علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی ادارہ جاتی شکایات کمیٹی (آئی سی سی) کی پریزائیڈنگ آفیسر پروفیسر ثمینہ خان نے نئی دہلی کے وگیان بھون میں قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کے زیر اہتمام پوش ایکٹ (کام کی جگہوں پر خواتین کی جنسی ہراسانی سے تحفظ کا قانون) سے متعلق بیداری و تربیتی پروگرام میں یونیورسٹی کی نمائندگی کی۔
اس قومی پروگرام میں دہلی-این سی آر کے سرکاری محکموں، تعلیمی اداروں اور نجی تنظیموں سے تقریباً 1200 شرکاء نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد پوش ایکٹ کے مؤثر نفاذ، بیداری، تعمیل اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
افتتاحی اجلاس سے مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال بہبود محترمہ اناپورنا دیوی نے خطاب کیا، جبکہ قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن محترمہ وجیاراہتکر نے بھی شرکاء سے اظہارِ خیال کیا۔
تربیتی سیشنز میں ماہرین نے پوش ایکٹ کے قانونی پہلوؤں، شکایت کنندگان اور جواب دہندگان کے حقوق و ذمہ داریوں، نیز ادارہ جاتی و مقامی کمیٹیوں کی جانب سے تحقیقات کے طریقۂ کار پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔ اس موقع پر ایک معلوماتی کتابچہ بھی جاری کیا گیا اور پوش تربیت کاروں کو اعزازات سے نوازا گیا۔
پروفیسر ثمینہ خان نے کہا کہ اس تربیت سے انہیں کام کی جگہوں پر موصول ہونے والی شکایات کو منصفانہ، حساس اور شفاف انداز میں نمٹانے کے جدید طریقۂ کار سے آگاہی حاصل ہوئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تربیت سے حاصل ہونے والا تجربہ اے ایم یو میں پوش ایکٹ کے مؤثر نفاذ اور ایک محفوظ، مساوی اور صنفی حساس تعلیمی ماحول کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔

