بقلم اظہر عمری
دنیا کی زبانیں محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ تہذیب، تاریخ اور شناخت کی آئینہ دار بھی ہوتی ہیں۔ انہی زندہ زبانوں میں اردو کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ ہر سال ۹؍ومبر کو پوری دنیا میں عالمی یومِ اردو منایا جاتا ہے، یہ دن برصغیر کے عظیم مفکر، شاعر مشرق، اور فلسفی خودی علامہ محمد اقبال کے یوم پیدائش کی مناسبت سے منسوب ہے۔ اقبال نے اردو شاعری کو محض اظہارجذبات کا وسیلہ نہیں بلکہ فکری بیداری اور ملی شعور کا استعارہ بنا دیا۔ اسی بنیاد پر انھیں ’’حکیم الامت‘‘ اور ’’پیامبرشاعر‘‘ کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
عالمی یومِ اردو منانے کا آغاز ۱۹۹۷ء میں ایک غیر سرکاری تنظیم اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے تحت ہوا۔ اس تحریک میں بعد ازاں یونائٹیڈ مسلمز آف انڈیانے بھی شمولیت اختیار کی۔ دونوں تنظیموں نے مل کر اردو زبان کے فروغ اور اس کی بین الاقوامی حیثیت اجاگر کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ابتدا میں یہ تقریب صرف ہندوستان میں محدود تھی، مگر جلد ہی بیرونِ ملک موجود محبانِ اردو نے بھی اسے قبول کیا اور آج یہ دن عالمی سطح پر پہچان حاصل کرچکا ہے۔اردو کی ابتدا کے بارے میں محققین کے درمیان آراء مختلف ہیں، مگر اتفاق اس بات پر ہے کہ یہ زبان ہندوستان میں مختلف قوموں، تہذیبوں اور زبانوں کے اختلاط سے پیدا ہوئی۔ عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت اور ہندی کے امتزاج سے ایک ایسی زبان وجود میں آئی جو نہ صرف دلکش تھی بلکہ ہر طبقے کے لیے قابلِ فہم بھی۔ اردو کی بنیادی جڑیں شمالی ہند کی مقامی بولیوں، خصوصاً کھڑی بولی اور ہریانوی سے ملتی ہیں۔
اردو کا لفظ خود ترکی زبان سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ’’لشکر‘‘ یا ’’فوج‘‘ کے ہیں۔ چونکہ مغلیہ دور میں مختلف لسانی پس منظر رکھنے والے افراد ایک ہی لشکر میں کام کرتے تھے، اس لیے ان کے باہمی رابطے کی ایک مشترکہ زبان وجود میں آئی جسے ابتدا میں ’لشکری‘ یا ’اردوئے معلی‘ کہا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی زبان عام بول چال اور ادب کی زبان بن گئی۔ ہندوستان کی سرزمین ہمیشہ سے مختلف تہذیبوں کا مرکز رہی ہے۔ آریائی، دراوڑی، ایرانی، یونانی اور ترک قوموں نے یہاں قیام کیا اور ہر قوم اپنے ساتھ اپنی زبان و ثقافت بھی لائی۔ ان کے میل جول سے ایک ایسی زبان پروان چڑھی جس نے تمام لسانی عناصر کو اپنے اندر سمو لیا۔ اردو کا یہی امتزاجی مزاج اسے گنگا جمنی تہذیب کی نمائندہ زبان بناتا ہے۔ ابتدائی دور میں اردو کو ہندوی، ریختہ، دکنی اور ہندوستانی جیسے ناموں سے جانا جاتا تھا۔ دکن میں یہ زبان بیجاپور اور گلبرگہ کے درباروں میں پروان چڑھی جبکہ شمالی ہند میں دہلی کے مشاعروں نے اسے ادبی بلندی عطا کی۔ میر، سودا، غالب، ذوق اور اقبال جیسے شعراء نے اردو کو فکری گہرائی اور تخلیقی وسعت بخشی۔
اردو زبان کا اصل عروج مغلیہ دور میں ہوا۔ یہ زبان دربارِ دہلی کی بولی بنی اور سرکاری و ادبی زبان کے طور پر رائج ہوئی۔ بعد ازاں فورٹ ولیم کالج (۱۸۰۰ء) کے قیام نے اس کی ادبی ترقی کو منظم بنیادیں فراہم کیں۔ اس ادارے کے ذریعے انگریز افسران کو ہندوستانی زبانوں کی تعلیم دی جاتی تھی، جس میں اردو کو خاص اہمیت حاصل تھی۔مگر انگریزی اقتدار کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی اردو مخالف تحریکیں شروع ہوئیں۔ ۱۸۶۷ء میں بنارس سے اردو کے خلاف ہندی تحریک نے جنم لیا، جس کے نتیجے میں ’’اردو-ہندی تنازعہ‘‘ کھڑا ہوا۔ یہ تنازعہ محض لسانی نہیں بلکہ تہذیبی و سیاسی کشمکش کی علامت بن گیا۔
