جن زی کے حوالے سے متنازع بیان کے خلاف کانگریس کا احتجاج، صدر جمہوریہ کے نام میمورنڈم پیش
رپورٹ: ایس منیر
علی گڑھ: بی جے پی کی منڈی پارلیمانی نشست سے رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت کی جانب سے جن زی (Gen Z) کے حوالے سے دیے گئے متنازع اور قابل اعتراض بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے اس بیان کو نوجوانوں، طلبہ اور طالبات کی عزت نفس اور وقار کے خلاف قرار دیتے ہوئے کنگنا رناوت کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اسی سلسلے میں علی گڑھ میں کانگریس کارکنان اور عہدیداران نے سابق ریاستی صدر، اتر پردیش مہیلا کانگریس، پرتیما سنگھ کی قیادت میں ضلع ہیڈکوارٹر پہنچ کر ضلع مجسٹریٹ کے نمائندے کے ذریعے صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم پیش کیا۔
میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا کہ ایک ذمہ دار عوامی عہدے پر فائز رکن پارلیمنٹ کی جانب سے دیے گئے اس طرح کے بیان کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے۔
میمورنڈم پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرتیما سنگھ نے کہا کہ ملک کی نوجوان نسل ہی ہندوستان کا مستقبل ہے۔ ایسے میں ان کے بارے میں کسی بھی قسم کے غیر ذمہ دارانہ یا تحقیر آمیز بیانات نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ سماجی طور پر بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک رکن پارلیمنٹ کے ہر لفظ کی اپنی اہمیت ہوتی ہے اور عوامی زندگی سے وابستہ شخصیات پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسا لب و لہجہ اختیار کریں جو نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرے، نہ کہ ان کی تذلیل۔
پرتیما سنگھ نے کہا کہ نوجوان لڑکیاں، طلبہ اور نئی نسل آج تعلیم، تحقیق، روزگار، کاروبار اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسے میں ان کے متعلق نامناسب تبصرہ نہ صرف ان کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے بلکہ لاکھوں والدین کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کے بیانات صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کا اثر پورے سماج پر پڑتا ہے۔ اس لیے ہر بیان ذمہ داری، وقار اور سنجیدگی کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اس قسم کے بیانات سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں، لیکن منفی انداز میں سرخیوں میں آنا کسی بھی عوامی نمائندے کے شایانِ شان نہیں۔ ملک کی نوجوان نسل کو تقسیم کرنے یا اس کی تضحیک کرنے کے بجائے اس کی صلاحیتوں اور خدمات کا احترام کیا جانا چاہیے۔
پرتیما سنگھ نے مطالبہ کیا کہ عوامی زندگی سے وابستہ تمام شخصیات ایسی زبان استعمال کریں جو نوجوانوں میں اعتماد، خود اعتمادی، احترام اور مثبت سوچ کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نوجوانوں کی عزت، وقار اور حقوق کے معاملے پر ہمیشہ آواز بلند کرتی رہے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی عوامی نمائندے کی جانب سے مستقبل کے معماروں کے متعلق غیر مناسب زبان استعمال کی گئی تو اس کے خلاف جمہوری اور آئینی طریقے سے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
احتجاج اور میمورنڈم پیش کرنے کے موقع پر کانگریس کے متعدد رہنما اور کارکنان موجود رہے۔ ان میں شیر پال سویتا، رام گوپال رینا، لینا کمار، سیتا شرما، ساگر سنگھ تومر، محمد ضمیر، لکشمی نارائن، ریکھا، وجے سارسوت، لکشمی، رما، ساوتری، کانتی، گڈڈی اور سابق صدر انور عقیل سمیت دیگر کارکنان نمایاں طور پر شریک رہے۔
کانگریس رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ صدر جمہوریہ کے نام پیش کیے گئے میمورنڈم پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے مناسب کارروائی کی جائے گی، تاکہ آئندہ کوئی بھی عوامی نمائندہ نوجوان نسل کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ یا تحقیر آمیز بیان دینے سے گریز کرے۔

