ایس منیر
علی گڑھ ضلع میں یومِ جمہوریہ کا جشن نہایت جوش و خروش اور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں اور مختلف مدارس میں قومی پرچم لہرایا گیا اور متنوع ثقافتی و تعلیمی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔
النیاز پبلک اسکول میں یومِ جمہوریہ کی تقریب
النیاز پبلک اسکول میں منعقدہ تقریب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی زمن نیازی نے کہا کہ یومِ جمہوریہ وطنِ عزیز کا ایک یادگار دن ہے، کیونکہ اسی دن ہندوستان کا آئین نافذ ہوا، جس نے ملک کے تمام شہریوں کو بلا تفریق مذہب آزادی، مساوات اور وقار کے ساتھ جینے کا حق عطا کیا۔
ٹیچر انچارج نفیسہ نے کہا کہ 15 اگست 1947 کو ہندوستان آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوا، مگر ایک منظم، خودمختار اور جمہوری ملک کے قیام کے لیے آئین کی ضرورت تھی۔ اسی مقصد کے لیے دستور ساز اسمبلی نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی صدارت میں ڈرافٹنگ کمیٹی تشکیل دی۔ 26 نومبر 1949 کو آئین تیار ہوا اور 26 جنوری 1950 کو اس کا نفاذ عمل میں آیا، اسی نسبت سے یہ دن یومِ جمہوریہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین دنیا کا سب سے جامع اور مفصل آئین ہے، جس میں 395 دفعات شامل ہیں اور یہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔
اس موقع پر طلبہ و طالبات نے مختلف ثقافتی پروگرام پیش کیے۔ تقریب میں عائشہ میڈم، کلثوم میڈم، عطا نیازی، حافظ فرقان نیازی، مہجت میڈم کے علاوہ والدین بھی موجود رہے۔

مدرسہ فیضانِ مصطفیٰ، زہرہ باغ
یومِ جمہوریہ کے موقع پر مدرسہ فیضانِ مصطفیٰ زہرہ باغ میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ قومی پرچم مدرسہ کے مہتمم علامہ مولانا سید جمال احمد نے لہرایا۔
انہوں نے کہا کہ 26 جنوری 1950 کو آئین کے نفاذ کے ساتھ ہی بھارت حقیقی معنوں میں جمہوری ملک بنا۔ اگرچہ 15 اگست 1947 کو آزادی حاصل ہو چکی تھی، مگر آئین کے نفاذ سے ہی عوامی خود حکمرانی، ادارہ جاتی جوابدہی اور قانون کی بالادستی قائم ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ یومِ جمہوریہ کی تقریبات ہمارے آئینی نظریات اور قومی تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس موقع پر مدرسہ کے اساتذہ اور طلبہ موجود تھے۔
الہدایہ کالج آف ایجوکیشن میں جشنِ جمہوریت
الہدایہ کالج آف ایجوکیشن میں منعقدہ تقریب میں مہمانِ خصوصی پروفیسر آفتاب احمد صدیقی (ایس آر کے کالج، فیروزآباد) نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں دو دن غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں—15 اگست، جب ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا، اور 26 جنوری، جب ملک جمہوری نظام کے تحت اپنے آئین کے ساتھ دنیا کے سامنے آیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی قیادت میں قائم سات رکنی کمیٹی نے 2 سال 11 ماہ اور 18 دن کی محنت کے بعد آئین تیار کیا، جسے 26 جنوری 1950 کو نافذ کیا گیا۔
مینیجنگ کمیٹی کے نائب صدر خالد مسعود نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی اصل طاقت اس کا تنوع ہے، جہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ یومِ جمہوریہ اسی باہمی یکجہتی اور مساوی آئین کا جشن ہے۔ اس موقع پر کنور آصف نے بھی خطاب کیا۔ اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود رہی۔
مدرسہ نورِ مصطفیٰ، نگلہ پٹواری
مدرسہ نورِ مصطفیٰ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب میں علما، اساتذہ، طلبہ اور مقامی معززین نے شرکت کی۔ مہتمم قاری محمد طارق رضا نے کہا کہ 26 جنوری ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا ملک ایک مضبوط آئین کی بنیاد پر قائم ہے، جو امن، انصاف اور مساوات کا ضامن ہے۔
پرنسپل قاری محمد اکرم نے تعلیم کو قوم کی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔ مولانا نورالہدیٰ، مولانا محمد شہباز احمد مرکزی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں زاہد علی نوری، حاجی حامد خان، مجیب خان اور دیگر معززین شریک رہے۔

دارالعلوم معاذ بن جبل، مخدوم نگر
دارالعلوم معاذ بن جبل ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد اکبر قاسمی نے کہا کہ آزادی اور جمہوریت کی یہ نعمتیں طویل جدوجہد اور عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔ انگریزی دور میں ظلم و بربریت کی ایسی داستان رقم کی گئی جس کا ہر صفحہ ہندوستانیوں کے خون سے تر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلمانوں نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا، اسی طرح دستور سازی کے عمل میں بھی مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، رفیع احمد قدوائی اور بیگم عزیز رسول جیسے مسلم رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے آئینی حقوق سے واقف ہوں، سیاسی شعور بیدار کریں اور قومی یکجہتی و مذہبی رواداری کو فروغ دیں تاکہ ہندوستان ایک مثالی جمہوری ملک کے طور پر ترقی کی راہوں پر گامزن رہے۔

