علمی، تعلیمی، رفاہی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر
لکھنؤ: ملک کی معروف سماجی، تعلیمی، رفاہی اور ملی شخصیت، مسیحِ ملت جناب ارشد صدیقیؒ کے انتقال کی خبر سے پورے ملک میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کا وصال ملتِ اسلامیہ ہند کے لیے ایک عظیم اور ناقابلِ تلافی خسارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف دینی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی شخصیات نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
آل انڈیا علماء بورڈ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ جناب ارشد صدیقیؒ ان نادر شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت، ملت کی فلاح و بہبود، تعلیم کے فروغ اور ضرورت مندوں کی امداد کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ ایک درد مند، مخلص اور دور اندیش قائد تھے جنہوں نے ہر مرحلے پر قوم و ملت کی رہنمائی کی۔
مرحوم کی رفاہی خدمات کا دائرہ نہ صرف ہندوستان بلکہ بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا تھا۔ ملک میں جب بھی سیلاب، زلزلہ، قدرتی آفات یا فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے، وہ متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے صفِ اول میں نظر آئے۔ عراق جنگ کے متاثرین تک ادویات پہنچانے اور میانمار کے مظلوم مسلمانوں کے لیے امدادی و پناہ گزین کیمپ قائم کرنے میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
تعلیم کے میدان میں بھی ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ ضلع ہردوئی کے شاہ آباد کے قریب قائم کردہ عظیم الشان تعلیمی کمپلیکس ان کی تعلیمی بصیرت، ملت نوازی اور دور اندیشی کا روشن ثبوت ہے۔ اس ادارے کے تحت جدید تعلیمی ادارے، دینی مراکز اور فعال دارالعلوم کام کر رہے ہیں، جہاں دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کا خواب تھا کہ یہ تعلیمی نیٹ ورک مستقبل میں ایک مکمل یونیورسٹی کی شکل اختیار کرے اور ملت کے نوجوانوں کے لیے علم و ہنر کا مضبوط مرکز بنے۔
مرحوم کی یاد میں آل انڈیا علماء بورڈ کے زیرِ اہتمام منعقدہ خصوصی تعزیتی اجلاس میں حضرت مولانا نوشاد احمد صدیقی، حضرت مولانا عبد القدوس شاکر حکیمی، حضرت علامہ بنئی حسنی، مولانا رستم عادل قاسمی، مولانا ثابت علی نقشبندی، محترم سلیم الوارے، مولانا انصار الحق قاسمی، مولانا ذاکر مظاہری اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی اور مرحوم کی ملی، تعلیمی اور رفاہی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر حضرت علامہ بنئی حسنی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“جناب ارشد صدیقیؒ کے ساتھ ہماری تقریباً پینتیس تا چھتیس سالہ رفاقت رہی۔ وہ ہر مرحلے پر ملت کے سچے خیر خواہ، درد مند اور مخلص معاون ثابت ہوئے۔ ان کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا ایک ایسا خلا پیدا کر گیا ہے جسے مدتوں پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔ آج قوم اپنے ایک عظیم تعلیمی، رفاہی اور سماجی محافظ سے محروم ہوگئی ہے۔”
مقررین نے کہا کہ جناب ارشد صدیقیؒ کی پوری زندگی خدمت، اخلاص، قربانی اور ملت نوازی کا روشن باب تھی۔ ان کی یادیں، خدمات اور کارنامے ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گے۔
اجلاس کے اختتام پر مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ ان کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام پسماندگان خصوصاً جناب شہباز صدیقی، جناب شکیل صدیقی، ڈاکٹر علیم صدیقی، فہد صدیقی، فیصل صدیقی، ثنا صدیقی اور دیگر اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
نورالدین احمد
آل انڈیا علماء بورڈ

