(1003ھ / 1594ء – 1057ھ / 1647ء)آگرہ کی سرزمین اولیاء و صلحاء کی آماجگاہ رہی ہے، اور انہی درخشاں ہستیوں میں ایک بلند مقام نام مخدوم جہانی حضرت سید جلال بخاری اکبرآبادیؒ کا ہے۔ آپ کا مزار پرانوار آج بھی دریا کے کنارے، تاج محل کے قریب ایک بلند چبوترے پر واقع ہے اور روحانی فیضان کا مرکز بنا ہوا ہے۔ روزانہ سیکڑوں عقیدت مند اپنی منتوں کی تکمیل پر شکرانہ ادا کرنے یا دعاؤں کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے گویا ہر وقت ایک روحانی دربار سجا ہو۔اولیائے کرام کی شان یہ ہے کہ سلطنتیں بدل جاتی ہیں، عہد گزر جاتے ہیں، سیاست دان اور ان کی سیاست قصۂ پارینہ بن جاتی ہے، مگر ان کا روحانی فیض جاری رہتا ہے۔ جو لوگ ان کی سیرت و کردار سے واقف نہیں بھی ہوتے، وہ بھی وہاں ایک عجیب روحانی کشش محسوس کرتے ہیں۔ولادت و نسب
آپ کی ولادت 15 جمادی الثانی 1003ھ کو احمد آباد (گجرات) میں حضرت سید محمد بخاری کے گھر ہوئی۔ ولادت کی شعری تاریخ “وارثِ رسول” بیان کی جاتی ہے۔آپ کا سلسلۂ نسب مشہور بزرگ حضرت شاہ عالم گجراتی سے جا ملتا ہے، جو سلسلہ وار حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردیؒ کی اولاد میں سے تھے۔ شاہ عالم احمد آباد کے عظیم قطب اور صاحبِ تصرف بزرگ تھے، جن کی درگاہ آج بھی مرجع خلائق ہے۔آپ کے والد حضرت سید میر محمد بخاری اپنے وقت کے جلیل القدر عالم، صاحبِ فقر و توکل اور علومِ معرفت کے وارث تھے۔ مغل بادشاہ جہانگیر اور بعد ازاں شاہ جہاں کو بھی اس خانوادۂ سادات سے گہرا اعتقاد تھا۔آگرہ آمد اور شاہی مناصب
والد کے حکم پر آپ دارالحکومت آگرہ تشریف لائے۔ شاہ جہاں نے نہایت عزت و تکریم کے ساتھ آپ کا استقبال کیا۔7 شعبان 1052ھ کو آپ کو منصب چہار ہزاری عطا ہوا، پھر شش ہزاری ہزار سوار تک ترقی دی گئی۔ مؤرخین کے مطابق اگر عمر وفا کرتی تو مزید عظیم مراتب حاصل ہوتے۔
لیکن یہ یاد رہے کہ اولیاء اللہ جب دنیوی ذمہ داریاں قبول کرتے ہیں تو وہ مصلحتاً اور دین کی خدمت کے لیے ہوتی ہیں، نہ کہ اقتدار کی محبت میں۔علمی و ادبی مقام
آپ علومِ ظاہری و باطنی میں کامل تھے۔ فارسی شاعری میں “رضائی” تخلص اختیار فرمایا۔ آپ کی ایک رباعی ملاحظہ ہو:
در نخوت و کبر لا علاجم چہ کنم
با آنکہ اسیر احتیاجم چہ کنم
میرم بہ نیاز و ناز دلبر نہ خشم
من عاشقِ معشوق مزاجم چہ کنم
آپ کی علمی و ادبی تربیت میں ایران سے آئے ہوئے بزرگ ملا محمد صوفی مازندرانی کی صحبت کو بڑا دخل تھا۔وصال
یکم جمادی الاول 1057ھ کو آپ نے عالم شباب میں وصال فرمایا۔ تاریخ وفات “حیدر کرار” سے نکالی گئی۔آپ کے دو صاحبزادے (سید جعفر اور سید علی) اور ایک صاحبزادی تھیں۔ سید جعفر کو روضہ شاہ عالم کا سجادہ نشین مقرر کیا گیا۔درگاہ کا روحانی مرکز
آج درگاہ حضرت سید جلال بخاری آگرہ کے بڑے روحانی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔
5 رمضان المبارک کو یہاں ہزاروں افراد کے لیے لنگر تقسیم ہوتا ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے زائرین بھی عرس میں شرکت کرتے ہیں۔ ہندو برادری کے افراد بھی عقیدت سے لنگر میں حصہ لیتے ہیں۔اسی احاطے میں حضرت سید ضیاء الدین بلخی شطاری سہروردیؒ جیسے اکابر بھی مدفون ہیں۔تاج محل کی تعمیر سے متعلق روایت
عوامی روایت کے مطابق تاج محل کی تعمیر کے دوران بعض مشکلات پیش آئیں۔ بادشاہ نے ساداتِ بخاری سے دعا کی درخواست کی۔ حضرت سید احمد بخاری، حضرت سید جلال بخاری، حضرت سید محمد بخاری اور حضرت سید امجد بخاری نے چاروں سمت بیٹھ کر شغلِ قرآنی کیا۔کہا جاتا ہے کہ “سات سو حافظوں کا ٹیلہ” اسی نسبت سے مشہور ہوا، جہاں تعمیر کے دوران حفاظ قرآن کی تلاوت جاری رہتی تھی۔اگرچہ ایسی روایات تاریخ سے زیادہ عوامی عقیدت کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن اس میں شک نہیں کہ مغل دور میں اولیاء کی دعا اور روحانی وابستگی کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔حضرت سید جلال بخاریؒ محض ایک شاہی منصب دار نہیں بلکہ جلیل القدر عالم، صاحبِ کمال صوفی اور مخدوم زادہ بزرگ تھے۔ ان کی درگاہ آج بھی روحانی سکون کا مرکز ہے۔سلطنتوں کا اعزاز اس میں ہے کہ وہ اولیاء کی نسبت سے پہچانی جائیں — نہ کہ اولیاء کو سلطنت کا محتاج سمجھا جائے۔مصادر و مراجع
بوستان الاخیار – سعید احمد مہارہروی
معین الآثار – معین الدین اکبرآبادی
مرقع اکبرآباد – سعید احمد مہارہروی
اخبار الاخیار – حضرت عبد الحق دہلوی
منتخب اللباب – خافی خاںسید فیض علی شاہ قادری نیازی
آستانہ حضرت میکش
خانقاہ قادریہ نیازیہ میوہ کٹرہ آگرہ
درگاہ حضرت سید امجد علی شاہ قادری ؓ
(پنجہ مدرسہ آگرہ )
0989749580

