آگرہ۔سکندرا کی مسجد نہر والی میں جمعہ کے روز ایک پُرامن، فکرانگیز اور روحانی ماحول دیکھنے کو ملا، جہاں خطیب محمد اقبال نے اپنے خطبۂ جمعہ میں مسلمانوں کو قرآن سے جڑنے، اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے اور آخرت کی کامیابی کے لیے عملی زندگی سنوارنے کی تلقین کی۔
خطبے میں قرآنِ مجید کی سورۂ طٰہٰ اور سورۂ لقمان کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے خطیب نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو بار بار اپنی نشانیوں کے ذریعے سوچنے اور سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی بے چینی اور تنگی کی سب سے بڑی وجہ قرآن سے دوری ہے، اور جب انسان قرآن کو سمجھ کر اپنی زندگی میں شامل کرتا ہے تو سکون، صبر اور درست سمت نصیب ہوتی ہے۔
خطیب محمد اقبال نے خاص طور پر نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ
“آج کی نسل اگر قرآن کو رہنما بنا لے تو نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ کی رحمت اور ہدایت ہر اس انسان کے لیے ہے جو سچے دل سے غور و فکر کرے اور نیکی کے راستے پر چلنے کا عزم کرے۔
نمازیوں نے خطبہ کو دل کو چھو لینے والا قرار دیا اور کہا کہ ایسے بیانات انسان کو خود احتسابی، اصلاح اور اللہ سے مضبوط تعلق کی طرف مائل کرتے ہیں۔ خطبے کے بعد مسجد میں ایک پُرسکون اور روحانی کیفیت محسوس کی گئی۔
یہ خطبہ اس بات کی امید افزا مثال بنا کہ اگر معاشرے میں قرآن فہمی اور اخلاقی بیداری کو فروغ دیا جائے تو فرد اور سماج دونوں میں بہتری ممکن ہے۔

