نئی دہلی |
کیرالا کے گرینڈ مفتی شیخ ابوبکر احمد کی جانب سے خواتین کو گھروں کی چار دیواری تک محدود رکھنے کی وکالت کیے جانے کے بیان نے ملک بھر میں ایک شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ کوچی میں منعقد ایک مذہبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کو گھروں میں رہنا چاہیے اور انہیں عوامی زندگی میں نہیں آنا چاہیے۔ خواتین کا موازنہ سونے کے زیورات سے کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ جس طرح سونے کے ہار کو اس کی خوبصورتی اور قدر و قیمت محفوظ رکھنے کے لیے ایک ڈبے میں رکھا جاتا ہے، اسی طرح خواتین کو بھی گھروں میں رہنا چاہیے۔ انہوں نے خواتین کے عوامی زندگی میں آنے کو ’’بڑی تباہی‘‘ کا سبب قرار دیا اور اسے پردے کے نظام سے جوڑا۔ ان بیانات کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مسلم راشٹریہ منچ کی قومی کنوینر اور خواتین ونگ کی سربراہ ڈاکٹر شالینی علی نے کہا کہ عزت کے نام پر خواتین کو گھروں میں قید کرنا ہرگز احترام نہیں، بلکہ ان کی آزادی اور صلاحیتوں پر پہرہ بٹھانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں بیٹیاں مسلح افواج کی تینوں شاخوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، ماہرِ اقتصادیات، ماہرِ تعلیم، صحافی، پائلٹ اور کھلاڑی بن کر ملک کا نام روشن کر رہی ہیں، انہیں گھروں تک محدود رہنے کا مشورہ دینا جدید بھارت کی حقیقت کی توہین ہے۔
ڈاکٹر شالینی علی نے اس بیان کو انتہائی قابلِ اعتراض اور آمرانہ ذہنیت کی ایک مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عورت نہ تو سونے کا ہار ہے اور نہ ہی کوئی ایسی آرائشی چیز ہے جسے ایک ڈبے میں بند کرکے رکھا جائے۔ وہ ایک آزاد انسان ہے، جو اپنے خوابوں، صلاحیتوں، محنت اور اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کے حق کے ساتھ جیتی ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو تعلیم یافتہ اور خود کفیل بنانے کے بجائے انہیں گھر کی چار دیواری میں قید رکھنے کی ذہنیت معاشرے کو پیچھے لے جانے والی سوچ ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ایسا بیان تو کوئی جاہل اور ناخواندہ شخص بھی نہیں دینا چاہیے، لیکن کچھ نام نہاد مذہبی رہنما خواتین کو باشعور اور مساوی شہری بنانے کے بجائے انہیں جہالت اور محتاجی میں رکھنا چاہتے ہیں۔
گرینڈ مفتی نے اپنی تقریر میں کہا کہ خواتین کو گھروں میں رہنا چاہیے اور انہیں عوامی زندگی میں نہیں آنا چاہیے۔ اپنی دلیل کو مذہبی تشریح سے جوڑتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآن میں ایسی ہدایت دی گئی ہے اور پردہ خواتین کی عزت اور تحفظ کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ وضاحت کرنے کی بھی کوشش کی کہ ان کا مقصد خواتین کو کمتر دکھانا نہیں بلکہ ان کی عزت اور حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم ناقدین کا سوال ہے: کیا تحفظ کے نام پر کسی کی آزادی چھین لینا واقعی احترام کہلا سکتا ہے؟ کیا کسی خاتون کی عزت کا انحصار اس بات پر ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے سے کتنی دور اور کتنی محدود زندگی گزارتی ہے؟
اپنی دلیل سمجھانے کے لیے گرینڈ مفتی نے سونے کے ہار کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ زیورات کی دکان میں سونے کے ہار کو پہلے الماری سے، پھر ڈبے سے اور اس کے بعد پیکنگ سے نکال کر گاہک کو دکھایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس کا موازنہ سڑک کنارے رکھے جانے والے پتھر پیسنے کے ایک آلے سے کیا اور کہا کہ اگر سونے کا ہار سڑک پر رکھ دیا جائے تو وہاں سے گزرنے والے لوگ اسے چھو سکتے ہیں، جس سے اس کی خوبصورتی اور قدر متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی مثال کی بنیاد پر انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو عوامی زندگی میں لایا گیا تو اس سے ’’بڑی تباہی‘‘ پیدا ہوسکتی ہے اور اسی وجہ سے پردے کا نظام قائم کیا گیا۔
یہ موازنہ اب پورے تنازعے کے سب سے زیادہ متنازع حصوں میں شامل ہوگیا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر ایک عورت کا موازنہ کسی بے جان زیور سے کیوں کیا جائے؟ سونے کا ہار کسی زیورات کی دکان کی ملکیت ہوسکتا ہے، لیکن ایک عورت اپنی زندگی کی خود مالک ہے۔ وہ کسی کی ملکیت نہیں بلکہ حقوق رکھنے والی ایک شہری ہے۔ اس کی تعلیم، ملازمت، کیریئر، عوامی زندگی میں شرکت اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے کی صلاحیت محض ’’تحفظ‘‘ یا ’’احترام‘‘ کے نام پر ختم نہیں کی جاسکتی۔ یہی بنیادی سوال ڈاکٹر شالینی علی کے اعتراض کا مرکز ہے۔
