مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا اظہارِ تعزیت، امیرِ جمعیت نے وفات کو ملت کا بڑا خسارہ قرار دیا
نئی دہلی، : صوبائی جمعیت اہل حدیث مدھیہ پردیش کے سابق ناظم، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے سابق نائب ناظم برائے تنظیم، معروف دینی، ملی، ادبی شخصیت اور کہنہ مشق شاعر مولانا عبید الرحمن وفا صدیقی طویل علالت کے بعد جمعہ کی صبح تقریباً 10 بجے 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مولانا وفا صدیقی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات نہ صرف جماعت بلکہ ملک و ملت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا وفا صدیقی انتہائی شریف النفس، خوش اخلاق، ملنسار، مہمان نواز اور دینی، ملی و جماعتی جذبے سے سرشار شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے پوری زندگی دین، ملت اور اردو ادب کی خدمت میں گزاری۔
مولانا وفا صدیقی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی اراکین میں شامل تھے، جبکہ آل انڈیا ملی کونسل کی مجلس عاملہ کے رکن سمیت کئی اہم دینی و ملی اداروں میں مختلف ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہے۔ ان کا آبائی تعلق آگرہ سے تھا، تاہم انہوں نے بھوپال کو مستقل سکونت اختیار کیا اور شہر کی ممتاز سماجی و علمی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
ادبی میدان میں بھی مولانا وفا صدیقی نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے شعری مجموعے “تارِ پیرہن”، “نقشِ وفا”، “تابندہ نقش” اور “سارے جہاں سے اچھا” شائع ہو چکے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، تاہم نظم نگاری میں بھی ان کا منفرد مقام تھا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی متعدد آل انڈیا کانفرنسوں میں انہوں نے اپنے خوبصورت کلام سے سامعین کو متاثر کیا۔
ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، علامہ اقبال اکیڈمی اور کہکشاں ادب سمیت مختلف اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا تھا۔
مرحوم کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کی اہلیہ کا انتقال چند برس قبل ہو چکا تھا۔ پسماندگان میں ایک بھائی، دو بہنیں، متعدد بھتیجے، بھتیجیاں، بھانجے اور بھانجیاں شامل ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ عصر جامع مسجد اہل حدیث، نیو کباڑ خانہ، بھوپال میں ادا کی گئی، جس میں علماء، دینی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے دیگر ذمہ داران اور کارکنان نے بھی مولانا عبید الرحمن وفا صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت، بلندیٔ درجات اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی دینی، ملی اور ادبی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

