ہزاروں طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سماجوادی تنظیموں نے اے ڈی ایم جوڈیشیل کو سونپا میمورنڈم
علی گڑھ (ایس منیر)
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ انہدامی کارروائی کے معاملے پر علی گڑھ میں سیاسی اور طلبہ تنظیموں نے مخالفت کرتے ہوئے اسے صرف ایک تعلیمی ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے جڑا معاملہ قرار دیا ہے۔
اس سلسلے میں ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ، اتر پردیش اور سماجوادی چھاتر سبھا، مہانگر علی گڑھ کے عہدیداران نے اتر پردیش کی گورنر کے نام ایک میمورنڈم ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ (جوڈیشیل) انیل کمار کو پیش کیا۔ میمورنڈم کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ جوہر یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ کارروائی پر فوری روک لگائی جائے، معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے اور وہاں زیر تعلیم طلبہ کے تعلیمی حقوق و مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
میمورنڈم میں کہا گیا کہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ریاست کے اہم تعلیمی اداروں میں شامل ہے، جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اگر یونیورسٹی سے متعلق کوئی قانونی یا انتظامی تنازع موجود ہے تو اس کا حل آئین اور قانون کے دائرے میں نکالا جانا چاہیے، تاکہ طلبہ کی تعلیم، اساتذہ کی ملازمتوں اور دیگر ملازمین کے روزگار پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ اتر پردیش کے ریاستی سکریٹری ایڈووکیٹ عمران پٹھان نے کہا کہ تعلیمی ادارے صرف عمارتیں نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں۔ کسی بھی قانونی تنازع کا حل طاقت یا جلد بازی سے نہیں بلکہ عدالتی عمل اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی ادارے سے متعلق قانونی سوال موجود ہے تو اس کا فیصلہ عدالت کرے گی، نہ کہ بلڈوزر۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مجوزہ کارروائی پر روک لگائے اور مکمل غیر جانبدارانہ جانچ کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے۔
سماجوادی چھاتر سبھا کے مہانگر صدر محسن میواتی نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی ہزاروں نوجوانوں کے خوابوں سے وابستہ ادارہ ہے۔ انہوں نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے میں فوری مداخلت کریں اور طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں اختلافات کا حل قانون اور آئین کے مطابق تلاش کیا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات جن سے طلبہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں، تعلیمی ماحول اور عوامی اعتماد دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔
اس موقع پر ایڈووکیٹ عمران پٹھان، محسن میواتی، سابق ریاستی سکریٹری عرفان خان، فیضان پٹھان، ناصر، سیف، سابق ضلع صدر انس احمد، پربھات، سمیر، عامر، شان، امن سمیت بڑی تعداد میں کارکن اور عہدیداران موجود رہے۔ شرکاء نے طلبہ کے حقوق، آئینی اقدار اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

