رپورٹ: ایس۔ منیر
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ٹیکنیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کلب میں غیر تدریسی ملازمین کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے بڑی تعداد میں ملازمین نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت مشترکہ ایکشن کمیٹی برائے غیر تدریسی ملازمین، اے ایم یو کے کنوینر، ٹیکنیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے سابق سیکریٹری اور فیڈریشن آف سینٹرل یونیورسٹیز اسٹاف کے قومی نائب صدر ریحان احمد نے کی۔
اجلاس میں برسوں سے زیر التوا عارضی اور ایڈہاک غیر تدریسی ملازمین کی مستقل تقرری کے مسئلے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ کئی برسوں سے پوری دیانت داری، ذمہ داری اور لگن کے ساتھ خدمات انجام دینے والے ملازمین آج بھی مستقل تقرری کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل تاخیر نے ملازمین میں بے چینی، مایوسی اور عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
شرکا نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو خط، نمائندہ وفد اور یادداشت کے ذریعے مطالبہ پیش کیا جائے گا کہ عارضی اور ایڈہاک غیر تدریسی ملازمین کی مستقل تقرری کے معاملے پر فوری اور سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے جلد حتمی فیصلہ کیا جائے۔ ملازمین نے واضح کیا کہ اب مزید تاخیر کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوگی اور انتظامیہ کو ان کے جائز مطالبات پر مثبت اور ٹھوس پیش رفت کرنی چاہیے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریحان احمد نے کہا کہ برسوں سے زیر التوا اس جائز مطالبے پر یونیورسٹی انتظامیہ کو پوری ذمہ داری اور حساسیت کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی اور ایڈہاک ملازمین کے ساتھ انصاف کرنا صرف انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ جو ملازمین برسوں سے ادارے کی خدمت کر رہے ہیں، انہیں ان کا جائز حق ملنا چاہیے تاکہ وہ اطمینان اور اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
اجلاس میں واضح انتباہ دیا گیا کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ نے جلد کوئی مثبت، ٹھوس اور فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا تو غیر تدریسی ملازمین اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے وسیع اور جمہوری تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ شرکا نے کہا کہ موجودہ اجلاس اسی ممکنہ تحریک کا ابتدائی اشارہ ہے، اور اگر حالات اس نہج تک پہنچتے ہیں تو اس کی مکمل ذمہ داری انتظامیہ کی مسلسل تاخیر اور بے توجہی پر عائد ہوگی۔
اجلاس میں نظر حیدر، مشہود، محمد امجد، سید محمد انس، انیس شاہ، نصار احمد سمیت بڑی تعداد میں غیر تدریسی ملازمین موجود رہے۔ تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملازمین کے مفاد میں فوری، منصفانہ اور مثبت فیصلہ ہی حالات کو بہتر بنا سکتا ہے، اور مزید تاخیر کسی بھی فریق کے حق میں نہیں ہوگی۔

