’
نئی دہلی:پارلیمنٹ میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے خطبۂ صدر پر راجیہ سبھا میں تحریکِ تشکر پر بحث کے دوران کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے ملک کے موجودہ حالات پر شدید تنقید کرتے ہوئے اقتدار پر قابض عناصر کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ اپنے پُراثر اور جارحانہ خطاب میں انہوں نے حکومت کی پالیسیوں، سماجی انصاف کی صورتحال اور اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔عمران پرتاپ گڑھی نے اپنے خطاب کا آغاز ایک علامتی انداز میں کرتے ہوئے کہا کہ جب ایوانِ پارلیمنٹ میں صدرِ جمہوریہ کی آواز حکومت کی تعریف میں گونج رہی تھی، اسی وقت چھتیس گڑھ کے ہسدیو جنگلات میں قبائلی زندگی کو سہارا دینے والے درختوں پر کلہاڑی چلنے کی آوازیں ان کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم صدر کے خطاب پر میز تھپتھپا رہے تھے، تو دوسری طرف اتراکھنڈ کی انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کی آواز مدھم پڑتی جا رہی تھی اور یہ سوال آج بھی باقی ہے کہ وہ وی آئی پی کون تھا، جس کے لیے انکیتا کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔کانگریس رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ جب صدرِ جمہوریہ سماجی انصاف کی بات کر رہی تھیں، اسی دوران اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں پولیس ایک ایسے نوجوان دیپک کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رہی تھی، جو نفرت پھیلانے والوں سے ایک بزرگ کو بچا رہا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے ’نیو انڈیا‘ میں فساد برپا کرنے والوں پر ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، مگر امن، محبت اور بھائی چارے کی بات کرنے والوں کو مجرم بنا دیا جاتا ہے۔عمران پرتاپ گڑھی نے آسام کے وزیر اعلیٰ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سرعام آئینی پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ظلم کی بات کرتے ہیں اور انہیں ریاست چھوڑنے پر مجبور کرنے جیسے بیانات دیتے ہیں، جو نہایت تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں اقلیتی طبقہ مسلسل نشانے پر ہے اور یہ صورتِ حال جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔انہوں نے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کہیں خالی مکان میں نماز ادا کرنے پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں، کہیں کرسمس کی تیاری کے دوران عیسائیوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں، مدھیہ پردیش کے بیتول میں محمد نعیم کے قائم کردہ اسکول پر بلڈوزر چلایا جاتا ہے، بنارس کی دال منڈی میں عدالت کے اسٹے کے باوجود سینکڑوں دکانیں توڑ دی جاتی ہیں، اور جموں و کشمیر میں نیٹ کوالیفائی کرنے والے 42 مسلم طلبہ کو میڈیکل کالج میں داخلہ ملنے کے بعد ان کی منظوری منسوخ کر دی جاتی ہے، جس پر کچھ لوگ جشن مناتے ہیں۔کانگریس رکن نے بی جے پی لیڈروں کی جانب سے ملک کی معزز شخصیات کے خلاف توہین آمیز رویے پر بھی سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو نسل اپنے بزرگوں کو برا بھلا کہتی ہے، قدرت اس کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔ بی جے پی لیڈر پنڈت جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ نہرو جی کے قد کو کبھی کم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں نہرو کا نام البرٹ آئن اسٹائن کے ساتھ لیا جاتا ہے، جب کہ نریندر مودی کا نام ایپسٹین کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
خطاب کے دوران حکمراں جماعت کے ارکان کی جانب سے کئی بار ہنگامہ آرائی کی گئی، تاہم عمران پرتاپ گڑھی اپنی بات کہتے رہے۔ ایوان کی کارروائی سنبھال رہے نائب صدرِ ایوان ہری ونش نے اس موقع پر کہا کہ بعض قابلِ اعتراض الفاظ کو کارروائی کے ریکارڈ سے حذف کر دیا جائے گا۔

