ماہ رمضان، قرآن مجید کے نزول کا مبارک مہینہ اور کتاب خدا کا موسم بہار ہے۔ الحمد للہ، ہر مسجد، ہر گھر اور ہر مومن و مومنہ اس مقدس موسم میں قرآن مجید کی روحانی خوشبو سے معطر ہوتے ہیں۔ اسی ماہ میں وہ عظیم شخصیت بھی دنیا سے رخصت ہوئی، جنہوں نے قرآن کے مفاہیم کو بیان کیا اور رسول اللہ کے سب سے قریبی ساتھی، معلم اور ترجمان تھے، یعنی امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ۔حضرت علی علیہ السلام کو اللہ نے بے پناہ فضائل عطا فرمایا ۔ آپ علوم و معارف کے خزانے، اخلاق و تقویٰ کے نمونہ، شجاعت و سخاوت کے اعلیٰ مظہر، اور ولایت کے مرکز تھے۔ ان خیالات کا اظہار سر سید نگر میں واقع خانقاہ نیازیہ امام علیؑ کی شہادت کے واقع کو یواد کرتے ہوئے پیر طریقت ڈاکٹرمحمد عباس نیازی نےکیا
واضح رہے کہ امام علی ؑ کی یوم شہادت پر لیاقت باغ میں زیر تعمیرکربلا مختلف امام بارگاہووں، خانقاہوں میں مجلس کا اہتمام کیا گیا ۔

پیر طریقت ڈاکٹرمحمد عباس نیازی نے مذید کہا کہ آپ وہ عظیم شخصیت ہیں جن کی ولادت کعبہ شریف میں ہوئی، اور یہ ان کی ایسی فضیلت ہے جس میں کسی کا شریک ہونا ممکن نہیں۔حضرت علی علیہ السلام کی زندگی میں عاجزی و انکساری نمایاں تھی۔ آپ اپنے عہد خلافت میں بازاروں میں جاتے، وہاں جو لوگ راستہ بھٹک گئے ہوتے، انہیں صحیح راستہ دکھاتے، بوجھ اٹھانے والوں کی مدد کرتے اور ہر انسان کے ساتھ حسن سلوک رکھتے۔ آپ میں تقویٰ اور خشیت الٰہی انتہائی زیادہ تھی۔ ایک بار آپ قبرستان میں بیٹھے تو کسی نے پوچھااے ابو الحسن، یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟آپ نے فرمایا کہ میں ان
لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتا ہوں جو کسی کی بدگوئی نہیں کرتے اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں۔یہ ایک چھوٹی سی جھلک ہے آپ کے اخلاق، تواضع اور روحانی کمالات کی۔حضرت علی علیہ السلام پہلے امام، رسول اللہ کے داماد، کاتب وحی، حضرت فاطمہؑ کے شریک حیات اور گیارہ ائمہ معصومین کے والد و جد امجد ہیں۔ تمام مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی اور شہادت مسجد کوفہ میں ہوئی۔ جب رسول اللہ نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا، تو سب سے پہلے حضرت علی علیہ السلام نے اسکی تائید کی۔ قرآن کریم کی کئی صریح آیات آپ کی عصمت و فضیلت کی تصدیق کرتی ہیں۔ مواخات مدینہ میں جب مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت قائم ہوا، تو رسول اللہ نے آپ کو اپنا بھائی قرار دیا۔حضرت علی علیہ السلام اسلام کے مایہ ناز سپہ سالار بھی تھے۔ آپ نے جنگ احد، بدر، خندق اور دیگر تمام غزوات میں حصہ لیا، سوائے جنگ تبوک کے، جس میں آپ رسول اللہ کے حکم سے مدینہ میں رہے۔ آپ کی شجاعت کا عالم یہ تھا کہ جنگ احد میں آپ کے نعرے لا فتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار بلند ہوتےاور فرشتے بھی آپ کی بہادری پر متاثر ہوتے۔آپ علوم و حکمت کے بے پناہ ماہر تھے۔ کلام، تفسیر، فقہ، اخلاق، سیاست اور یگر علوم کی تعلیم و تربیت آپ تک پہنچتی اور آپ سے مختلف مکاتب فکر کے علماء اپنے علم کا سلسلہ جوڑتے۔ آپ غیر معمولی جسمانی قوت کے مالک، بے حد بہادر، حلیم، بردبار، درگذر کرنے والے، مہربان، صاحب حسن سلوک اور صاحب ہیبت تھے۔ آپ چاپلوسوں کے ساتھ سختی سے پیش آتے اور عوام کو حکومت اور رعایا کے حقوق یاد دلاتے۔ آپ نے عدل و انصاف کے اصولوں پر ہمیشہ سختی سے عمل کیا۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ انسانیت میں کم ہی لوگ یہ سعادت پا سکے کہ ان کی ولادت مسجد میں ہو اور شہادت بھی خانہ خدا میں ہو ۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت سحر کے وقت سجدہ میں ہوئی۔ ۱۹ ؍ رمضان ۴۰ ہجری کی صبح، مسجد کوفہ میں نماز فجر کے دوران، عبدالرحمن بن ملجم نے آپ پر حملہ کیا۔

آپ شدید زخمی ہوئے اور ۲۱ ؍رمضان کو جام شہادت نوش کیا۔ آپ کے بیٹے امام حسن، امام حسین اور محمد بن حنفیہ نے اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر کی مدد سے رات کے وقت آپ کی تدفین نجف میں کی۔حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت صرف شجاعت یا علم کے اعتبار سے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، تقویٰ و زہد، عدل و انصاف اور قربانی کے اعتبار سے بھی سب سے ممتاز ہے۔ آپ کی ولادت کعبہ میں ہوئی اور شہادت مسجد کوفہ میں، یہ ایک عظیم روحانی اور تاریخی واقعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ کی محبت و معرفت کی تاریخ میں بعض اوقات افراط و تفریط بھی ہوا، لیکن یہ حقیقت سب کے لیے روشن ہے کہ آپ کی عظمت و فضیلت ناقابل قیاس ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان، علم، اخلاق، تقویٰ اور عدل کس طرح ایک شخصیت میں یکجا ہو سکتے ہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو عبادت ہو، حکومت ہو، جنگ ہو یا تعلیم انسانیت کے لیے مشعل ہدایت ہے۔حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ ایک انسان علم، شجاعت، اخلاق، اور عدل و انصاف کے امتزاج کے ساتھ کس طرح ایک مکمل نمونہ بن سکتا ہے۔ آپ کی شخصیت آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔لہٰذا، عالم بشریت کی سب سے ممتاز ہستیوں میں مرسل اعظم، نبی کریم کے بعد سب سے پہلا نام امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا آتا ہے۔ آپ کی شخصیت، کردار، علم و شجاعت اور عدل و انصاف کا امتزاج ہمیں آج بھی سکھا تا ہے کہ حقیقی انسانیت کس طرح کی ہوتی ہے۔
اس موقع پر علی زمن نیازی، علی فخری نیازی، علی حسنین نیازی ، سرور عظیم نیازی، حیدر علی نیازی، کریم نیازی، روحان نیازی، حافظ فرقان نیازی،عاطف نیازی، صفدر نیازی، جعفر نیازی سمیت بڑی تعداد میں عقیدت مندموجودتھے۔ مجلس کے بعد فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا اور لنگربھی تقسیم کیا گیا

