لکھنؤ میں ہندو-مسلم اتحاد کانفرنس، مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں نے بھائی چارے، آئین اور قومی یکجہتی پر زور دیا
لکھنؤ، اٹل بہاری واجپائی سائنٹفک کنونشن سینٹر، لکھنؤ میں جمعیۃ علماء ہند اتر پردیش کے زیرِ اہتمام منعقدہ ہندو-مسلم اتحاد کانفرنس میں ملک بھر سے مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، ماہرین قانون، سماجی کارکنوں اور مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، آئینی اقدار، قومی اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ سماجی اور سیاسی حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نفرت کی سیاست نے معاشرے کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “نفرت کی آندھیوں میں ہم محبت کے چراغ جلانا چاہتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے انصاف پسند افراد کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر نفرت اور فرقہ واریت کے خلاف اجتماعی آواز بلند کی جائے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ایک مذہبی اور غیر سیاسی تنظیم ہے، جس کا مقصد ملک میں محبت، بھائی چارہ، انسانی ہمدردی اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ نے ہمیشہ مذہب و ملت سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔
انہوں نے کیرالہ اور پنجاب میں سیلاب کے دوران جمعیۃ کی جانب سے انجام دی گئی امدادی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کی مدد میں کسی مذہب یا برادری کی تفریق نہیں کی گئی۔ اسی طرح آسام میں این آر سی کے دوران لاکھوں خواتین کی شہریت سے متعلق مقدمات میں جمعیۃ نے سپریم کورٹ میں مؤثر قانونی جدوجہد کی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔
مولانا مدنی نے تعلیمی نظام پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل پیپر لیک کے واقعات نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے رام پور کے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے معاملے پر بھی کہا کہ اگر کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن ایسے فیصلوں سے ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
کانفرنس کے مہمانِ خصوصی وارانسی کے سنکٹ موچن مندر کے مہنت ڈاکٹر بشمبر ناتھ مشر نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی میں تمام مذاہب کے لوگوں کا یکساں کردار رہا ہے اور آج ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرے۔ انہوں نے مولانا ارشد مدنی کی جانب سے شروع کی گئی محبت اور اتحاد کی مہم کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا۔
سپریم کورٹ کی سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے اور ملک کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، تنوع اور آئینی اقدار میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے افراد کی اس کانفرنس میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی یکجہتی کو کوئی طاقت کمزور نہیں کر سکتی۔
جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر اور اس مہم کے کنوینر مولانا اسجد مدنی نے کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم مکمل طور پر غیر سیاسی ہے اور اس کا مقصد مختلف مذاہب، برادریوں اور سماجی طبقات کے درمیان اعتماد، احترام اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم کے تحت ملک بھر میں مختلف شہروں میں ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن میں علماء، مذہبی رہنما، دانشور، قانونی ماہرین، سماجی کارکن، نوجوان اور خواتین شریک ہوں گے تاکہ محبت، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام عام کیا جا سکے۔
جمعیۃ علماء ہند اتر پردیش کے صدر مولانا اشہد رشیدی نے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ محبت، بھائی چارہ اور باہمی احترام ہی ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی اصل پہچان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے افراد کا ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محبت کی آواز نفرت کی ہر آواز سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
کانفرنس میں بدھ، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں امن، بھائی چارے، رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مقررین نے مولانا ارشد مدنی کی جانب سے شروع کی گئی اس مہم کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

