے پر تشہیر کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال سے اردو زبان کو نوجوانوں، طلبہ اور عام لوگوں تک پہنچایا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ اردو کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور روزگار سے وابستہ سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے بھی بامعنی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
بین الاقوامی سطح پر اردو کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے شری یانش موہن نے برکس جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر ہندوستانی زبانوں اور ادب کی موجودگی بڑھانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عالمی پلیٹ فارم ہندوستان کی لسانی کثرت اور ثقافتی تنوع کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اردو ادب، ترجمہ اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے ہندوستانی لسانی ورثے کو عالمی شناخت دلانے کی کوششیں کی جاسکتی ہیں۔
اس موقع پر کونسل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت دیگر افسران اور ملازمین موجود رہے۔