آج اردو زبان کا سب سے بڑا مسئلہ سرکاری عدم توجہی اور ادارہ جاتی بے اعتنائی ہے۔ مختلف ریاستوں میں اردو اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ اسکولوں میں اردو میڈیم کی کتابیں ناپید ہیں، اور کئی کالجوں میں اردو کے شعبے بند کیے جا رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل محبانِ اردو کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ معروف محقق ایم۔ ڈبلیو۔ انصاری کے مطابق اردو نہ صرف ہندوستان کی بیٹی ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کی دفتری زبانوں میں شامل ہوکر عالمی سطح پر اپنی شناخت منوا چکی ہے۔ تاہم، اندرونِ ملک اسے وہ سرکاری حیثیت نہیں دی جارہی جس کی یہ مستحق ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو اکیڈمیوں کو فعال کیا جائے، اردو میڈیم اسکولوں کو فروغ دیا جائے، اور نصابی و سرکاری سطح پر اس زبان کو زندہ رکھا جائے۔اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ تہذیبی احساس اور فکری روایت کا مظہر ہے۔ اس نے صدیوں سے مذہبی، ادبی، علمی، اور سماجی سطح پر قوموں کو جوڑنے کا کام کیا ہے۔ اردو کی سب سے بڑی خوبی اس کی نرم لہجہ، شائستہ طرزِ گفتگو اور الفاظ کی خوشبو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا گیا ہے:
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
اردو زبان میں قرآن و حدیث کی تفسیریات، فقہ و فلسفہ، تاریخ و سیاست، ادب و شاعری—ہر شعبے میں لاکھوں تصانیف موجود ہیں۔ عربی کے بعد شاید ہی کوئی زبان ہو جس میں اتنا وسیع علمی سرمایہ جمع ہو۔آج اردو زبان دنیا کی تیسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ خلیجی ممالک سے لے کر برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور افریقہ تک لاکھوں لوگ اردو بولتے، پڑھتے اور لکھتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نئی نسل تیزی سے اردو سے دور ہو رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں اردو کی تدریس کم ہوتی جا رہی ہے، اور ڈیجیٹل دور میں انگریزی کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے۔اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ ہم اردو کی ڈیجیٹل بقا پر توجہ دیں۔ سوشل میڈیا، ویب سائٹس اور آن لائن تعلیمی پلیٹ فارموں پر اردو رسم الخط کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اردو کی ترویج کے لیے صرف مشاعروں اور تقاریب پر انحصار کافی نہیں، بلکہ عملی منصوبہ بندی، نصابی اصلاحات اور تکنیکی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اردو کے فروغ اور فکری وسعت میں علامہ اقبال کا کردار غیر معمولی ہے۔ اقبال نے اردو شاعری کو دین، فلسفہ، خودی، اور ملی شعور کے پیغام سے آراستہ کیا۔ ان کی شاعری نے مسلمانانِ ہند کو نئی خودی اور بیداری عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی ولادت کے دن کو اردو کے نام سے منسوب کرنا دراصل اردو کے فکری و تہذیبی اثاثے کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ اقبال کے نزدیک زبان محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ قومی وجود کی بنیاد ہے۔ ان کی شاعری میں اردو کی روح، فلسفہ اور امتِ مسلمہ کی اجتماعی شناخت یکجا نظر آتی ہے۔
اردو کی بقا اور ترقی صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر اردو داں فرد کا فریضہ ہے۔ گھروں میں اردو بولنے، بچوں کو اردو پڑھانے، اور سوشل میڈیا پر اردو رسم الخط استعمال کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اردو اکیڈمیوں اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نئے نصاب، آن لائن کورسز، اور تحقیقی منصوبوں کے ذریعے زبان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔
اردو زبان ہماری تہذیبی جڑوں، مذہبی احساسات اور قومی تشخص کی علامت ہے۔ اگر ہم اپنی زبان سے دور ہو جائیں تو دراصل اپنی شناخت سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک قوم کی اجتماعی روح ہے۔جیسا کہ کسی شاعر نے کہا:
اپنی اردو تو محبت کی زباں تھی پیارے
اب سیاست نے اسے جوڑ دیا مذہب سے
لہٰذا ضروری ہے کہ اردو کو کسی مذہبی یا لسانی تعصب سے بالاتر ہو کر قومی ورثہ سمجھا جائے۔ عالمی یومِ اردو محض ایک جشن نہیں بلکہ احتسابِ محبتِ اردو کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس زبان نے ہمیں تہذیب، شائستگی، اور فکری بیداری عطا کی، اس کی حفاظت اور فروغ ہمارا فرض ہے۔ اردو کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ زبان ہمیشہ قربانی، جدوجہد اور محبت کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔ آج بھی اگر ہم متحد ہو جائیں، تو اردو نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ نئی صدی کی علمی و تکنیکی زبان بن کر ابھر سکتی ہے۔اردو ہماری شناخت ہے، ہمارا سرمایہ ہے، اور ہماری پہچان ہے۔
اردو زندہ ہے اور رہے گی، جب تک اس کے چاہنے والے زندہ ہیں۔