جدید بھارت اس پرانے ڈھانچے سے بہت آگے نکل چکا ہے، جس میں عورت کی پوری شناخت صرف گھر اور خاندان تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ ملک کی بیٹیاں فائٹر پائلٹ اور سائنس دان ہیں، ڈاکٹر اور انجینئر ہیں؛ وہ یونیورسٹیوں اور عدالتوں، صحافت اور صنعت میں موجود ہیں اور کھیل کے میدانوں میں ترنگا لہرا رہی ہیں۔ وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہیں، مشکل سائنسی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، اسپتالوں میں زندگیاں بچا رہی ہیں اور عالمی سطح پر بھارت کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ ایسے بھارت میں خواتین کو گھروں میں بند رکھنے کا تصور صرف ایک خاتون کی امنگوں کو محدود نہیں کرتا بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک کی نصف آبادی کی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔
ڈاکٹر شالینی علی نے اسی تناظر میں کہا کہ بھارتی خواتین ملک کی حفاظت کے لیے مسلح افواج کی تینوں شاخوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ سائنس، طب، انجینئرنگ، سماجیات، اقتصادیات، تعلیم، صحافت، ہوابازی اور کھیل سمیت بے شمار شعبوں میں اپنی شناخت قائم کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کو کمزور سمجھنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔ جو خاتون ملک کا دفاع کرسکتی ہے، وہ یقیناً اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے بھی کرسکتی ہے۔
گرینڈ مفتی نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ مذہبی علماء، بالخصوص متعلقہ سنی مذہبی تنظیموں سے وابستہ علماء، ایک طویل عرصے سے اس نظریے کو آگے بڑھاتے رہے ہیں اور اس سے خواتین کی ’’عزت‘‘ برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔ اس معاملے پر بات کرنے کے اپنے اختیار کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذہبی علماء نے دین کا مطالعہ کیا ہے اور اس لیے مذہبی معاملات پر بات کرنا ان کا فرض ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس مسئلے پر بات کرتے رہیں گے اور انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں انہوں نے اسلامی تاریخ میں خواتین کی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے بیٹیوں کو قتل کرنے جیسی روایات کو روکا اور خواتین کو جائیداد اور وراثت کے حقوق دیے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ خواتین کو عوامی زندگی سے دور رکھنے والے نظام کو بھی خواتین کی عزت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے ایک طریقے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، ان کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ پابندیوں کو تحفظ سمجھا جائے اور عوامی زندگی سے دوری کو احترام تصور کیا جائے۔
لیکن مسلم راشٹریہ منچ کا سب سے سخت اعتراض بالکل اسی نکتے پر ہے۔ تنظیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عورت کی عزت اس کی قید میں نہیں بلکہ اس کے حقوق، خود مختاری اور احترام میں ہے۔ اگر کوئی خاتون اپنے گھر اور خاندان کی دیکھ بھال کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا حق ہے؛ اور اگر کوئی خاتون مسلح افواج میں شامل ہونا چاہتی ہے، ڈاکٹر بننا چاہتی ہے، صحافت اختیار کرنا چاہتی ہے، کاروبار کرنا چاہتی ہے یا عوامی زندگی میں فعال کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو یہ بھی اتنا ہی اس کا حق ہے۔ انتخاب عورت کا ہونا چاہیے—اس کی زندگی کا فیصلہ کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے نہیں کرسکتا۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ گرینڈ مفتی کے بیانات کو پورے مسلم معاشرے یا تمام مسلم علماء کی متفقہ رائے نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ ایک مذہبی رہنما کی تشریح اور نقطۂ نظر ہے۔ کسی ایک فرد کے بیان کی بنیاد پر کروڑوں لوگوں کو متعین کرنا نہ مناسب ہوگا اور نہ ہی منصفانہ۔ اسی طرح ان بیانات کی تنقید کو بھی کسی مذہب کے خلاف مہم نہیں بنایا جانا چاہیے، بلکہ اسے خواتین کی آزادی، مساوات اور حقوق سے متعلق ایک سوال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
آخرکار معاملہ بہت واضح ہے: کیا عورت احترام کی مستحق ہے یا کنٹرول کی؟ اسے تحفظ چاہیے یا قید؟ مواقع چاہیے یا چار دیواری؟ جدید بھارت کی خواتین اپنے کام اور کامیابیوں کے ذریعے ان سوالات کا جواب پہلے ہی دے چکی ہیں۔ انہیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ وہ باصلاحیت ہیں۔ انہوں نے مسلح افواج سے لے کر خلا تک، اسپتالوں سے لے کر کھیل کے میدانوں تک اور اسکولوں سے لے کر پارلیمنٹ تک ہر جگہ اپنی جگہ بنائی ہے۔
اس پورے تنازعے سے ابھرنے والا سب سے مضبوط پیغام یہی ہے کہ بھارت کی بیٹی کوئی سونے کا ہار نہیں ہے جسے اس کی ’’قیمت‘‘ محفوظ رکھنے کے لیے ایک ڈبے میں بند کردیا جائے۔ وہ اپنے مستقبل کی خود معمار ہے۔ خواتین کو قید کرکے نہیں بلکہ انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرکے خاندان مضبوط ہوگا، معاشرہ مضبوط ہوگا اور ملک مضبوط ہوگا۔ چاہے وہ گرینڈ مفتی کا ’’گھر میں رہو‘‘ والا نظریہ ہو یا کسی بھی برادری میں خواتین کی آزادی پر پہرہ بٹھانے والی کوئی دوسری سوچ—اس پر سوال اٹھنا چاہیے۔ کیونکہ عورت کی آزادی کسی مذہب، ذات یا برادری کی جانب سے عطا کردہ رعایت نہیں، بلکہ ایک شہری کی حیثیت سے اس کی عزت اور اس کا بنیادی حق ہے۔
