معروف ہاسیہ شاعر پون آگری کو بین الاقوامی سطح پر اعزاز
آگرہ۔ دُوحہ (قطر) کی ادبی فضا اُس وقت قہقہوں اور داد و تحسین سے گونج اُٹھی جب تاج نگری کے ممتاز ہاسیہ شاعر پون آگری نے انٹرنیشنل کوی سمیلن و مشاعرہ میں اپنے فن کا ایسا مظاہرہ کیا کہ نہ صرف محفل کے سامعین محظوظ ہوئے بلکہ آگرہ کا نام بھی عالمی سطح پر روشن ہو گیا۔
پون آگری پچھلے 30 برسوں سے ہندوستان اور بیرونِ ملک کے مختلف اسٹیجوں پر اپنی برجستہ، شگفتہ اور طنزیہ شاعری سے لاکھوں دلوں میں مسکراہٹ بکھیر چکے ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلوں پر ان کی پیشکش ہو یا ماریشس، ملیشیا، تھائی لینڈ، سنگاپور اور دبئی جیسے ممالک میں ہونے والے ادبی پروگرام—ہر جگہ ان کی فن کاری کو بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ان کے چٹکیاں لیتی، دلکش طرزِ بیان والی تخلیقات سماجی مسائل پر نہایت سلیقے سے طنز بھی کرتی ہیں اور سامعین کو محظوظ بھی رکھتی ہیں۔
اپنی گیارھویں بین الاقوامی ادبی سفر کے دوران پون آگری نے قطر کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقد خصوصی نشست میں اپنے طنز و مزاح سے بھرپور اشعار پیش کیے۔ محفل میں موجود اعزاز یافتہ سامعین نے ان کے کلام پر بے پناہ داد دی اور ان کی حاضر جوابی کو سراہا۔
یہ بین الاقوامی مشاعرہ پہلی مرتبہ قطر پریمیئر لیگ کے چیئرمین سراج انصاری اور ادبی و ثقافتی ادارہ تلاش کے سرپرست راجویر راج کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقد کیا گیا۔ دنیا بھر کے نامور شعرائے کرام کی شرکت نے اس تقریب کو ایک عظیم ادبی سنگِ میل بنا دیا۔
پون آگری نے اس باوقار عالمی اسٹیج پر اپنی فنکارانہ توانائی، برجستہ لہجے اور ہنسی سے لبریز اشعار کے ذریعے نہ صرف اپنا لوہا منوایا بلکہ آگرہ کی ادبی شناخت کو بھی مزید مستحکم کیا۔
تاج نگری کے ادبی حلقوں نے پون آگری کی اس کامیابی کو فخر اور مسرت سے سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز شہر کا وقار بڑھانے والا ہے۔

