علی گڑھ (ایس منر)
۶؍دسمبر کو اے ایم یو انتظامیہ اور طلبہ اس وقت آمنے سامنے آگئے، جب بابری مسجد کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے دئے گئے فیصلے کو پڑھنے سے اے ایم یو انتظامیہ نے اپنے ہی طلبہ کو روک دیا۔طلبہ کا کہنا ہے کہ ہم غیر قانونی کام نہیں کر رہے تھے ، سپریم کورٹ کی جانب سے دئے گئے فیصلے کو پڑھنا چاہتے تھے ، یہ وہ تاریخی فیصلہ ہے جسکو سبھی فریقین نے تسلیم کیاتھا اور تنازعہ ختم ہو گیا تھا ، آخراس فیصلے کوپڑھنے سےروکنے کے پیچھے اے ایم یو انتظامیہ کی کیا منشا ہے، سمجھ سے بالا تر ہے ۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا کی جانب سے آرٹس فیکلٹی کے باہر بابری مسجد کے فیصلہ کو پڑھنے کا پوسٹر وائرل ہونے کے بعد صبح سے ہی پولیس اور پروکٹر ٹیم کے ذمہ داران موقع پر مستعد نظر آئے اور کسی طرح کی کوئی ایکٹویٹی نہیں ہونے دی۔ وہیں طلبا کا الزام ہے کہ جمہوریت میں ہمیں اس عمل سے روکا جانا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے جو فیصلہ آیا ہے وہ ملک کی تاریخ ہے اور اسکو پڑھنے سے روکنا سمجھ سے پرے ہے۔
ذرایع کے مطابق ڈپٹی پراکٹر حسن امام اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر موجود تھے انھوں نے صفائی دیتے ہوئے کہ ایک پوسٹر وائرل ہوا تھامگر معلوم نہیں کہ یہ کس نے کیا اور کیسے ہوا۔ ہم اس معاملے کی جانچ کے لیے اکٹھے ہوئے پوسٹر میں میں کہا گیا کہ بابری مسجد کے فیصلے کو پڑھ کر سنائیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی حساس ہے ،جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا ہے چوکنا رہتے ہیں۔ یہ پوسٹر شاید کچھ باہری لوگوں نے جاری کیا ہوگا، تاہم ہم اس جائے وقوعہ پر موجود ہیں، جہاں کے لئے اسے پوسٹ کیا گیا تھا۔ پولیس انتظامیہ بھی ہمارے ساتھ ہے، اسسٹنٹ پراکٹر، ڈپٹی پراکٹر، سب موجود ہیں لیکن ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ماہرین ڈپٹی پراکٹر حسن امام کے اس بیان کو تجاہل عارفانہ قرار دئے
رہے ہیں ۔
وہیں اے ایم یو طالب علم معاذ کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کے حوالے سے جو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا ، اسکو پڑھ کر سنانے کے کافی تعداد میں طلباموجود تھے ،مگر یونیورسٹی اور پولیس انتظامیہ نے ہمیں ایسا نہیں کر نے دیا،طلباکا کہنا تھا کہ جب یونیورسٹی میں مسائل پر تبادلہ خیال نہیں کرنے دیا جائے گا تو پھر کہاں کرنے دیاجائے گے۔وہیں طلبا کا کہنا تھا آج بابری مسجد کی شہادت کے۳۳؍ سال مکمل ہوگئے ہیں۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ تاریخ کا وہ سیاہ داغ ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیںکرسکتی، اس دن عدالت کے احکامات کو پامال کرتے ہوئے، پولیس انتظامیہ کی موجودگی میں دن کی روشنی میں تاریخی مسجد کو شدت پسندوں نےشہید کردیا تھا اور اس وقت کی کانگریس حکومت قانون کی دھجیوں کے اڑنے کا تماشہ دیکھتی رہی جسکی وجہ سے۶؍ دسمبر کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
وہیں بابری مسجد کی ۳۳؍ ویں برسی پرپولیس الرٹ رہی انتظامیہ کی جانب سے۶؍ دسمبرکی حساسیت کو محسوس کرتے ہوئے شہر کے حساس علاقوں میں سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ۔

